سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 27

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 27
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 27

  

آسمان شق ہو گیا تھا۔ خوشی سے آنسو بہانے کے لئے زمین اپنے مرکز سے ہٹ گئی تھی ۔مبارکباد دینے کے لئے ستاروں نے اپنی جگہ چھوڑ دی تھی ۔مل کر خوش ہونے کے لئے، اور خلقت کے آنسوؤں سے اس کے کفتان کے دامن بھیگ گئے تھے اور ان کے بوسوں سے اس کے ہاتھ زخمی ہو گئے تھے۔

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 26 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سپہ سالار نے تلوار گھسیٹ لی تھی اور خاص برداروں نے ۔۔۔درے مار مار کو ہجوم کو اس کے راستے سے ہٹایا تھا۔

اب ایک شام سامنے کھڑی تھی جس کی ہتھیلی پر دمشق کا محل سفید گلاب کی طرح چمک رہا تھا۔ وہ شیشے کے حوض کے کنارے اپنے نامہ بر کبوتروں کو نہاتا اور کھیلتا دیکھ رہا تھا اور پھولوں سے لدی جھاڑیوں کے بیچ میں لیٹی ہوئی سنگ سرخ کی روش پرٹہل رہا تھا کہ افسر البرید سوال بن کر کھڑا ہو گیا۔

’’اجازت ہے ۔‘‘

افسر البرید آگے بڑھا۔ بارگاہ خاص کی چاروں طرف پھیلی ہوئی سنگ مرمر کی آئینہ بند عمارتوں پر طائر انہ نگاہ ڈالی۔ پاس کھڑے ہوئے ستونوں کے کان بچا کر دست بستہ معروض ہوا:

’’سلطان السلاطین کے خلاف لشکر کو سنگین اعتراض ہے۔ اس اعتراض میں سپاہی سے سپہ سالار تک برا بر کے شریک ہیں۔‘‘

’’کیا ؟‘‘

’’آپ کے بیجار حم و کرم نے افرنجی سپاہیوں ، شہسوار وں اور نائیٹوں کو صور میں جمع ہوئے کا موقع دے دیا۔ یروشلم کا بادشاہ تمام بچی کھچی فوجوں کو استوار کر رہا ہے۔ آبادی مسلح ہو رہی ہے ۔ صقلیہ کے بادشاہ کی فوجیں کمک پر آچکی ہیں۔ یورپ سے تین بادشاہوں کی کمان میں آنے والی زبردست فوجوں کا انتظار کر رہی ہیں اور یروشلم کی بازیابی کا خواب دیکھ رہی ہیں۔ امیروں کا خیال ہے کہ اگر آپ سیاست برتتے اور عیسائیوں کے نقشِ قدم پر چل کر کل ہتھیار بند آبادی کو قتل کر دیتے یا کم از کم ان کو دور دراز مقامات پر نظر بند کر دیتے تو صور کا کانٹا نکل جاتا اور تیسری صلیبی جنگ کا خطرہ ٹل جاتا۔ ‘‘

’’اور کچھ ؟ ‘‘

’’بس ۔‘‘

’’بادل جب برستا ہے تو یہ نہیں سوچتا کہ اس کی بوندوں سے عدن کی سیپوں میں موتی جنم پائیں گے یا دمشق کے نرکل میں زہر پروان چڑھے گا۔ وہ برستا ہے اس لئے کہ برسنا اس کی فطرت ہے ۔۔۔تم جا سکتے ہو ۔ ‘‘

وہ سوچنے لگا کہ بڑے بڑے سپہ سالاروں اور امیروں کے دل شکوک سے پاک کر دے۔ چوبدار نے خبر دی ۔

’’ایک مغربی راہب باریابی کا اِصرار کر رہا ہے اور بیماری کا عذر پیش کر کے کل کے انتظار سے مایوسی کا اظہار کر رہا ہے۔ ‘‘

’’پیش کیا جائے ۔ ‘‘

وہ ٹہلتا ہوا دالان کے وسط میں بچھی ہوئی سنگ سماق کی چوکی پر بیٹھ گیا۔

سمور کی ٹوپی میں سفید بال اڑ سے بھیڑ کی کھال کا نیچا لبادہ پہنے ایک قد آور بوڑھا کمر جھکائے داڑھی کے نیچے صلیب لٹکائے ، سیاہ جریب ٹیکتا سامنے آیا۔ سفید ابروؤں کے نیچے سمٹی ہوئی آنکھوں پر سفید پلکیں مار مار کر اسے ادب سے دیکھنے لگا۔

