سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 28

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 28
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 28

  

سامنے عکہ کی فصیلوں کے برج پر مسیحی پرچم اڑ رہے تھے اور بدنصیب مسلمانوں کی فریاد باجوں کی ضربوں اور نعروں کی تکرار میں دفن ہو چکی تھی۔ فوجوں کے سامنے ان کے امیر اور سالار اپنے اپنے مرتبے کے مطابق آگے پیچھے مغموم کھڑے تھے۔ اس نے اپنے گھوڑے کو کاوادے کر نگاہوں کے دل گیر اور مودب سلام لئے۔ اور خطاب کیا۔

’’عرب کے شجاعو۔۔۔عجم کے دلیرو۔۔۔

افرنجیوں نے عکہ کی محصور فوجوں میں بیمار صلاح الدین کی موت کی خبر پھیلا دی اور بیوقوف امیروں سے من مانی شرطیں منظور کر الیں۔ یہ سچ ہے کہ تمہاری آنکھوں کے سامنے عکہ کی فصیل پر مسیحی دنیا کے متحدہ لشکر کے جھنڈے لہرا رہے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ تمہارے کان بدنصیب مسلمانوں کی فریاد یں سن رہے ہیں اور یہ بھی سچ ہے کہ تم ان کی مدد کو نہیں پہنچ سکتے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے سامنے جو جنگِ عظیم درپیش ہے اس کے نقشے پر عکہ ایک شہر ہے ، ایک مہم ہے ، ایک مورچہ ہے اور سپہ سالار جانتا ہے کہ بڑی بڑی فیصلہ کن لڑائیوں کی تقدیر چھوٹے چھوٹے مورچوں کے خون سے بھی لکھی جاتی ہے۔ عکہ ایک مورچہ ہے جسے دشمن کے حوالے کر دیا گیا ہے اور اس طرح کی بیس ہزار لشکر کا صدقہ دے کر ہم نے معلوم تاریخ کی سب سے بڑی مغربی فوج کے حوصلے پست کر دیئے ہیں۔ عکہ حطین نہیں ہے جس نے بیت المقدس کے دروازے کھول دیئے تھے۔ عکہ کی شکست نے بیت المقدس کو ہم سے نزدیک اور دشمن سے دور کر دیا ۔

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 27 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ہم جانتے تھے کہ ہم کو بیت المقدس دو بار فتح کرنا پڑے گا۔ ایک بار مشرق مسیحی سلطنت سے لڑ کر اور دوسری بار مغرب کے پانچ بادشاہوں سے جنگِ عظیم کر کے ۔ ایک جنگ ہو چکی، دوسری باقی ہے جو عکہ پر نہیں بیت المقدس کے دروازوں پر لڑی جائے گی ۔ بیت المقدس کی گلیوں میں لڑی جائے گی ۔

مسجد اقصی کی محرابوں میں لڑی جائے گی ۔ خدائے ذوالجلال کی قسم یہ جنگ اس وقت جاری رہے گی جب تک صلاح الدین ، اس کا ایک ایک بیٹا، ایک ایک بھتیجا ، ایک ایک بھائی اور ایک ایک سوار شہید نہیں ہو جائے گا۔‘‘

لشکر کو اپنے اپنے مقامات پر واپس بھیج کر اس نے چاہا کہ اپنے محافظ دستے کے ساتھ دور دراز کی پہاڑیوں پر گھوم پھر کر دشمن کی قوت کا اندازہ کرے جس کے متعلق خبر تھی کہ پانچ لاکھ سے زیادہ ہے کہ ملک الاطبا نے رکاب تھام لی۔

’’گھوڑے کی سواری سے تکان ہو گا جس سے مرض کی شدت میں اضافے کا اندیشہ ہے۔‘‘

’’مرض ۔۔۔ جہاد کے لیے ہتھیار لگا کر سوار ہوتے ہی مرض کندھے سے اتر کر رکاب تھام لیتا ہے ۔‘‘

