کینٹ کچہری کی ناقص سیکیورٹی ، سہولیات کا فقدان :وکلاءچیمبر ز نہ بارروم،سائل خوار

کینٹ کچہری کی ناقص سیکیورٹی ، سہولیات کا فقدان :وکلاءچیمبر ز نہ بارروم،سائل ...

لاہور (لیاقت کھرل) صوبائی دارالحکومت کی دوسری بڑی تحصیل عدالت کینٹ کچہری وکلاءکیلئے چیمبرز نہ بارروم اور نہ ہی سائلین کیلئے کوئی پناہ گاہ ، جہاں حفاظتی اقدام نام کی کوئی چیز نہیں۔ مین گیٹ تھروگیٹ بند، چیکنگ کے نام پر ڈیوٹی دینے والے اہلکار ڈومیسائل اور چالان چھوڑانے کے دھندے میں مصروف، کچہری میں کوئی خاص نظم و نسق جو کہ ایک بے ہنگم پن ہے اور صبح 7 بجے سے شام 4 بجے تک جاری رہتا ہے۔ سیکورٹی کے انتظامات انتہائی ناقص ہونے پر مشکوک افراد اور عام داخل ہو کر مخالفین کو نشانہ بنانے پر لگے ہوئے ہیں، جبکہ مال خانہ میں کروڑوں روپے کے قبضہ میں لیا جانے والے قیمتی سامان میں سے اکثریتی یا تو غائب یا پھر تبدیل ہو چکا ہے جبکہ جوڈیشل لاک اپ میں لڑائی جھگڑے عام کچہری میں نہ ٹھنڈا پانی نہ کوئی باتھ روم ، جبکہ ٹاﺅٹوں نے آنے والے سائلین کو سادہ لوح افراد کے دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا سلسلہ شروع کر رکھاہے ”پاکستان“ کی ٹیم نے اس سلسلہ میں کینٹ کچہری کا دورہ کیا تو کینٹ کچہری کے وکلائ، سائلین اور عدالتی اہلکار سیکورٹی کے انتہائی ناقص انتظامات ہونے پر پھٹ پڑے، اور بتایا کہ کینٹ کچہری جس کو ہر حکومت نے جوڈیشل کمپلیکس میں تبدیل کرنے کا وعدہ کیا اور سابق دور میں جوڈیشل کمپلیکس کیلئے باقاعدہ تعمیر بھی شروع کی گئی اور اس کے لئے ملنے والے فنڈز اور نہ ہی ہونے والی تعمیر کی اینٹوں کا پتہ چل سکا جس پر کینٹ کچہری بھیڑبکریوں کے باڑے میں تبدیل ہو چکی ہے اور وکلاءکے چیمبرز تک محفوظ نہیں ہیں۔ کینٹ کچہری کے وکلاءسینئر ایڈووکیٹ چودھری طارق جاوید، چودھری افتخار احمد اور کینٹ لائرز فورم کے صدر میاں محمد راشد کینٹ لائرز فورم کے سابق صدر رانا منظور احمد نے بتایا کہ سابق دور میں کینٹ کچہری کو جوڈیشل کمپلیکس میں تبدیل کرنے کیلئے باقاعدہ تعمیر شروع کی گئی، لیکن ساتھ ہی تعمیر کو روک دیا گیا اور اس میں جوڈیشل کمپلیکس کی تختیاں تو لگا دی گئیں، لیکن جوڈیشل کمپلیکس تعمیر نہ ہو سکا۔ اس موقع پر چودھری طارق جاوید نے بتایاکہ سیکورٹی کے ناقص انتظامات اور اقدامات نہ ہونے پر کینٹ کچہری میں گزشتہ چند سالوں میں قتل و غارت کے بے شمار واقعات پیش آ چکے ہیں۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ میاں سرفراز احمد اور الیاس حبیب چوہان چودھری نے بتایا کہ کینٹ کچہری میں ہر آنے والی حکومت نے سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے وعدہ کیا لیکن صورتحال یہ ہے کہ کچہری میں وکلاءکیلئے بارروم تک نہیں ہے اور ایک کمرہ میں بار روم کا دفتر بنایا گیا ہے۔ ایڈووکیٹ میاں طارق صدیق میاں سہیل آصف اور نصیر گجر سمیت رشید احمد بھٹی ایڈووکیٹ سمیت ملک محمد صدیق ایڈووکیٹ نے بتایا کینٹ کچہری میں صفائی کی صورتحال بھی ناقص ہے اور مشکوک افراد کسی وقت بھی اس کچہری میں پڑے ہوئے کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں کو استعمال کرکے اپنے ٹارگٹ میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1