امریکی افواج کے کارنامے

امریکی افواج کے کارنامے
 امریکی افواج کے کارنامے

  

دنیائے سیاست اور بین الاقوامی تعلقات عامہ کے عنوان سے جب بھی دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی یا دہشت گردانہ عزائم کی بات کی جائے گی تو رہتی دنیا تک امریکی انتظامیہ اور امریکن افواج  عزائم میں سرفہرست پائے جائیں گے۔تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جب فلسطینیوں کی زمین پر صہیونیوں کی   ریاست اسرائیل کو قائم کرنے کی گھنائونی سازش کو عملی جامہ پہنایا جا رہا تھا تو اس وقت امریکن انتظامیہ دنیا کی سب سے بڑی شیطانی قوت تھی کہ جو صہیونیوں کے اس ناپاک منصوبہ کو عملی جامہ پہنانےکے لئے برطانوی استعما ر کے شانہ بہ شانہ تھی یا یوں کہہ لیجئے کہ اصل محرک ہی امریکی انتظامیہ تھی۔

فلسطین پر صہیونیوں کے تسلط کے آغاز کی تاریخ اب ایک سو سالہ تاریخی پس منظر رکھتی ہے اسی طرح امریکی   عزائم کی تاریخ پر بات کی جا ئے تو ہمیں امریکہ اور امریکن افواج کی جارحانہ   پالیسیوں کی ایک سو سال سے بھی زیادہ کی تاریخ ملتی ہے ۔اس عنوان سے کاتب نے پہلے ہی متعدد مقالہ جات میں امریکہ کی ایک سو سالہ دہشت گردانہ کاروائیوں پر تسلسل کے ساتھ متعدد مقالہ جات تحریر کئے ہیں جو شائع ہو چکے ہیں۔

آئیے امریکن افواج کے عزائم پر مبنی کارناموں کا جائزہ فلسطین سے شروع کرتےہیں۔فلسطین پر صہیونیوں کے غاصبانہ تسلط اور ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کے قیام سے ہمیشہ ستر برس میں امریکی افواج نے صہیونیوں کو نت نئے انداز سے فلسطینیوں کے قتل عام کے طریقہ سکھائے ہیں ۔ صہیونیوں کو ہمیشہ یہی سکھایا ہے کہ فلسطین کےنہتے مظلوموں پر ٹینکوں سے گولہ باری کیسے کی جاتی ہے ۔ بات صرف یہاں تک نہیں ہے بلکہ امریکن افواج نے صہیونیوں کو اربوں ڈالر کے فوجی آلات امداد کے نام پر دئیے ہیں تا کہ فلسطین کے مظلوم اور نہتے عوام کو قتل کیا جا سکے اور یہ سلسلہ ستر برس سے جاری ہے۔اب فیصلہ دنیا کو کرنا ہے کہ امریکن فوج ایک ملک کی فوج ہے یا دہشت گردانہ عزائم کو پروان چڑھانے والی فوجی فیکٹری ہے۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

امریکن فوج کی دہشت گردانہ کاروائیوں کی داستان ہمیں فلسطین کے بعد لبنان پر غیر قانونی تسلط کے زمانے میں بھی ملتی ہیں۔یہ وہ تلخ حقیقت ہے جو امریکی نظام کے منہ پر سیاہ دھبہ کی مانند ہے کہ جسے امریکن انتظامیہ چاہتے ہوئے بھی صاف نہیں کر سکتی ۔لبنان میں سول جنگ کے زمانے کی ابتداء ہو یا پھر امریکن افواج کا لبنان میں داخل ہو کر لبنان کے عوام پر مظالم کا سلسلہ ہو، سب کا سب امریکن فوج کے عزائم کا منہ بولتا ثبوت ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔

امریکن فوج کی دہشت گردانہ کاروائیوں کا عملی نمونہ ویت نام جیسے ممالک میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ جہاں امریکی افواج نے جارحیت کرتے ہوئے ہزاروں بے گناہ انسانوں کا قتل عام کیا اور نتیجہ میں آج تک امریکی افواج کو دہشت گردی کا لیبل حاصل ہوا۔ویت نام کے عوام آج بھی امریکی افواج کے انسانیت سوز مظالم کو یاد کر کے جہاں ایک طرف اپنے پیاروں کے غم کو فراموش نہیں کر پاتے ہیں وہاں ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں کو درس دیتے ہیں کہ امریکی افواج دنیا کی جارح اور دہشت گرد افواج ہیں کہ جن کا کام صرف اور صرف دنیا کے کمزور ممالک میں جارحیت کرنا اوران ممالک کے سیاسی نظاموں کو اپنے نظام کے ماتحت کرنا ہے۔

