بھارتی پائلٹ کی فوری واپسی نیازی نے جیتی جنگ ہار دی ،مولانا فضل الرحمن

بھارتی پائلٹ کی فوری واپسی نیازی نے جیتی جنگ ہار دی ،مولانا فضل الرحمن

ملتان ( سپیشل رپورٹر) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ آج جنرل پرویز مشرف کا ہی دور چل رہا ہے۔ اوپر جنرل پرویز مشرف بیٹھا ہوا ہے نیچے شوکت عزیز بیٹھا ہے۔ حکمران دیوالیہ پن کی طرف جا رہے ہیں‘ اقتصادی لحاظ سے ملک دیوالیہ پن کو چھو رہا ہے۔(بقیہ نمبر33صفحہ12پر )

عوام موجودہ حکومت سے تنگ آ گئے ہیں۔ وہ ملتان میں جامعہ قاسم العلوم گلگشت کالونی میں پریس کانفرنس کررہے تھے۔ اس موقع پر شیخ الحدیث مولانا محمد اکبر، ضلعی امیر حافظ شیخ عمر، سینئر رہنما مولانا حبیب اکبر اور دیگر مقامی ذمہ داران بھی موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمٰن کا مزید کہنا تھا کہ آج اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، پارلیمنٹ کے اندر اسرائیل کی حمایت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 100دن پورے ہونے پر فخریہ انداز میں کہا گیا کہ بجلی، گیس کی قیمت بڑھا دی، روپے کی قیمت گرا دی، یہ ہم نے خود کیا آئی ایم ایف کے کہنے پر نہیں کیا، اور 200دن پورے ہونے پر آئی ایم ایف کے پاس چلے گئے۔ یہ کام نواز شریف کرتے تو ہنگامہ ہو جاتا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے جیتی ہوئی جنگ ہار دی، پائلٹ کی فوری واپسی مناسب نہیں تھی، دشمن سے کچھ ضمانت لی جاتی، کچھ مطالبات پیش کئے جاتے مگر پہلے بھی جنرل نیازی نے سرنڈر کیا تھا آج بھی نیازی سرنڈر ہو گیا۔ یہ کام نواز شریف کرتاتو مودی کے یار اور غدار کے نعرے لگ جاتے، پائلٹ کی واپسی کا جواب بھی بھارت نے دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت شکست کھا چکا ہے، مودی اپنے سیاسی سکورنگ چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف سے زیادتی ہو رہی ہے، انہیں بنیادی حق بھی نہیں دیا جا رہا، سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام وطن عزیز کے دفاع کیلئے تیار ہے، اپوزیشن کا اتحاد ہونا چاہئے مگر ہماری تحریک کا انحصار اپوزیشن جماعتوں پر نہیں ہے، ہم اسلامی نظام، عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہم آئین سے ماورا کوئی بات نہیں کرتے، ناموس رسالت عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ آئین کا تقاضا ہے اس لئے ہم آئین کے اندر رہتے ہوئے جدوجہد کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ ہم نے8ملین مارچ کئے تاحد نظر انسان ہی انسان تھے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی مگر میڈیا دباؤ کا شکار ہے۔طالبان سے مذاکرات ٹھیک ہیں البتہ ہمارا کوئی کردار نہیں ہے۔ طالبان کا موقف تھا کہ امارات اسلامیہ کو امریکہ نے ختم کیا۔ اب وہ خود یہاں سے چلا جائے، امریکہ نے طالبان کے ساتھ ناروا سلوک کیا۔ ان کے قیدیوں کے ساتھ جینوا معاہدے کے تحت کوئی سہولت نہیں دی۔ قیدیوں پر تشدد کیا، انہیں برہنہ کرکے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا، اب انہیں لوگوں کے ساتھ مذاکرات پر تیار ہو گیا۔ میں طالبان کی استقامت کو سلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے طالبان کو مذاکرات کیلئے کھڑا ہونے پر مجبور کر دیا۔دریں اثناء مولانا فضل الرحمن نے جامعہ قاسم العلوم گلگشت کالونی اور جامعہ عمر بن خطاب ٹی چوک شاہ رکن عالم کالونی کی سالانہ تقریب ختم بخاری شریف سے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام دشمنوں کی سازشوں اور مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف امت مسلمہ بیدار اور متحد ہو کر کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی کامیابی صرف سیرت مبارکہ پر چلنے میں ہے۔ ہمیں کسی اور کی طرف نہیں دیکھنا، اسوۃ حسنہ سے رہنمائی لینا ہو گی۔ تقریبات میں فضلاء کرام کی دستار بندی کی گئی۔ جامعہ قاسم العلوم کی تقریب سے شیخ الحدیث مولانا محمد اکبر، جامعہ کے مہتمم مولانا اسعد محمود اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

فضل الرحمن

مزید : ملتان صفحہ آخر