’’کیا میں مشرق کے سب سے بڑے شہنشاہ کے حضور میں ہوں؟ ‘‘

’’ہاں ۔۔۔تم خدا کے ایک ناچیز بندے کے سامنے ہو ۔ ‘‘

’’میں نے مسلمانو ں کی تاریخ میں پڑھا تھا کہ جب قیصر وروم کا قاصد خلیفہ دوم کے سامنے پیش ہوا تو وہ مسجد نبوی کے ننگے صحن میں پیوند لگا کرتا پہنے بیٹھے تھے۔ میں مورخ کی لفاظی پر ہنس دیا تھا لیکن آج یقین آگیا۔

’’شہنشاہا!’’تو نے میری تین بیٹیوں کی جان اور آبرو کی حفاظت کی۔ ان کے شوہروں کو سولی کے تختے سے اتار کر انہیں بخش دیا اور یورپ کے آخری خطے تک اپنے خرچ سے ان کے مراتب کا لحاظ فرما کر پہنچا دیا۔ اس کی شکر گزاری میں اگر میں اپنے خنجر سے اپنا سراتار کر تیرے قدموں میں ڈال دوں تو بھی کم ہے ۔ میں نے عہد کیا تھا کہ مشرق کے سب سے بڑے اور دنیا کے سب سے فیاض شہنشاہ کے قدموں میں سر رکھ کر اس کے احسانِ عظیم کا شکر ادا کروں گا۔ مسیح کی رحمت کے صدقے میں آج میرا عہد پورا ہوا۔

فاتحوں کے فاتح ! ہزاروں عورتیں یورپ کے اس سرے سے اس سرے تک تیری اس عدیم المثال فیاضی کے گیت گا رہی ہیں جن کا تونے یروشلم کی بازیابی کے دن اظہار کیا تھا۔ اور جن کی ایک رمق کے سامنے بڑے بڑے نائیٹوں کی عمر بھر کی کمائی، سچ معلوم ہوتی ہے ۔ بادشاہوں کے بادشاہ کسی کی مجال ہے جو تیری شان کے شیان نذر پیش کر سکے تاہم ایک خبر لایا ہوں شاید قابلِ قبول ہو۔ ‘‘

’’بیان کی جائے۔ ‘‘

’’عالم پناہا!

ارض قدس کی شکست نے یورپ کی بستی بستی گاؤں گاؤں ، شہر شہر اور جنگل جنگل آگ لگا دی ہے ۔ آج تمام کاریگر ہتھیار بنا رہے ہیں۔ بنکر جنگی لباس تیار کر رہے ہیں۔ دہقان جہاد کے لیے غلہ پیدا کر رہے ہیں۔ بادشاہوں نے اپنے نجی خزانے لشکر کی آراستگی کیلئے نکال کر ڈھیر کر دیئے ہیں۔ شاعر غیرت دلانے والے گیت گار ہے ہیں۔ خطیب خون میں آگ لگا دینے والی تقریریں کر رہے ہیں۔ ہر شخص نے اپنی آمدنی کا تہائی حصہ جہاد کے لیے وقف کر دیا ہے ۔ عورتوں نے زیورات اتار دیئے ہیں اور بال تراش کر دیئے ہیں۔ بچوں نے کھلونوں کے بجائے ہتھیار خریدنے کی عادت ڈال لی ہے۔ ایک ایک گرجا میں اتنے آنسو بہائے گئے ہیں کہ اگر وہ سب جمع کر لئے جاتے تو ایک ریگستان میں ایک فصل پیدا کی جا سکتی تھی ۔ شہنشاہ فریڈرک ستر برس کی عمر میں جہاد پر کوچ کرنے والا ہے۔ انگلستان کا بادشاہ صلیب اٹھا چکا ہے ۔ فرانس کا شہنشاہ سلطنت کے پشتینی جھگڑے ختم کر کے ہتھیار پہن رہا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ لشکروں کا یہ سیلاب جب مشرق کے کنارے پہنچے گا تو کیا ہو گا۔ تیری فیاضیوں کا بدل کیا ہو گا۔ ‘‘

’’ رب کعبہ کی قسم ہماری تلوار اس عظیم الشان لشکر کو خوش آمدید کہے گی۔ اتنا شاندار استقبال کرے گی کہ تاریخ کی کتابوں میں قیامت تک یاد رہے گا ۔‘‘