امریکی افواج کی دہشت گرد ہونے کا سب سے بڑا ثبوت امریکی افواج کی جانب سے ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر گرائے جانے والے ایٹم بم ہیں کہ جس کے اثرات آج تک وہاں کی اقوام بھگت رہے ہیں۔جاپان میں بھی امریکی افواج کو دہشت گرد افواج کے عنوان سے پہچانا جاتا ہے۔امریکی افواج کی کاروائیوں کی سب سے بڑی مثال افغانستان ہے۔جہاں امریکی افواج نے اپنےعزائم کے ذریعے دسیوں ہزار بے گناہ انسانوں کو صرف اس لئے موت کی نیند سلا دیا کہ امریکی نظام کو افغانستان میں قوت حاصل ہو اور افغانستان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امریکی  نظام کا تابع ہو جائے لیکن نتائج اس کے بر عکس نکلے اور آج دنیا کی دوسری اقوام کی طرح افغانستان کی قوم بھی یہی نعرہ لگاتی نظر آتی ہے کہ دنیا میں اگر کوئی دہشت گرد فوج ہے تو وہ امریکی افواج ہیں کہ جن کا کام صرف اور صرف دہشت کا راج کرنا ہے۔

امریکی افواج کی بات کریں تو ہم کسی طور بھی عراق کو فراموش نہیں کر سکتے ہیں کہ جہاں کئی برس تک امریکی افواج جارحیت کے ذریعہ دہشت گردانہ کاروائیوں کو پروان چڑھاتی رہی ہیں اور عراقی بے گناہوں کا بڑے پیمانہ پر ہونے والا قتل عام امریکی افواج کے دہشت گرد ہونے کا ایسا بے باک ثبوت ہے کہ جسے خود امریکی افواج میں شامل فوجی دہشت گرد بھی ماننے پر مجبور ہو چکے ہیں۔درجنوں ایسے فوجیوں نے خو دکشی کر لی ہے ۔دسیوں ہزار عراقی بے گناہ اگر کسی کی دہشت کا شکار ہوئے ہیں تو صرف اور صرف امریکی نظام اور افواج کے ہاتھوں۔یہی بنیادی وجہ ہے کہ آج فلسطین،لبنان، شام،افغانستان ، ویت نام اور جاپان سمیت دیگر ممالک کی اقوام کی طرح عراقی عوام نے امریکن افواج کو دہشت گرد افواج کا لقب دیا ہے۔

یمن کی بات کرتے ہیں۔یمن ایک مسلمانوں کا ملک ہے کہ جہاں پر ایک مسلم ملک سعودی عرب نے جنگ مسلط کر رکھی ہے لیکن اس جنگ میں بھی امریکی افواج اپنی دہشت گردانہ کاروائیوں کی مہارت سے محروم نہیں رہی ہیں بلکہ سعودی حکام کے ساتھ مل کر یمن میں دہشت گرد ی کی نت نئی کاروائیوں میں برابر کی شریک جرم ہیں۔یمن کے عوا م جب بھی سڑکوں پر آتے ہیں ان کے چند نعروں میں اللہ اکبر، مردہ باد امریکہ، اسرائیل نامنظور  کے نعرے نمایاں ہوتے ہیں جو یمن کے عوام کے خیالات اور سوچ کی عکاسی ہے۔

گذشتہ دنوں امریکہ نے ایران کی افواج کو دہشت گرد قرار دینے کی کوشش اس لئے کی ہے کیونکہ ایران کی افواج نے شامی حکومت کی درخواست پر شام میں داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ کرنے کے لئے شام کی حکومت ، افواج اور عوا م کا ساتھ دیا ۔جبکہ امریکی افواج یہاں بھی جارح افواج ہیں اور بغیر شامی حکومت کی دعوت یا اجازت کے شام میں پہنچی تھیں۔دنیا اس بات سے بھی بخوبی آگاہ ہے کہ مغربی ایشیائی ممالک میں داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کو وجود دینے میں بھی امریکی نظام سیاست و افواج کے اداروں کا ہاتھ شامل رہاہے کہ جس کا مقصد مغربی ایشیاء کی امریکہ و اسرائیل مخالف ریاستوں کو غیر مستحکم کر کے امریکی افواج کے لئے راہیں ہموار کرنے کا ہدف متعین کیا گیا تھا۔امریکہ نے ایران کی افواج کو دہشت گرد اس لئے کہنا شروع کیا ہے کیونکہ انہوں نے عراق اور شام سمیت لبنان میں امریکی دہشت گرد افواج کوشکست سے دو چار کر دیا ہے اور داعش کو نابود کیا ہے۔اسی طرح ایران کی افواج کو دہشت گرد اس لئے بھی قرار دینےکی کوشش کی گئی ہے کیونکہ انہوں نے فلسطین میں نہتے فلسطینیوں کو مزاحمت کےلئے اسلحہ اور تربیت سمیت فلسطین کی مزاحمتی جماعتوں کو مالی ومسلح مدد جاری رکھی ہوئی ہے تا کہ فلسطین کے مظلوم اقوام غاصب اور جارح دشمن اسرائیل کا مقابلہ کریں اور عزت و افتخار کے ساتھ سربلند رہیں۔

خلاصہ یہی ہے کہ دنیا بھر کے مختلف ممالک میں امریکی افواج کی جارحانہ کاروائیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ خود امریکی افواج ہی  ہے جس کا کام  مسلم دنیا میں انارکی پھیلا کر اسلامی دنیا کو کمزور کرنا اور اسلامی ممالک کی افواج کو بھی کمزور کرنا ہے۔لہذا یہ بات واضح ہے کہ ایران یا کسی اور ملک کی افواج کو امریکہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دینے سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں بلکہ حقائق یہ بتاتے ہیں کہ خود امریکی افواج دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد افواج ہیں۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