عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 88

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 88
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 88

  

اس اجلاس کا ناظم (سٹیج سیکرٹری) ایک نوجوان بطریق تھا۔ جو قاسم کے دائیں پہلو میں ضروری کاغذات کا پلندہ اپنی جھولی میں رکھے اجلاس کی کارروائی دیکھ رہا تھا۔ پہلی مرتبہ اجلاس کے ناظم نے کھڑے ہو کر ایک عجیب اعلان کیا۔

’’معزز شرکائے مجلس! آج کے اس جلاس میں ہمارے درمیان خداوند یسوع مسیح کی جائے پیدائش ’’یروشلم‘‘ کے ایک مقدس بشپ بھی موجود ہیں۔ یہ گزشتہ شب تک شہنشاہ معظم کے مہمان تھے۔ میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ تعلیمات مسیح کی روشنی میں قسطنطنیہ کے نازک حالات پر دونوں کلیساؤں کے اتحاد سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار فرمائیں۔‘‘

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 87 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

یہ اعلان سن کر قاسم چونکا۔ اسے اس مہمان کے بارے میں کوئی علم نہ تھا۔ غالباً بطریق اعظم بھی ’’بیت المقدس‘‘ کے بشپ کی آمد سے بے خبر تھا۔ گو کہ ’’بیت المقدس‘‘ بھی سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا۔ لیکن وہاں کے پادریوں اور بشپوں کی ابھی تک پوری عیسائی دنیا میں بڑی عزت تھی۔ یہ شہنشاہ کی چال تھی۔ جو عین دوران اجلاس سامنے آئی تھی۔ بیت المقدس کے مقدس بشپ نے اٹھ کر دونوں کلیساؤں کے اتحاد پرایک پراثر تقریر کی۔ قریب تھا کہ بہت سے مخلص عیسائی راہب اس اتحاد پر آمادہ ہو جاتے۔۔۔کہ اسی اثناء میں ایک باوردی دربارن نے شہنشاہ کے قریب جاکر اس کے کان میں کچھ کہا۔ اور شہنشاہ نے اپنے چہرے سے کسی قدر حیرت کا اظہار کیا۔ شہنشاہ کچھ دیر تک دربان کی بات سنتا رہا۔ اور پھر آخر میں شہنشاہ نے کچھ ایسے انداز میں سر ہلایا جیسے کسی کام کی اجازت دے رہا ہو۔ اگلے لمحے شہنشاہ سے فارغ ہو کر آنے والے دربان نے مجلس کے ناظم کو جو قاسم کے نزدیک بیٹھا تھا، آکر کچھ ہدایات دیں۔ اگلے لمحے مجلس کے ناظم نے اپنی نشست پر کھڑے ہو کر دونوں کلیساؤں کے اجلاس کو تھوڑی دیر کے لئے برخاست کرنے کا اعلان کر دیا۔

قاسم کا ماتھا ٹھنکا۔ یہ برخستگی اچانک اور غیر متوقع تھی۔ قاسم سوچ میں ڈوب گیا۔ اعلان کے بعد شہنشاہ اپنی نشست سے اٹھا اور کچھ دیر کے لئے کہیں چلا گیا۔ جبکہ باقی شرکائے اجلاس میں سے چند لوگ جن میں شاہی خواتین بھی شامل تھیں۔ اٹھ کر چلے گئے۔ اور جو پیچھے بچ گئے وہ اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھے کھسر پھسر کرنے لگے۔

یہ کھسر پھسر تھوڑی ہی دیر بعد بحث میں تبدیلی ہوگئی اور دونوں کلیساؤں کے پادری باآواز بلند ایک دوسرے سے تکرار کرنے لگے۔ قسطنطنیہ کے ایک عام سے پادری نے اپنی کرسی پر کھڑے ہو کر کہا۔

’’یہ جو تم لوگ ہو۔۔۔تم شراب کے ساتھ فطیری روٹی استعمال کرتے ہو۔ یہ کون سی کتاب میں لکھا ہے؟ ہم شراب کے ساتھ فطیری روٹی کھانے والے کو حرام خور اور دین عیسوی سے خارج سمجھتے ہیں۔ ہم شراب کے ساتھ خمیری روٹی کھانے کے قائل ہیں جو خمیری روٹی نہیں کھاتا اور فطری روٹی کھاتا ہے ہما س کے کھانے کو حرام سمجھتے ہیں۔ تم نے بدعتیں ایجاد کی ہیں۔ تم حرام کار ہو، حرام خور ہو اور دین عیسوی سے خارج ہو۔ کافر ہو۔‘‘

