عمران خان کی نئی شادی

عمران خان کی نئی شادی
عمران خان کی نئی شادی

  

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان 63 برس کی عمر میں دوبارہ دولہا بن گئے، پہلے بھی انہوں نے پیشے کے اعتبار سے ایک انگریزصحافی خاتون جمائما سے شادی رچائی تھی، جس کے بطن سے ان کے دو بیٹے جوان ہو چکے ہیں، اس مرتبہ بھی انہوں نے ایک صحافی خاتون ریحام خان سے شادی کی ہے جو ایک پاکستانی ٹی وی چینل میں اینکر کے فرائض انجام دیتی رہی ہیں۔ وہ ایک خوبصورت خاتون ہیں، یہ اینکر خواتین اپنے پروگرام پیش کرنے کے لئے ہمیشہ ریسرچرز کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں، بسا اوقات ریسرچرز خود علم و ہنر سے پیدل ہوتے ہیں اور ان کا صحافتی تجربہ بہت محدود ہوتا ہے۔ ان چینلوں میں صرف وہی چند لوگ کامیاب نظر آتے ہیں۔۔۔ جو وہاں پرنٹ میڈیا کی چکی سے پس کر پہنچے ہیں۔ بہر حال موضوع کی طرف آتے ہیں کہ عمران خان نے دوسری مرتبہ بھی شادی ایک صحافی خاتون سے کی ہے، شادی کوئی جرم یا گناہ نہیں، لیکن ان سے وقت کے انتخاب میں غلطی ضرور ہوئی ہے، اگر وہ یہ شادی پشاور کے شہید بچوں کا چالیسواں گزر جانے کے بعد کرتے تو شاید ایسا اقدام ایک سیاست دان کے شایان شان ہوتا۔ تھوڑا سا انتظار کرنے میں انہیں زیادہ کوفت کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

بہر حال انہوں نے شادی رچا لی، جسے میڈیا نے بھرپور کوریج دی۔ عمران خان کی بہنوں نے اپنے اکلوتے بھائی کی شادی میں شرکت نہیں کی۔ ہو سکتا ہے کہ عمران خان نے اس معاملے میں ان سے مشورہ نہ کیا ہو اور شادی کی خبروں کی بار بار تردید کرتے ہوئے انہیں خفت کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ریحام خان ایک تعلیم یافتہ پختون خاتون ہیں، جب انہیں کراچی کے رکن قومی اسمبلی نبیل گبول نے شادی کی آفر کی گئی تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم پٹھانوں سے باہر شادی نہیں کرتے، اس شادی کو بہت خفیہ رکھنے کی کوشش کی لیکن بعض صحافیوں کے مطابق ریحام خاں نے اس متوقع شادی کی خبر خود میڈیا کے لوگوں کے پاس لیک کر دی۔ شاید وہ عمران خان کی جانب سے ہونے والی بار بار کی تاخیر کو ختم کرنا چاہتی تھیں۔ عمران خان ریحام سے شادی کرنا چاہتے تھے، اگر وہ ان خبروں کی تردید کر دیتے تو پھر تردید کے بعد وہ ریحام سے شادی کر لیتے تو ایک سیاست دان کی سچائی پر حرف آ جاتا جس کے باعث عوام میں ان کی مقبولیت پر زد پڑتی جبکہ ریحام خاں نے ایک صحافیانہ چال چل کر سیاست دان کو ڈھیر کر دیا اور وہ جلد شادی کرنے پر مجبور ہو گئے۔

اس شادی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ عمران خان کا پہلی صحافی خاتون سے نباہ نہیں ہو سکا تھا کیونکہ صحافی اپنی جبلت اور فطرت کے اعتبار سے معاملات کو گہرائی میں دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ اس طرح ان کا مزاج ایک شکی مزاج میں ڈھل جاتا ہے۔ کوئی ان سے بہت اچھی طرح ملے تو وہ اس کی بیک گراؤنڈ بھی جاننا چاہتے ہیں اور اگر کوئی انہیں نظر انداز کرئے تو وہ اس کی وجہ جاننے کی بھی ضرور جستجو کرتے ہیں۔ یہی وہ صحافتی مزاج تھا جس کی وجہ سے جمائما زیادہ عرصہ عمران خان کے ساتھ نہ چل سکیں، اب ان کی زندگی میں دوسری صحافی خاتون آ گئی ہیں۔

عمران خان بطور کھلاڑی بھی پُر کشش عورتوں میں بہت مقبول رہ چکے ہیں اور اب بطور سیاست دان بھی خواتین میں بہت مقبول ہیں۔ شادی کے بعد بھی ان کے گھر پر ان کی سیاسی کارکنوں اور فین خواتین کی آمدورفت برقرار رہے گی اور بیرونی تقریبات میں بھی خواتین ان کے اردگرد دیکھی جائیں گی۔ اس صورت حال کو ریحام خاں کس زاویہ نگاہ سے دیکھتی ہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا، تاہم عمران خان نے اپنی سیاسی زندگی کے عروج کے دور میں ایک ایسی گولی نگل لی ہے جو ان کی سیاسی زندگی پر ضرور اثر انداز ہو گی۔

جتنے خوش فہم مرد ہوتے ہیں، ان سے زیادہ خوش فہم خواتین واقع ہوئی ہیں۔ عمران خاں کے جلسوں اور دھرنوں میں بہت سی خواتین خوبصورت لباس زیب تن کر کے اور مہنگے میک اپ سے مزین ہو کر شرکت کرتی رہی ہیں۔ ان میں بہت سی ایسی بھی ہوں گی، جن کے دل میں اپنے لیڈر کی جیون ساتھی بننے کی خواہش موجزن ہو گی ایسی خواتین کا دل مرجھا گیا ہوگا اور نعرے بازی و احتجاج میں آگے بڑھ بڑھ کر نمایاں ہونے کا جذبہ بھی سرد پڑ گیا ہوگا۔ شادی کے ذریعے جہاں عمران خان نے ریحام کا ایک دل خوش کیا ہے تو بہت سے دل دکھائے بھی ہیں۔ عمران خان رخصتی کے لئے 8 جنوری کو ریحام خان کے گھر نہیں گئے تھے، بلکہ وہ خود بنی گالا میں عمران خان کے گھر پہنچ گئی تھیں۔

جب عمران خاں بنی گالامیں اپنی نئی دلہن کی آمد کی خوشیاں سمیٹ رہے تھے اور ان کی پارٹی کے کارکن ان کی شادی کا جشن منانے کے لئے مختلف مقامات پر رقصاں تھے۔ ان ہی اوقات میں عمران خاں کی پارٹی کی حکومت والے صوبے میں شہید بچوں کے لئے اجتماعی فاتحہ خوانی کی مجلس برپا تھی جس میں شرکت کے لئے پاکستان کے آرمی چیف پشاور پہنچے تھے، شہید بچوں کے لواحقین کو دلاسے دے رہے تھے اور بچوں کی عظیم قربانی کے ذکر میں مصرو ف تھے۔

مزید : کالم