ارسوف پر جھانکتی ہوئی سب سے اونچی پہاڑی کی جنوبی چوٹی کی مسطح زمین پر سلطانی مدور خیمہ نصب تھا جو شام کی برف باری کے شدید ترین موسم کی سب سے بڑی یلغار میں پتے کی طرح کانپ رہا تھا۔ تین دن تک موسلادھار بارش ہوئی تھی اور اس رات صبح سے برف گر رہی تھی۔ ایک ایک خیمہ، ایک ایک درخت، ایک ایک ذرہ سفید ٹھنڈی روئی کے گالے پہنے کھڑا تھا۔ وہ سمر قندی سمور کی قبا پہنے طربوش لگائے ایلینور کی کرسی پر بیٹھا طشت میں دہکتی آگ سے ہاتھ سینک رہا تھا۔ باہر تیز ہواؤں کے جھکر چل رہے تھے جس کی بھیانک آواز پر ہزاروں سواروں کی جست و خیز کا دھوکہ ہو رہا تھا۔ بارگاہ کے چاروں دروازوں پر مشعلوں اور ترکمانوں کا ہجوم تھا۔ اندر فانوس بجھ رہے تھے اور جلائے جا رہے تھے۔

دوسری کرسی پر بیٹھے ہوئے نورالدین حکمران کیفا نے عرض کیا:

’’کیا سلطان اعظم عسقلان کو ڈھا دینے کے فیصلے پر اٹل ہیں؟ ‘‘

’’آہ نورالدین۔۔۔تم نے کیا ذکرچھیڑ دیا۔ جب عسقلان کے ڈھانے کا تصور کرتے ہیں تو کانپ اٹھتے ہیں لیکن مسیحی فوج کے لیے جنگی اعتبار سے یہ شہر اتنا سفید ہے کہ ہم اسے زندہ نہیں دیکھ سکتے۔ ان کی ساری بحری قوت جو ہم سے کہیں مضبوط ہے اسی شہر کو مستقر بنا لے گی اور بیت المقدس تک دھاوے کرنے لگے گی۔ یعنی ہماری چڑھائیاں مدافعت میں تبدیل ہو جائیں گی ورنہ عسقلان۔۔۔عسقلان کی ایک ایک اینٹ کی حفاظت کے لیے ہم اپنے چہیتے بیٹے کا سر دے سکتے تھے ۔ مگر بیت المقدس کی حفاظت کیلئے عسقلان اپنے ہاتھوں سے مسمار کرنا پڑے گا۔ عسقلان کیا ہے ۔۔۔بیت المقدس کی حفاظت کیلئے دمشق اور قاہرہ تک بنیادوں سے اکھاڑ کر پھینکے جا سکتے ہیں۔‘‘

’’آپ نے رچرڈ کے نئے صلح نامے پر غور فرمایا؟ ‘‘

’’ہرگز نہیں، ہر گز نہیں، ہر گز نہیں۔ ‘‘

’’رچرڈ چاہتا ہے کہ جو کام چار لاکھ بکتر پوش نصرانیوں کی تلوار انجام نہیں دے سکی وہ اپنی بہن کے دو سفید بازوؤں سے پورا کر لے۔ ملک العادل سے اس کی بہن کی شادی کے معنی یہ ہوں گے کہ یروشلم کی ریاست وجود میں آئے گی جس پر عادل کے بجائے اس کی بیوی کی حکومت ہو گی ۔ افرنجیوں کی حکومت ہو گی اور پھر یہ ریاست پھیلتے پھیلتے مصروشام کی ہڑپ کرلے گی۔ اس منصوبے کا سب سے قاتل حصہ وہ ہے جب ملک العادل جیسا بے نظیر سپہ سالار اپنی عیسائی بیوی کے دام میں آکر ہمارے خلاف تلوار اٹھائے گا اور مصرو شام کو خانہ جنگی کے جہنم میں جھونک دے گا اور یروشلم کی ریاست کو ایک عظیم الشان سلطنت کے راستے پر ڈال دے گا۔ ‘‘

ایک ترکمان سردار نے اندر آکر گزارش کی۔

’’سپہ سالار ملک العادل باریابی چاہتے ہیں۔ ‘‘

اس کے سر کی جنبش دیکھ کر نورالدین بارگاہ کے باہر چلا گیا۔

ملک العادل نے بیٹھنے کی اجازت پا کر سمور کی ٹوپی اتار کر تپائی پر رکھ دی جس پر برف کے نرم ریزوں کی دھاریاں چمک رہی تھیں۔ پھر سر پر منڈھی ہوئی لوہے کی کڑیوں کی سنہری ٹوپی پر ہاتھ پھیرا اور ہمہ تن گوش ہو گئے۔