اسی دوران ’’آیا صوفیاء‘‘ کاایک منچلا پادری اٹھا اور بولا ’’شرم کرو شرم !۔۔۔اگر خمیری روٹی سے نفرت کرتے ہو تو خمیری شراب کیوں پیتے ہو۔ تم تو ہو ہی کافر۔‘‘

تاریخ کے اوراق نے ’’روٹیوں کے اس اختلاف‘‘ کو اپنے نمایاں صفحوں میں جگہ دی۔ ’’آیا صوفیاء‘‘ کی عمارت پادریوں کی چیخ و پکار سے گونجنے لگی۔ہال میں جس قدر راہبائیں بیٹھی تھیں۔ ان میں سے کچھ اس لڑائی کو دلچسپی سے دیکھ رہی تھیں اور کچھ نے پادریوں کے روئیے پرمنہ بسور رکھے تھے۔ ہال میں اس وقت کارڈنیل اور بطریق اعظم بھی موجود نہ تھے۔ نوٹارس اور بعض دیگر اہم لوگ بھی ہال سے اٹھ گئے تھے۔ جاتے وقت بطریق اعظم نے قاسم کو بھی اپنے ہمراہ بلالیا تھا۔ قاسم جس وقت آدھے گھنٹے بعد بطریق سے فارغ ہو کر دوبارہ ہال میں داخل ہوا تو اس نے ایک عجیب سماں دیکھا۔ ہال میں دونوں طرف کے پادری ایک دوسرے کو خوب برا بھلا کہہ رہے تھے۔ دو سو کے قریب پادریوں نے مل کر ’’آیا صوفیاء‘‘ میں دھینگا مشتی کاسا سماں پیدا کر رکھا تھا۔ قاسم پادریوں کی حالت دیکھ کر زیب لب مسکرا دیا۔ کچھ ہی دیر بعد اجلاس دوبارہ شروع ہونے والا تھا۔ قاسم آکر اپنی نشست پر بیٹھا اور ہنگامے کا منظر دیکھنے لگا لیکن ہنگامہ اس وقت اچانک ختم ہوگیا جب چوبدار نے باآواز بلند شہشناہ معظم کے آنے کا اعلان کیا۔ پادری پھرتی کے ساتھ اپنی اپنی نشتوں پر آکر بیٹھ گئے۔

کچھ دیر بعد شہنشاہ قسطنطین ہال میں داخل ہوا۔ وہ اپنی نشست سے پہنچا لیکن بیٹھنے کی بجائے کھڑا رہا۔ وہ سخت غصے میں دکھائی دے رہا تھا۔ اور پھر قسطنطنین آتش ناک لہجے میں بولا۔ ’’بدبخت قسم میں تم لوگوں کی تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ دشمن سر پر آپہنچا ہے اور تم ابھی تک فطیری اور خمیری روٹیوں پرجھگر رہے ہو۔۔۔ایک بات جو میں تم لوگوں کونہیں بتانا چاہتا تھا۔ اب بتانے لگا ہوں۔

اے تفرقہ باز مذہبی پیشواؤ! غور سے سنو! میں نے گزشتہ شب ایک بھیانک خواب دیکھا ہے۔ میں نے ایک بہت بڑی دیوار پر ہزاروں کوے شور مچاتے ہوئے دیکھے ہیں۔ جو کائیں کائیں کرتے ہوئے آسمان سر پراٹھائے ہوئے ہیں۔ پھر میں دیکھتا ہوں کہ مغرب کی طرف سے گدھوں کاایک بہت بڑا غول اڑتا ہوا آتا ہے اور اسی دیوار پر آکر بیٹھ جاتا ہے۔ پھر میں دیکھتا ہوں کہ کوے اور گدھ آپس میں لڑ رہے ہیں کہ اسی اثناء میں وہ دیوار ہلنے لگتی ہے۔

اور پھر میں دیکھتا ہوں کہ آسمان کی جانب سے بہت سے شاہین دیوار پر بیٹھے پرندوں کی طرف لپیتے ہیں اور پلک جھپکتے میں انہیں کھا جاتے ہیں۔

پھر میں دریا میں ایک کشتی دیکھتا ہوں جس میں چھید ہو چکا ہے اور بہت سا پانی اس کشتی میں بھر رہا ہے۔

اور آخر میں ایک بدصورت دیو کودیکھتا ہوں جس کی آنکھیں سرخ انگاروں کی مانند دہک رہی ہیں۔ یہ دیو مجھے اپنے دامن میں چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن میں چھپنے کی بجائے اپنی شمشیر نکال کر اس دیو کا سر قلم کر دیتا ہوں۔۔۔

