سمندری طوفان بھارت کی ساحلی ریاستوں سے ٹکراگیا، 20افرادجاں بحق، ریڈالرٹ جاری

سمندری طوفان بھارت کی ساحلی ریاستوں سے ٹکراگیا، 20افرادجاں بحق، ریڈالرٹ جاری
سمندری طوفان بھارت کی ساحلی ریاستوں سے ٹکراگیا، 20افرادجاں بحق، ریڈالرٹ جاری

  


نئی دہلی،لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) سمندری طوفان” پائلن“دو سوکلومیٹرفی گھنٹہ کی رفتارسے بھارتی ریاست آندھرا پردیش اور اڑیسہ کے ساحلی علاقوں سے ٹکراگیا جس کے نتیجے میں20 افراد ہلاک اور متعدد لاپتہ ہوگئے جبکہ6 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق سمندری طوفان پائلن200 سے لیکر 240کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے ساحلی علاقوں سے ٹکرایا،1999 ءکے بعد اب تک کا یہ طاقتور ترین طوفان ہے، طوفان سے 20 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ زمین کا کٹاﺅ بھی ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق طوفان کی شدت 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مزید چھ گھنٹے تک برقرار رہنے کی توقع ہے۔ طوفان سے درخت گرگئے جبکہ گھروں، فصلوں، عمارتوں کو نقصان پہنچا، ریسکیو اور متعلقہ سرکاری اداروں کے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ سمندر میں 18 ماہی گیروں کے پھنسے ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ ریلیف کمشنر پی موہاپاترا کا کہنا ہے کہ بھارتی فضائیہ کے ایک ہیلی کاپٹر کو ماہی گیروں کو نکالنے کیلئے بھیجا گیا ہے۔سمندری طوفان کے پیشِ نظر چھ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، بھارتی حکام نے ساحلی علاقوں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ریاست اڑیسہ اور آندھرا پردیش میں ہزاروں دیہات خالی کرا لیے گئے ہیں۔اڑیسہ میں 1200 اورآندھرا پردیش میں 500 فوجی تعینات ہیں۔ لندن میں ٹراپیکل رسک سینٹر نے پائیلن کو طوفانوں کے پانچویں زمرے میں شامل کیا ہے جو سب سے طاقتور طوفان ہوتا ہے۔ ریاست اڑیسہ کا علاقہ گوپال پور طوفان سے سب سے زیادہ متاثر ہوگا، ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کیلئے فوج تیار ہے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...