حکمران احتساب سے بچنے کے حیلے بہانے ڈھونڈتے رہے تو مزید پھنستے جائیں گے،کرپشن روکنے والے ادارے خود کرپشن میں ملوث ہو گئے :سینیٹر سراج الحق

حکمران احتساب سے بچنے کے حیلے بہانے ڈھونڈتے رہے تو مزید پھنستے جائیں ...
 حکمران احتساب سے بچنے کے حیلے بہانے ڈھونڈتے رہے تو مزید پھنستے جائیں گے،کرپشن روکنے والے ادارے خود کرپشن میں ملوث ہو گئے :سینیٹر سراج الحق

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق نے کہاہے کہ مسئلہ یہ نہیں کہ آف شور کمپنیاں جائز ہیں یا ناجائز ، اصل مسئلہ پاکستان سے دولت باہر منتقل کرنے کاہے ، اگر حکومت یا اپوزیشن میں بیٹھا کوئی لٹیرا سمجھتاہے کہ وہ احتساب سے بچ نکلے گا تو اسے اس خوش فہمی سے نکل آناچاہیے ،حکمرانوں کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے دامن پر لگے داغ کو دھو کر قوم کے سامنے سرخرو ہوں ، حکمران احتساب سے بچنے کے حیلے بہانے ڈھونڈتے رہے تو مزید پھنستے جائیں گے ۔

مزید پڑھیں:آرمی چیف کی درگاہ شاہ نورانی دھماکے کے زخمیوں کوبہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت

منصورہ میں حفظ قرآن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ وزیراعظم نے خود اقرار کیا ہے کہ پانامہ لیکس میں ان کا نہیں ان کے بچوں کا نام آیاہے اور میں خود کو احتساب کے لیے پیش کرتا ہوں مگر جب مقدمہ سپریم کورٹ میں گیا تو ان کے وکلا ء یہ سوال اٹھانے لگے کہ عدالت عظمیٰ کو یہ مقدمہ سننے کا اختیار نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم قومی دولت ہڑپ کرنے والے ایک ایک فرد کا احتساب چاہتے ہیں اور ہماری ساری جدوجہد کا محور یہ ہے کہ لوٹا گیا قومی سرمایہ واپس آئے اور ان لوگوں پر خرچ ہو جنہیں حکمرانوں کی کرپشن کی وجہ سے غربت اور افلاس کا سامناہے جنہیں تعلیم ، صحت اور چھت جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم کر دیا گیاہے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک میں نیب سمیت احتساب کے کئی ادارے ہیں جن پر قوم کے اربوں روپے خرچ ہورہے ہیں مگر یہ ادارے کرپشن روکنے کی بجائے خود کرپشن میں ملوث ہو گئے اور لٹیروں کا احتساب کرنے کی بجائے ان کے دست و بازو اور سرپرست بن گئے ۔ انہوں نے کہاکہ وہ سیاسی قیادت اور سرکاری ملازمین جن کے دامن پر کرپشن کے داغ ہیں اگر ان میں ذرا برابر اخلاقی جرأت ہوتی تو اپنے منصبوں سے الگ ہو جاتے مگر ہمارے ہاں یہ روایت ہے کہ بڑے سے بڑا چور بھی ڈھٹائی سے اپنے عہدے پر براجمان رہتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہم عدالت نہ جاتے تو چوکوں اور چوراہوں میں لڑائی جھگڑے ہوتے ۔

مزید :

قومی -