میں نے یہ خواب دیکھا۔ لیکن کسی کو نہ سنایا۔ اے بد بخت مذہبی پیشواؤ! میں نہیں جانتا کہ اس خواب کی تعبیر کیا ہے۔ لیکن میں اتنا ضرور جانتاہوں کہ اس خواب کی تعبیر قسطنطنیہ کے حق میں اچھی نہیں۔ میں تمہیں آخری بار نصیحت کرتا ہوں کہ تم لوگ متحد ہوجاؤ۔ ورنہ مسلمان تمہارا نام و نشان مٹا دیں گے۔‘‘

قسطنطین کی تقریر جوشیلی اور زوردار تھی۔ تمام حاضرین پر سناٹا چھا گیا۔ پھر کچھ دیر بعد ’’آیا صوفیاء‘‘ کی ایک بوڑھی راہبہ نے اٹھ کر بات کرنے کی اجازت چاہی اور پھر کہنے لگی۔ ’’شہنشاہ معظم! اس خواب کو نظر انداز کر دینا دانشمندی نہیں۔ سب سے پہلے اس خواب کی صحیح صحیح تعبیر حاصل کی جائے تاکہ اس کی روشنی میں قسطنطنیہ کے لئے آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔‘‘

بوڑھا فادر بروس بھی راہبہ کی ہاں میں ہاں ملانے کے لیے اٹھا۔ اور بھی کئی لوگوں نے شہنشاہ کو یہ مشورہ دیا کہ پہلے اس اہم خواب کی تعبیر کسی سے پوچھی جائے۔ شہنشاہ نے لوگوں کے کہنے پر بطریق اعظم اور کارڈنیل کو تعبیر بتانے کے لیے کہا۔ لیکن وہ دونوں بغلیں جھانکنے لگے۔ اسی اثناء میں ایک نوجوان راہبہ نے بات کرنے کی اجازت چاہی اور عرض کی۔

’’شہنشاہ معظم! خوابوں کی تعبیر بتانے کے سلسلے میں ’’آیا صوفیاء‘‘ میں صرف ایک ہستی ہی معتبر ہے۔ اور وہ ہے عبادت گزار سسٹر میری ۔۔۔بہتر ہوگا کہ سسٹر میری کو اجلاس میں بلوا لیا جائے اور اس خواب کی تعبیر دریافت کی جائے۔‘‘

شہنشاہ کے حکم سے بطریق اعظم نے سسٹر میری کو فی الفور حاضر ہونے کا پیغام بھیج دیا۔ قاسم کے دل کی دھڑکن سسٹر میری یعنی مارسی کا ذکر سنتے ہی بے ترتیب ہو چکی تھی اور پھر جب اس نے سنا کہ سسٹر میری اجلاس میں شریک ہونے والی ہے اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ وہ بچوں کی طرح جذباتی ہو رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں جدائی کی کسک تھی اور سات سال سے دیدار محبوب کی تشنگی تھی۔ اس کی بے تاب آنکھیں قطرۂ سیماب کی طرح اس دروازے کی طرف اٹھنے لگیں جہاں سے مارسی داخل ہونے والی تھی۔ چرچ کے ہال میں موجود ہر شخص تجسس کے مارے اسی جانب دیکھ رہا تھا۔ شہنشاہ کو بھی بے تابی کے ساتھ اپنے خواب کی تعبیر کا انتظار تھا۔ اور پھر وہ لمحہ بھی آگیا جب مارسی ہال میں داخل ہوئی ۔ قاسم کی نظر اس سفید پری پر پڑی تو وہ اپنی جگہ پتھر کا ہوگیا۔

مارسی قدم قدم چلتی ہوئی راہباؤں کی نشتوں کی جانب بڑھی۔ پہلی قطار میں ہی اس کے لیے ایک کرسی خالی کر دی گئی۔ وہ اپنی نشست پر پہنچ کر ایک مرتبہ شہنشاہ اور پھر ایک مرتبہ حاضرین مجلس کے سامنے احتراماً ذرا سا جھکی۔۔۔اور بیٹھ گئی۔

شہنشاہ نے مارسی کو مخاطب کیا۔ ’’سسٹر میری! کیا آپ کو دونوں کلیساؤ کی مشترکہ مجلس میں شمولیت کی دعوت نہیں دی گئی؟ آپ ’’آیا صوفیاء‘‘ کی ایک پرانی راہبہ ہیں آپ کو آج ہماری مجلس سے غیر حاضر نہیں رہنا چاہئے تھا۔‘‘

قسطنطین کے سوال پر مارسی نے اطمینان کے ساتھ جواب دیا۔’’شہنشاہ معظم! یہ اختلافی نوعیت کی مجلسیں نمٹانے کے لیے ہمارے بشپ اور بطریق ہی کافی ہیں۔ میں یسوع کی ایک معمولی خادمہ ہوں۔ اور کلیساؤں کے اختلافی مسائل سے اجتناب کرتی ہوں۔ لیکن پھر بھی میں اپنی غیر حاضری پر معذرت خواہ ہوں۔‘‘

