منفرد موضوع پر مبنی ڈرامہ سیریل ’’ایک تھی رانیہ‘‘

منفرد موضوع پر مبنی ڈرامہ سیریل ’’ایک تھی رانیہ‘‘

سیونتھ اسکائی انٹرٹینمنٹ کی پروڈکشن کی ڈرامہ سیریل ’’ایک تھی رانیہ ‘‘مکمل ہوگئی ۔یہ میگا پراجیکٹ رواں ماہ میں آن ایئر ہوگا، سنبل اقبال، اور سید جبران ڈرامے کے مرکزی کردارمیں دکھائی دیں گے، یاد رہے کہ سنبل اقبال ڈرامہ ’’گھائل‘‘کے بعد ایک مختصر وقفے کے بعد سکرین پر دکھائی دیں گی جبکہ سید جبران ’’نور زندگی‘‘، ’’بھولی بانو ‘‘اور’’ غیرت ‘‘جیسے سپر ہٹ ڈراموں میں جلوہ گر ہیں۔ سیونتھ اسکائی انٹر ٹینمنٹ پاکستان کا سب سے بڑا آزاد پروڈکشن ہاوس ہے جس کے درپردہ عبداللہ کادوانی اور اسد قریشی جیسے بڑے نام ہیں،’’ خالی ہاتھ‘‘، ’’حدت‘‘ اور’’ محبت تم سے نفرت ہے‘‘جیسے ڈرامہ سیریز کا کریڈٹ بھی سیونتھ اسکائی کے ان بڑے ناموں کو جاتا ہے۔ ’’ایک تھی رانیہ‘‘ کی کہانی معروف ڈائجسٹ رائٹر مدیحہ شاہد نے تحریر کی ہے، جبکہ ہدایات عبداللہ بدینی نے دی ہیں۔ ڈرامے کا ٹائٹل سانگ احمد جہانزیب نے پیش کیا ہے، ڈرامے کے دیگر کرداروں میں منور سعید، منظور قریشی، مدیحہ رضوی، حمیرہ بانو ، سندس طارق، بینہ چوہدری، اور پارس مسرور شامل ہیں۔ سید جبران نے کہا ہے کہ کہانی کیا کیا موڑ لے گی یہ تو ’’ایک تھی رانیہ ‘‘دیکھنے کے بعد ہی معلوم ہوگا۔انہوںٍ نے کہا کہ اس ڈرامہ سیریل میں کئی نامور فنکار اہم کردار ادا کررہے ہیں ۔تمام فنکاروں کی فنکارانہ صلاحیتوں کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے دوران ریکارڈنگ فنکاروں نے کئی جذباتی سین اس خوبصورتی سے کئے کہ حقیقت کا گمان ہوتا ہے۔مرکزی کردار ادا کرنے والی سنبل اقبال نے کہا کہ میں نے اپنے کیرئیر کے دوران بہت کم ایسے رول ادا کئے ہیں میرارول پاور فل ہونے کے ساتھ ساتھ پرفارمنس سے بھرپور ہے۔میں ہمیشہ سے ان پراجیکٹس میں اداکاری کو ترجیح دیتی ہوں جن میں میرا کردار پاور فل ہو۔منور سعیدنے کہا کہ لوگ آج بھی اچھا کام دیکھنا چاہتے ہیں وہ دن دور نہیں ہے جب فلمی صنعت ایک بار پھر اپنے قدموں پر کھڑی ہوجائے گی۔’’ایک تھی رانیہ ‘‘میں میرا رول روائتی ڈگر سے ہٹ کر ہے۔ جتنا زوال فلم انڈسٹری پر آیا ہے اس سے کہیں زیادہ عروج ڈرامہ انڈسٹری کو حاصل ہے ۔منظور قریشی نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ فلم انڈسٹری بھی دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی ۔انہوں نے کہا ہے کہ کامیابی کے لئے محنت اور لگن بہت ضروری ہے اس کے بغیر ترقی اور کامیابی ممکن نہیں ہے ۔سید جبران نے کہا کہ میں صرف منتخب ڈراموں میں اداکاری کر رہا ہوں ۔جب تک میرے پرستار مجھے سکرین پر دیکھنا چاہیں گے میں اداکاری کرتا رہوں گا‘ کام کے ساتھ میری محبت جنون کی حد تک ہے‘ اپنے ابتدائی دور سے لیکر اب تک میں نے ہمیشہ جنون کے ساتھ اداکاری کی ہے اور جب میں اداکاری کر رہا ہوتا ہوں تو مجھے اپنے ارد گرد کے ماحول کابالکل احساس نہیں ہوتا مگر آج نئے اداکارہ اس طرح کام نہیں کرتے جس طرح میں نے اور میرے ساتھی فنکاروں نے کیا ہے۔ ’’ایک تھی رانیہ ‘‘میرے کیرئیر کا یادگار ڈرامہ ہے۔ میری خوش قسمتی ہے کہ میرے چاہنے والے میرے کیرئیر کے آغازسے لے کر آج تک میری پرفارمنس کو پسند کرتے چلے آ رہے ہیں اور میری کوشش بھی یہی رہی ہے کہ میں بہتر سے بہتر کام کر سکوں ۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے ذاتی طور پر سنجیدہ کردار پسند ہیں ۔سنبل اقبال نے کہا کہ ہمیں آج کی نوجوان نسل میں والدین اور بزرگوں کی اہمیت اجاگر کرنے والے ڈرامے پیش کرنے چاہئیں ۔میں سمجھتی ہوں کہ ایسے موضوعات پر مزید کام ہونا چاہئے۔ نوجوان نسل کا بہترین کام کرنا ہم سب کے لئے قابل فخر ہے۔ہمارے ٹی وی ڈرامے کل بھی غیر ملکی ڈراموں سے اچھے تھے اور آج اور بھی بہتر ہیں۔بہت دکھ ہوتا ہے جب ہمارے اپنے بہت سے لوگ فخریہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ٹی وی ڈرامے نہیں دیکھتے۔ ہمیں اپنے کانام اجاگر کرنے کیلئے اپنے ملک اور ملک کی چیزوں کو اپنانا چاہیے۔ڈائریکٹر سمیت تمام ٹیم نے اس پراجیکٹ کو کامیاب بنانے کے لئے دن رات محنت کی ہے۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...