عکہ کی مشرقی پہاڑی پر نصب زرد خواب گاہ میں آبنوس کی مسہری پر لیٹا ہوا تھا۔ یمنی ریشمی جالی کے مچھر دان کے پردے الٹے ہوئے تھے۔ سرہانے شیشے کی تپائی پر دواؤں کی مہر بلب بوتلیں ڈھیر تھیں۔ سامنے ملک الاطبہ چار چھ طبیبوں اور امیروں کے ساتھ کھڑے مرض کی سنگینی اور احتیاط کی ضرورت پر مودبانہ تقریر کر رہے تھے۔ نیچے عکہ کے شہر میں قیامت برپا تھی۔ تکبیروں کی دل دوز آوازیں افرنجی باجوں اور نعروں کی صفیں توڑ کر میلوں کا سفر طے کر کے آتیں اور اس کے کانوں سے گزرتی ہوئی دل پر خنجروں کی طرح ٹوٹ پڑتیں ۔قراقوش کی کان مین بیس ہزار کا مضبوط لشکر تاریخ کی سب سے بڑی مغربی افواج کے قاہر محاصرے کی شدت کے سامنے بے دست و پاہو چکا تھا۔ شاہی نامہ بر کبوتر قراقوش کا خط لا چکے تھے جس کا مضمون بیس ہزار سورماؤں کے خون سے رنگین تھا۔ مصر، شام، کردستان اور قبائل عرب کے بھیجے ہوئے لشکروں کی بروقت آمد منقطع ہو چکی تھی اور وہ غیظ و غضب کے عالم میں تادیبی خطوط ارسال کرنے کے متعلق غور کر رہا تھا کہ تقی الدین حاضر ہوا جس کے خود سے بکتر تک خون کی دھار یوں کی لالہ کاری تھی۔ وہ اپنے ننگے زریں ہتھیار کو کھڑ کھڑاتا آیا اور مسہری کے سامنے گھٹنے پر کھڑا ہو گیا۔ گردن جھکا کر اور اپنی کالی پلکوں پر ٹمٹماتے ہوئے آنسوؤں کو سیاہ گھونگھر یالی داڑھی میں بجھا کر لمبے لمبے سانس لینے لگا۔

’’عکہ ۔۔۔عکہ کی خبر سناؤ۔‘‘

وہ خاموش بیٹھا رہا اور اس کی پلکوں سے سفید خون ٹپکتا رہا۔

’’بیان ہو۔۔۔کہ مزید اصرار کی طاقت نہیں۔ ‘‘

’’جس زبان نے ہمیشہ فتح کی خوش خبری سنائی ہو اور شکست کے الفاظ سے ناآشنا ہو۔۔۔ وہ ۔ ‘‘

’’عکہ نکل گیا؟‘‘

’’سلطان السلاطین۔۔۔میں نے چاہا کہ اپنی فوج سوارہ لے کر دشمن پر ٹوٹ پڑوں اور جنگ سلطانی لڑتا ہوا مار ا جاؤں۔۔۔ لیکن ایسے کڑے وقت میں جب کہ ہمارا ایک ایک سپاہی ایک ایک فوج کی حیثیت رکھتا ہے ، اپنے دل کی خواہش پر عمل نہ کر سکااور مجبور قاصدوں کی طرح۔۔۔‘‘

’’اناللہ و انا الیہ راجعون ۔ ‘‘

’’سپہ سالار عادل کو حکم دو کہ لشکر کو صف بستہ کرے۔۔۔ ہم سوار ہوں گے۔‘‘

تقی الدین الٹے قدموں خواب گاہ سے نکل گیا۔ وہ ملک الاطبا کے بوڑھے بازو کا سہارا لے کر کھڑا ہوا۔ امرار کے ہاتھوں سے ہتھیار لگائے اور ان کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر ڈیوڑھی پر آیا جہاں اس کا ابلق (گھوڑا) عکہ کی شکست پر رنجور اور خاموش کھڑا تھا۔ ہمیشہ کی طرح اس نے گردن پر تھپکی دی۔ ایال میں بیمار انگلیوں سے کنگھی کی اور سوار ہو گیا۔ پہاڑی کے نیچے ڈھلوان میدان میں چالیس ہزار شامی، مصری ، یمنی اور ترکمانی افواج زرد اور سبز اور سیاہ و سفید اور دھاری دار عبائیں اور کفتان پہنے ہتھیار سجائے، سرجھکائے ساکت کھڑی تھی۔ گھوڑے دم ہلانا اور پاؤں پٹکنا بھول چکے تھے۔ وہ اپنے دس ہزار خاص برداروں کے ساتھ آیا اور دائرے کی صور ت کھڑے ہوئے لشکر کے قلب میں لہراتے ہوئے جھنڈے کے نیچے کھڑا ہو گیا ۔(جاری ہے)

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 28 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فاتح بیت المقدس -