پاکستانی سیاسی تھیٹر کی ایک نئی پیش کش

پاکستانی سیاسی تھیٹر کی ایک نئی پیش کش
پاکستانی سیاسی تھیٹر کی ایک نئی پیش کش

  

ڈاکٹر طاہر القادری کا لانگ مارچ کامیا ب ہو یا ناکام ، اس نے پژ مردگی دور کرتے ہوئے ایک پُرلطف تحریک تو پیدا کر دی ہے اوراب صورت ِ حال یہ ہے کہ وفادار چاہے، آصف علی زرداری کے ہوں یا پنجاب کے جوان ہوں ، اُن کو الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے سراسیمگی کے عالم میں بھاگ دوڑ کرتے دیکھنا کوئی معمولی تفریح نہیں ہے۔ ان کی پریشانی کی داد دینے کو دل چاہتا ہے، کیونکہ اُن کو اس فکر نے ہلکان کیا ہوا ہے کہ آخر ڈاکٹر طاہر القادری کے پیچھے کون ہے اور کس نے ان کو کینیڈا کے آسمانوںسے اس دھرتی پر ناگہانی نزول کے لئے کمر بستہ کیا ہے؟.... کیا وہ نادیدہ ہاتھ ہمارے دفاعی اداروں کا ہے ،یا اس کارگزاری کے پیچھے سی آئی اے یا ایم I6، یا کوئی اور عالمی تنظیم ہے؟کتنی پریشانیوںنے بے چاروں کو گھیرا ہوا ہے!

اب ہو سکتا ہے کہ مارچ کا انجام کار کچھ بھی نہ ہو اگرچہ ہمیں پہلے سے ہی کوئی نتیجہ اخذ نہیں کر لینا چاہیے ایک بات طے ہے کہ اس نے پاکستانی سیاست کے گدلے پانی میں کچھ ارتعاش پیدا کر دیا ہے اور اس خدمت پر پاکستانی قوم ڈاکٹر طاہر القادری کی شکرگزار ہے۔ جہاں تک جمہوریت کے با رے میں خدشات کا تعلق ہے تو خاطر جمع رکھیں، یہ لانگ مارچوں کی سہار رکھتی ہے، اس لئے اسے اس لانگ مارچ سے کوئی خطرہ نہیںہو گا۔ ہاں اس نے پاکستان کی سیاسی قیادت کو جاگ اٹھنے پر مجبور کر دیا ہے ، اس لئے اسے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ پنجاب کے بلے باز ابھی عمران خان کے باﺅنسروں ، جو گیند پرانا ہونے کے باعث غیر موثر ہو چکے ہیں، سے سنبھلے ہی تھے کہ گیند ایک ایسے کھلاڑی کے ہاتھ آگئی جس سے اس طرح کی گیند بازی کی توقع نہیں تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ ”ذرا نم ہو تو“.... بہرحال پنجاب کے حکمران اسے ایک ذاتی حوالے سے بھی لے رہے ہیں،کیونکہ پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری کبھی لاہور کے علاقے ماڈل ٹاﺅن میں واقع اتفاق مسجد میں جمعہ پڑھایا کرتے تھے بعد کے واقعات کا سب کوعلم ہے۔ اب مسلم لیگ (ن) کے قائدین ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد کو اپنے اُوپر حملہ تصور کر رہے ہیں ۔ اُن کا خیال ہے کہ طاہر القادری کو ا س لئے ”کسی “ نے بھیجا ہے کہ پنجاب میں پی ایم ایل (ن) کی مقبولیت کے قلعے میں دراڑیں ڈالتے ہوئے اسے تیسری مرتبہ حکومت سازی سے روکا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ترجمان بری طرح بروفروختہ نظر آتے ہیں۔

اگر تھوڑی دیر کے لئے معقولیت کا دامن تھام لیا جائے تو یہ لانگ مارچ ، یا کوئی بھی، جمہوریت کے لئے خطرات پیدا نہیںکرتے۔ کیا امریکہ اور برطانیہ میں منتخب حکومتیں نہیں ہیں اور کیا ان کے خلاف لانگ مارچ نہیںہوتے؟کیا عراق جنگ کے خلاف لاکھوں افراد نے ان ممالک میں لانگ مارچ نہیں کئے تھے ؟برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے اس جنگ کے بارے میں اپنے عوام سے جھوٹ بولا۔ امریکی افسران نے دروغ گوئی سے کام لیا اور سابقہ امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ کولن پاﺅل نے یواین سیکیورٹی کونسل کو گمراہ کیا اس پر کولن پاﺅل نے بعد میں تاسف کا اظہار بھی کیا تھا۔ بے شک اُس وقت امریکی اور برطانوی میڈیا نے کوئی جان نہیں دکھائی اور حکومتی موقف کو حرف بحرف تسلیم کر لیا، لیکن اس جنگ کے خلاف کچھ آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ اُس وقت کی امریکی اور برطانوی قیادت پر طنز او ر تنقید کے نشترچلائے گئے ، لاکھوں افراد نے سڑکوں پر مارچ کیا، لیکن کسی نے اس طرز ِ عمل کو جمہوریت پر حملہ قرار نہیںدیا۔کسی نے نہیںکہا کہ ان افراد کا ”کالعدم کے بی جی“ سے تعلق ہے اور یہ جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنا چاہتے ہیں۔ یہ بحث چلتی رہی اور جارج بش دوسری مدت کے لئے بھی صدر منتخب ہو گئے۔

اب قادری صاحب کیا کہتے ہیں؟ یہی کہ وہ نظام میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں ملک کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے علاوہ ہر کسی کو کوئی بھی بات کرنے کا حق حاصل ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس مجوزہ لانگ مارچ سے تبدیلی آئے گی یا نہیں؟میرا ذاتی خیال ہے کہ صرف عوام کے سڑکوں پر نکلنے سے ایسا نہیں ہوگا جب تک دفاعی ادارے کوئی مداخلت نہیںکرتے۔ اس میںکوئی شک نہیں کہ اسلام آباد کے سب سے متحرک شعبے، سازشی تھیوریاں تیار کرنے والی صنعت ، کافی عرصے سے اس بات کا عندیہ دے تھے کہ مقتدر طاقتیں کچھ ”مدت “ کے لئے ایک ایسی نگران حکومت قائم کرنا چاہتی ہیں جو ان کی منشا کے مطابق ہو ، لیکن پاکستان کے داخلی اور علاقائی حالات اس قسم کے تجربے کے لئے موزوں نہیںہیں۔ اگر، جیسا کہ ماضی کے تجربات گواہ ہیں، دفاعی ادارے فراغت میںہوں تو پھر منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے کچھ کر سکتے ہیں، لیکن اس وقت تو ہماری فوج مغربی سرحد پر نہایت مشکل جنگ میں مصروف ہے، چنانچہ اس کی طرف سے کسی مداخلت کا سوال ہی پیدا نہیںہوتا۔

بلاشبہ دفاعی ادارے چاہتے ہیں کہ ملک بدعنوان اور نااہل حکمرانوں کے چنگل سے آزاد ہواور فوج کے نچلی سطح کے افسران بھی ملک کے لئے اتنے ہی اداس رہتے ہیں، جتنے عام شہری ، اس لئے بعض اوقات ان کو غصہ بھی آجاتا ہو گاکہ وہ جنگ میں قربانیاںدے رہے ہیں، لیکن سیاسی قیادت بڑے اطمینان سے حکومت کے مزے لوٹ رہی ہے۔ طالبان کے خلا ف جنگ میں کسی قومی سطح کے رہنما نے اگلے مورچوں پر لڑنے والے جوانوں کے پاس جا کر اظہار ِ یک جہتی نہیں کیا ہے....(کسی مہذب ملک میںیہ غفلت قومی جرم کے زمرے میں آتی ہے).... اس طرح فوج میں کچھ اضطراب پایا جاتا ہوگا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں لینا چاہیے کہ وہ ڈاکٹر طاہر القادری کے مارچ کی آڑ میں اقتدار پر قابض ہونا چاہتی ہے۔

 چنانچہ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی پنڈت کس بات سے خائف ہیں؟ہو سکتا ہے کہ اُنہیںکسی ایسی بات کا علم ہو چکا ہو جس سے ہم عوام بے خبر ہیں۔ ایسی صورت میں ، جب کوئی گھمبیر مسئلہ درپیش ہے تو اُنہیںقوم کو اعتماد میں لینا چاہیے ، یا پھر ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی نااہلیوں کی وجہ سے اتنے گھبراگئے ہوںکہ مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ہی ڈر گئے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے خلاف اُنہوںنے سب سے پہلے جس ہتھیار کا استعمال کیا، وہ طنز تھا۔ اُن کو شرمندہ کرنے کے لئے اُن کا ماضی یاد دلا گیا کہ کس طرح اُن کا طرز ِ عمل تضادات کا مجموعہ رہا ہے۔یہ بھی کہا گیا کہ جو بلبلے وہ چھوڑ رہے ہیں، وہ حقائق کی ہوا کے ایک جھونکے سے پھٹ جائیںگے۔سچی بات یہ ہے کہ یہ حملہ اتنا شدید تھا کہ ایک لمحے کے لئے پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری پچھلے قدموں پر جاتے ہوئے محسوس ہوئے ، تاہم جلد ہی اُنہوںنے اپنے آپ کو سنبھالا اور لانگ مارچ کی تیار ی شروع کر دی۔ اب وہ لوگ جو سمجھ بیٹھے ہیں کہ اس قوم کا مستقبل صرف انہی کے ہاتھ میںہے، بوکھلاہٹ کا شکار نظر آتے ہیں۔ ان کی بوکھلاہٹ کی اس امر سے غمازی ہوتی ہے کہ ابھی تک اُ ن کو ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد اور لانگ مارچ کا مقصد سمجھ میں نہیںآیا، چنانچہ وہ رات دن سراپا احتجاج ہیں۔

میرا خیا ل ہے کہ اگر دل پسند مفروضات ، جن کے تحت سی آئی اے اور ایمI6 اور دیگر عالمی تنظیمیں یہاں سرگرم ِ عمل نظر آتی ہیں، کو نظر انداز کر دیا جائے توحقائق کا چہرہ اتنا پُرکشش نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پاکستانی عوام کو انہی بے کیف، کم نگاہ اور مفاد پرست روایتی سیاسی جماعتوں میںسے ہی کسی کا انتخاب کرنا پڑے ۔ جب عمران خان میدان میں آئے تو نوجوانوںنے ان کو اس باسی نظام میں ہوا کے ایک خوشگوار جھونکے کی طرح پایا، لیکن یہ ابال جھاگ کی طرح بہت جلد بیٹھ گیا۔ اب پاکستانی سیاست میں ایک اورشخصیت نے دھماکہ خیز انداز میں قدم رکھا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اب ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد بھی ہمارے ”سیاسی عمرانی “ پیرائے میں ڈھل جائے ، لیکن یہ بات تو ماننا پڑے گی کہ انہوں نے ایک ہل چل مچا دی ہے۔ حکیم الامت علامہ اقبالؒ اپنی نظم ”چاند اور تارے“ میں کہتے ہیں”پوشیدہ قرار میں اجل ہے “ اور ان کا خلاصہ ِ کلام یہی ہے کہ حیات ذوق ِ سفر کا ہی نام ہے، چنانچہ جو کوئی بھی قوم کو آمادہِ سفر کرتا ہے ، اُس کی حوصلہ شکنی نہیں کرنی چاہیے۔

پروفیسر صاحب کے 23 دسمبر کے جلسے میں مجھے جو بات سب سے اچھی لگی، وہ یہ تھی کہ جب شاہی قلعے کے نزدیک مسجد سے عصر کی اذان کی آواز آئی تو اُس وقت وہ خطاب کر رہے تھے۔ توقف کئے بغیر اُنہوںنے کہا ” مَیں نماز ادا کرکے یہاں آیا ہوں، آپ بھی نماز ادا کر چکے ہوںگے، اس لئے بات جاری رہے گی، کیونکہ شریعت میں اس بات کی اجازت ہے“ مَیں اُس شخص ، جو عوام کے سامنے یہ بات کرنے کی جرات کرسکتا ہے، کی قدر کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اگرچہ ڈاکٹر طاہر القادری ایک مولوی ہیں،لیکن اُن کی دین کی تشریح ہمارے روایتی مولویوںسے قدرے مختلف ہے۔ میرا خیا ل ہے کہ ہمیں اس طرح کے مزید افراد کی ضرورت ہے۔ یہ بات نوٹ کی جاسکتی ہے کہ اُ ن پر سب سے سخت تنقید مولانا فضل الرحمان کی طرف سے کی گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد اپنے سخت نظریات کے لئے خطرہ محسوس ہوئی۔ ان پر تنقید کرنے والوں میںسے زیادہ تر کا تعلق پرویزمشرف، یا اس سے پہلے کسی فوجی آمریت کے، دور سے ہے۔ چنانچہ ان پر جمہور یت دشمنی کا الزام لگانے والوں کو اپنے ماضی پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔ آج پاکستانی جمہوری نظام میں سرگرم کھلاڑیوں میںسے کس کا دامن صاف ہے؟اس بات میںدو آراءنہیںہیںکہ انتخابات کو التوا کا شکار نہیںہونا چاہیے اور نہ ہی اس نظام، چاہے پرانے روایتی حکمرانوں نے ہی دوبارہ اقتدار میں آجانا ہو، کو لپیٹنے کی اجاز ت نہیں دی جانی چاہیے، لیکن ایک مارچ کو جمہوریت کا دشمن کیوں قرار دیا جارہا ہے؟اگلے انتخابات میں کم و بیش انہی سیاست دانوں نے واپس آنا ہے، چنانچہ خاطر جمع رکھیں اور کچھ ہلا گلہ ہونے دیں۔

حرف ِ آخر : گزشتہ ایک دو روز سے موسم صاف ہو گیا ہے اور سردی کی شدت ختم ہو گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بہار کی آمد آمد ہے کیا آسمانی طاقتیں بھی قادری صاحب کی معاونت پر آمادہ ہیں؟

مصنف، معروف کالم نگار اور سیاسی تجزیہ کار ہیں۔

(نوٹ) اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں ری پروڈکشن کی اجازت نہیں ہے۔

مزید : کالم