’’رچرڈ سے گفتگو کے لیے تم کب سوار ہو رہے ہو ؟ ‘‘

’’ہفتہ کا دن مقرر ہوا ہے اور آج چہار شنبہ ہے۔ ‘‘

’’انتظام ؟ ‘‘

’’رچرڈ نے اپنے لشکر سے ایک تیر کے فاصلے پر بارگاہ نصب کی ہے ۔ اس میں اپنے خدم وحشم کے ساتھ مقیم ہے وہیں مجھ سے ملاقات کرے گا۔ شرائط کے مطابق اس کی بارگاہ میں ایک ہزار مسلح سوار ہوں گے۔ میرا ایک ہزار کا محافظ دستہ اس کے چاروں طرف جہاں چاہے گا کھڑا ہو جائے گا باقی لشکر ایک تیر کے فاصلے پر مشرق میں قیام کرے گا۔‘‘

’’ماردین ، کیفا اور موصل کے حکمران اپنے مخصوص رسالوں کے ساتھ ہمر کاب ہوں گے تقی الدین ، تاج الملوک اور ملک الافضل یمن، دمشق اور قاہرہ کے امراء کے ساتھ دس ہزار سوار لے کر عقب میں رہیں گے اور ہمارے سر پر جلالِ ایوبی کا سایہ ہو گا۔ ‘‘

’’عادل جب رچرڈ ہم سے بہ نفس نفیس گفتگو کا مشتاق ہوا تو ہم نے قبول نہ کیا اس لیے کہ وہ ہمارے برابر کا بادشاہ نہیں۔ ہاں اگر فریڈ ریک زندہ ہوتا تو ہم ملاقات فرماتے۔ یہی سبب تھا کہ ہم نے رچرڈ کے سفیروں کو بھی باریاب نہیں کیا اور اپنے سفیر رچرڈ کے پاس روانہ نہیں فرمائے۔ اس منصب سے تم کو ممتاز کیا گیا۔ یہ بھی رچرڈ کا ااعزاز ہے کہ نائب السلطنت اور سپہ سالار ملک العادل اس سے مسادیانہ گفتگو کرے۔۔۔لیکن ہم رچرڈ سے ملنا چاہتے ہیں۔۔۔اس کو دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔اس سے باتیں کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

’’سلطان اعظم :

’’صلاح الدین کی حیثیت سے نہیں۔ ملک العادل کے نام سے ۔۔۔مگر اس میں تامل ہے ۔ رچرڈ کے ندیموں میں کوئی ایسا نہ ہو گا جو ہماری اور تمہاری آواز کے برائے نام فرق سے واقف ہو۔ ‘‘

’’سرکاری گفتگو کے وقت والیان ملک میں شاہ بالڈون ہو سکتا ہے لیکن مجھے یہ اندیشہ نہیں کہ وہ آپ کی آواز پہچان سکے۔ نجی گفتگو میں ہو گی اس لئے کہ رچرڈ نے رات کے قیام کا انتظام کیا ہے اور اس وقت ترجمان کے علاوہ کوئی بھی باریاب نہیں ہوسکتالیکن مجھے ایک عذر ہے ۔‘‘

’’کیا ‘‘

’’رچرڈ کیسا ہی سچا اور کھرا ہو لیکن وہ عیسائی ہے اور عیسائی بیت المقدس کے لئے سب کچھ کر سکتے ہیں۔ اگر غداری کی گئی تو سلطان کا ہر رکاب گیر عادل کی جگہ پوری کر سکتا ہے لیکن سلطان اعظم کا مقام پوری دنیائے اسلام میں صدیوں تک خالی رہے گا اور بیت المقدس کے علاوہ قاہرہ اور دمشق اور بغداد تک افرنجیوں کے علم لہرار ہے ہوں گے ۔ ‘‘

’’تمہاری دور اندیشی اور محبت سے اسی جواب کی توقع تھی۔ لیکن ہم فیصلہ کر چکے ۔ اور ہمارے فیصلے بدلا نہیں کرتے۔ جاؤ اور ہماری خفیہ روانگی کا انتظام کرو۔ ‘‘

روز مقررہ پر شام کے سرمائی سور ج کے طلوع ہونے کے چار گھڑی بعد ملک العادل حاضر ہوا اور اسے دیکھ کر دم بخود رہ گیا ۔ (جاری ہے )

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 29 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فاتح بیت المقدس -