اپنی بات کے دوران مارسی کی نظر قاسم پر پڑی گئی اور اس کے دل کی حالت غیر ہوتی جا رہی تھی۔ قاسم نے بھی مارسی کے چہرے پر نظریں مرکوز کر رکھی تھیں۔ دونوں کی نگاہیں آپس میں ٹکرائیں تو دونوں کے وجود میں ہزارہا بجلیاں کڑکنے لگیں۔ سات سال کی جدائی نے مارسی کو نیم جان کر رکھا تھا۔ اس کی نگاہوں نے قاسم کا وجیہہ چہرہ دیکھا تو جیسے مارسی کے شکستہ وجود میں جان سی پڑ گئی۔ کچھ دیر کے لئے تو مارسی کو یہ بھول ہی گیا کہ وہ کہاں کھڑی ہے اور کیا کہہ رہی ہے۔ اس کی نگاہوں کے سامنے یکے بعد دیگرے ماضی کے اوراق کھلنے لگے۔ اور وہ فی الحقیقت ایک بار پھر ہال سے غیر حاضر ہوگئی۔ اسے ’’ادرنہ‘‘ کی یاد آئی جہاں کے گلی کوچوں میں اس کا بچپن گزرا تھا۔ اس قصر سلطانی کی ایک ایک راہداری یاد آنے لگی ۔ ملکہ سروین کا محبت بھرا چہرہ، شہزادہ محمد کا پرتکلف مزاح، سلطان مراد خان کی پدرانہ شفقت۔۔۔اسے اپنی ماں مارتھا بھی یاد آئی۔ اور پھر اسے وہ یادگار دن کیسے بھول سکتا تھا جس روز بھرے سٹیڈیم میں قاسم بن ہشام کو اس نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ آج پھر قاسم اس کے سامنے تھا۔۔۔ایک بھرے ہال میں لیکن آج نوعیت کچھ اور تھی۔ آج قاسم خطرے کی زد میں تھا۔ جب سے وہ یہاں آیا تھا مارسی کی جان سولی پر لٹکی ہوئی تھی۔ نہ جانے کس وقت وہ پکڑا جائے۔ وہ تیسرے روز سے ایک ایک لمحہ اسی ذہنی دباؤ میں گزار رہی تھی کہ اس کا قاسم اس کے اتنے قریب ہو کر بھی اس سے دور تھا۔ اس نے شہنشاہ کی بات کا جواب تو دیا لیکن وہ اس کے بعد اپنے حواس میں نہ رہی۔ اس کی نظر قاسم پر پڑ چکی تھی۔ پھر نہ جانے کیوں اس کے سینے میں درد کا ایک شرارہ سا پھوٹا اور شفاد زمرد کے دو قطرے مارسی کی حسین آنکھوں سے جھانکنے لگے۔اس سے پہلے کہ مارسی کے آنسو نکلتے، شہنشاہ کی آواز سنائی دی۔

’’ہم آپ کی معذرت قبول کرتے ہیں۔ اور چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں ہمارے خواب کی تعبیر بتائیں۔‘‘

اس کے بعد شہنشاہ نے اپنا خواب سنایا۔ جسے سن کر مارسی کچھ دیر کے لیے سکتے کے عالم میں کھڑی رہی۔ تمام لوگوں کی توجہ ’’آیا صوفیاء‘‘ کی پرانی راہبہ عبادت گزار سسٹر میری کی جانب مبذول تھی۔ کسے معلوم کہ مارسی کی موٹی موٹی آنکھوں سے ٹپکنے والے دو قطرے اچانک کہاں سے آگئے تھے۔ ہال کا ہر شخص مارسی کے آنسو دیکھ کر دم بخود رہ گیا تھا۔ خود شہنشاہ بھی اس خیال سے چونک اٹھا کہ خواب کی تعبیر یقیناًدرد ناک ہے۔ اسی لئے سسٹر میری رو رہی ہے۔ لیکن صرف قاسم جانتا تھا کہ مارسی کی آنکھوں سے چرچ کے شفاف فرش پر ٹپکنے والے دونوں آنسو کس قدر قیمتی تھے۔ وہ ان دو آنسوؤں کے لئے قسطنطنیہ جیسے کئی شہر فتح کر سکتا تھا۔ یہ بچھڑے ہوئے محبوب کے آنسو تھے جن سے فردوس کے فرشتے غسل کیا کرتے تھے اورپھر ۔۔۔قاسم کی آنکھوں میں چمکنے والی ننھی بوندیں کسی کو نہ دکھائی دیں۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح