” میرا کزن اور اس کی بیوی پشاور میں ہمارے ساتھ رہتے تھے ، اس کی بیوی پر جِن آ گئے اور اس سے کہنے لگے ۔۔۔“ شہری نے ایسا واقعہ سنا دیا کہ سب حیران پریشان رہ گئے 

” میرا کزن اور اس کی بیوی پشاور میں ہمارے ساتھ رہتے تھے ، اس کی بیوی پر جِن آ ...
” میرا کزن اور اس کی بیوی پشاور میں ہمارے ساتھ رہتے تھے ، اس کی بیوی پر جِن آ گئے اور اس سے کہنے لگے ۔۔۔“ شہری نے ایسا واقعہ سنا دیا کہ سب حیران پریشان رہ گئے 

  

پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن )فیس بک کے نجی گروپ ”دی جن سوسائٹی “ میں صارف خان احمد نے اپنی کزن کی حیران کن کہانی شیئر کی ہے جس میں اس نے بتایا کہ پشاور حیات آباد کے ہمارے گھر میں میرا کزن اور اس کی اہلیہ اوپر والے حصے میں رہائش پذیر ہیں ، ان کا تعلق افغانستان سے ہے ، ان کی اہلیہ زیادہ تر وقت کمرے میں اکیلی ہی رہتی تھی ،ان پر کچھ جِنوں کا سایہ ہو گیا ،جِنوں نے اپنی موجودگی کا احساس پہلی مرتبہ اس وقت دلایاجب وہ افغانستا ن اپنے گھر گئیں ،وہ جِن چاہتے تھے کہ خاتون حیات آباد میں واقع گھر واپس جائے کیونکہ وہاں پر جِنوں کے باقی اہل خانہ رہتے تھے ، اگر میرے کزن کی فیملی ان جنوں کی بات نہیں مانتے تو وہ بہت تنگ کرتے تھے۔میں یہاں اس لڑکی کو ایک فرضی نام ناہیدہ دے دیتاہوں ۔ 

جب ناہیدہ اور اس کا شوہر واپس ہمارے گھر آئے تو کچھ دنوں بعد ہم سب لیونگ روم میں اکھٹے ہوئے ، ناہیدہ نے جمائی لیتے ہوئے اسلام علیکم کہا ۔یہاں میں یہ بتاتا چلوں کہ یہ کہانی ڈراﺅنی نہیں ہے کیونکہ وہ تمام جن مسلمان تھے اور ایک ہی فیملی کے تھے ،ان کے والدین کی موت ہو چکی تھی اور وہ چھ سے سات بہن بھائی تھے ، انہوں نے ہمیں اپنے نام بھی بتائے جو کہ مسلمانوں سے ملتے جلتے تھے ، جن جب بھی ناہیدہ میں ظاہر ہوتے تو وہ سب سے پہلی جمائی لیتی تھی ، جیسا کہ وہ جیسے سونے کیلئے جارہی ہو ، کچھ لمحوں کے بعد وہ سلام کریں، یہ عمل ناہیدہ کا نہیں ہوتا تھا بلکہ جنوں کا ہوتا تھا ، اس کا لہجہ مکمل طور پر تبدیل ہو جاتاتھا اوروہ قدیم پشتو زبان میں گفتگو کرتی جو سمجھنا ہمارے لیے بھی بہت مشکل تھا۔

ان جِنوں نے ہمیں کہا کہ ہم کبھی بھی ناہیدہ کو یہ نہ بتائیں کہ اس کے جسم پرجِنوں کا قبضہ ہے ، جس وقت جِن ناہیدہ پر حاوی نہیں ہوتی تھے تو وہ بالکل معمول پر ہوتی تھی ،ناہیدہ کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ اس کے جسم پر جِنوں کا قبضہ ہے ، وہ جِن ناہیدہ کا دماغ بھی کنٹرول کرتے تھے ، مثال کے طور پر اگر بچے اس بتاتے یا پھر جِنوں کے بارے میں اس کا مذاق بناتے تو وہ بھی اسے یاد نہیں رہتا تھا ۔

ہمارے گھر میں وہ جِن جب ناہیدہ پر حاوی ہوتے تو ہم بہت مزاحیہ بات چیت بھی کرتے ، یہاں تک کہ انہوں نے ہمیں مضحکہ خیز نام بھی دیئے ہوئے تھے سوائے میری والدہ کے ، جِن میری والدہ کو ” مورکے“ کہتے تھے یعنی والدہ، مجھے وہ ” اوگڈ“ کہتے تھے یعنی اونچا لمبا، ہم جب بھی ان سے روزی روٹی کے بارے میں پوچھتے یعنی وہ کیا کھاتے ہیں اور کہاں سوتے ہیں تو وہ ہمیں ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ ہمارے بڑوں کی جانب سے ہمیں یہ بتانے کی اجازت نہیں ہے ، وہ سو فیصد اچھے نہیں ہیں، وہ ناہیدہ کو کچھ نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں ۔

اگر ناہیدہ کے گھر والے ان کی باتوں کو نہیں مانتے تھے تو ناہیدہ پورا دن بے ہوش رہتی تھی ، اگر بیہوش نہیں تو وہ چل نہیں پاتی تھی ، وہاں پر ایک سب سے چھوٹا جِن بھی تھا جو کہ گونگا اور بہرا تھا ،تو ناہیدہ پر اسے چھوڑ دیا جاتا تھا جس کے باعث ناہیدہ عجیب و غریب آواز میں چلاتی اور روہتی رہتی تھی ۔ 

فیس بک صارف کا کہناتھا کہ ناہیدہ کے ساتھ اور بھی بہت سے واقعات ہوئے تاہم میں سب کچھ نہیں بتا سکتا کیونکہ کہانی بہت لمبی ہو چکی ہے ، میں نے اپنی زندگی میں دو افراد ایسے دیکھے ہیں جن پر جِنوں کا قبضہ تھا اور جب بھی جِن ان پر حاوی ہوتے تو ان کی آنکھیں بند ہو جاتی تھیں ، میں سوچتا ہوں کہ کیسے، پہلا انسا ن میں نے ناہیدہ کی صورت میں دیکھا جس کے جِن اچھے تھے ، دوسرا شخص میرا افغانستان سے تعلق رکھنے والی کزن تھا جس کے جِن اچھے نہیں تھے ، جب بھی وہ اس پر حاوی ہوتے وہ چلانے لگتی تھی ، اس کی آوازمردوں کی طرح بھاری ہو جاتی تھی ، ، میری دوسری کزن کی کہانی بہت ہی ہولناک ہے ، میں نے بہت سے واقعات اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھے ہیں اس لیے میں انہیں درست انداز میں بیان بھی نہیں کر سکتا ۔

شانزہ اختر نامی صارف نے خان احمد کی پوسٹ پڑھنے کے بعد اس کا تجزیہ اور مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ” بھائی یہ دماغی مسئلہ ہے ، جِنوں کے قبضے کا معاملہ نہیں ۔“

خان احمد نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ ناہیدہ افغانستان میں تھی اس کی دونوں ٹانگیں معذور ہو گئیں ، وہ چل بھی نہیں سکتی تھی اور پورا دن بستر پر پڑی رہتی تھی ، اس کے پاﺅں بہت پتلے ہو گئے تھے ، اس کی فیملی اسے بہت سے ڈاکٹروں کے پاس لے کر گئی اور پاکستان بھی اسے علاج کیلئے لائے لیکن آٹھ ماہ تک کوئی افاقہ نہیں ہوا، پھر انہیں ایک بابا جی کے پاس لے جایا گیا ، جنہوں نے ان جنوں کو ظاہر کروایا ، بابا جی نے دم کے ذریعے ان جِنوں کو ناہیدہ کے جسم میں داخل ہونے کیلئے عبوری طور پر روک دیا اور ایک ہفتے کے دوران وہ ٹھیک ہو گئی۔

بینش آفریدی نامی لڑکی نے احمد خان سے اس بابا جی کا ایڈریس مانگا جس پر احمد خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کا تعلق افغانستان سے ہے ۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -مافوق الفطرت -