سدا نہ باغیں بلبل بولے

سدا نہ باغیں بلبل بولے
 سدا نہ باغیں بلبل بولے

  

پچھلے کالم میں ذکریہ تھا کہ اگر سیاست دانوں، حکمرانوں خصوصاً سندھ کی سائیں سرکار کے حوالے سے کرپشن کارنامے سن اور پڑھ کر اگر آپ ڈیپریشن کے شکار ہوجائیں تو ’’زرداری نسخہ‘‘ استعمال کریں یعنی جناب آصف زرداری کے بتائے نسخہ پر عمل کریں یعنی یا تو ٹی وی بند کردیں یاٹی وی کا چینل تبدیل کرکے کوئی گیت دیکھنا شروع کردیں ، فوری افاقہ ہوگا۔ اسی نسخہ پر عمل کرتے ہوئے ایک گیت کا احوال تو بیان ہوچکا۔ اب ذکر ہوجائے دوسرے گیت اور اس سے جڑی داستان کا۔یہ الگ بات ہے کہ یہ داستان عبرت انگیز ہے کوئی تفریحی نہیں بہرحال ۔۔۔

لڑکپن میں ایک گیت سننے میں بہت اچھا لگتا تھا۔ ریڈیو کا زمانہ تھااور یہ گیت اکثر فرمائشی پروگراموں میں لگتا تھا۔ فلم تھی ’’ہمراز‘‘ اور آوازتھی’’ مہندر کپور‘‘کی۔ گیت کے بول تھے،’’نیلے گگن کے تلے دھرتی کا پیار پلے،ایسے ہی جگ میں آتی ہیں صبحیں ایسے ہی شام ڈھلے‘‘ یہ گیت یاد آیا تو جیسے ہی ’’سرچ بار ‘‘ میں لکھاتو الہ دین کے چراغ رگڑنے میں جن تو حاضر ہونے میں شاید کچھ دیر لگاتا ہو، مگر انٹر نیٹ کے جن نے دیر نہ لگائی اور فوراً ہی یہ گیت سکرین پر لا کھڑا کیا۔ سننے کی طرح یہ گیت دیکھنے میں بھی بہت اچھا لگا۔ دار جلنگ کے حسین اور دلفریب نظاروں کے ساتھ اداکار ’’راجکمار‘‘ اور اداکارہ’’ ومی‘‘ پریہ گیت فلمایاگیا تھا۔ جب آپ یو ٹیوب یا ایسی کسی سائٹ پر کوئی گیت یاپروگرام دیکھتے ہیں تو ساتھ ہی ایک سائیڈ پرکوئی دس بارہ اس جیسے گیت قطار باندھے کھڑے ہوتے ہیں کہ جناب ایک نظر ادھر بھی۔ اس گیت کو سنتے بلکہ دیکھتے ہوئے اسی فلم ’’ہمراز‘‘کا ایک اور گیت بھی قطار میں کھڑا نظر آیاجس کے بول تھے ’’تم اگر ساتھ دینے کا وعدہ کرو، میں یونہی مست نغمے لٹاتا رہوں‘‘ یہ گیت بھی پہلے گیت کی طرح حسین نظاروں کے ساتھ کانوں میں رس گھول رہا تھا ،لیکن سین میں اب ’’ومی‘‘ کے ساتھ راجکمار کی بجائے اداکار سنیل دت تھے ۔ اس گانے کے بولوں میں ایک ٹکڑا تھا،’’میں نے خوابوں میں برسوں تراشا جسے، تم وہی سنگ مر مر کی تصویر ہو‘‘ غور سے دیکھا تو اداکارہ و می واقعی ’’سنگ مرمرکی تصویر‘‘ ہی دکھائی دی۔ مدھوبالا، وجنتی مالا، ہیمامالنی، سادھنا ، مینا کماری تو سبھی کی جانی پہچانی تھیں اور ان سب کی ’’بائیوگرافی‘‘ سب کو معلوم ہے ،لیکن یہ خوبصورت اور حسین ’’ومی‘‘ کون ہے، کہاں سے آئی اور اب کدھر ہے؟انٹر نیٹ سے جو کھوج نکالی گئی اس کی مختصر کہانی آپ کی خدمت میں پیش ہے ۔

پیدائش 1943ء ، جالندھر ٖ(پنجاب)۔صوفیہ کالج ممبئی سے گریجوٹ اور ہارڈوئر انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے کلکتہ کے مشہور کاروباری شخص’’ شو اگروال‘‘ کی بیگم اور ایک خوبصورت بیٹے راجنش کی ماں ،ا نتہائی پرسکون اورخوش وخرم زندگی گزار رہی تھی ۔ بہترین رہائشی اپارٹمنٹ ، جدید فیشن کے مطابق لائف سٹائل، گولف اور بلیئرڈکھیلنا اور سپورٹ کار پر لمبی ڈرائیو پر جاتی نظر آنا، یہ معمولات تصدیق کرتے تھے کہ وہ ایک خوش قسمت اور مطمئن خاتون ہے۔ موسیقار روی اس زمانے کے مقبول اور مشہور موسیقار تھے۔ کلکتہ میں کسی کے ہاں دعوت میں وہ مدعو تھے جہاں ومی اور ان کے شوہر بھی آئے ہوئے تھے۔اس زمانے میں مشہور ہدایت کار ’’بی آر چوپڑہ‘‘اپنی نئی فلم کے لئے کسی نئے اور خوبصورت چہرے کی تلاش میں تھے۔ روی نے اس جوڑے کوممبئی آنے کی دعوت دی جو قبول کرلی گئی ۔بی آر چوپڑہ نے پہلی ملاقات میں ہی ومی کواپنی نئی فلم ’’ہمراز‘‘ میں بطور ہیروئن کاسٹ کرلیا۔اس زمانے کے دو سپر سٹاراجکمار اور سنیل دت بھی بطور ہیرو اس فلم کی کاسٹ میں شامل تھے۔ اس کے خاوند شو اگروال نے اس کا ساتھ دیا،لیکن ومی کے والدین اور رشتہ داروں کو جب اس کے فلموں میں کام کرنے کی اطلاع ملی تو انہوں نے اس کی شدید مخالفت کی ، بعد ازاں یہ کہہ کر ان سے قطع تعلق کرلیا کہ یہ جوڑا بدکار اور بے حیا ہے۔ ساحر لدھیانوی کی شاعری اور روی کی بہترین موسیقی سے آراستہ،سسپنس اور تھرلر کہانی اور دارجلنگ کے خوبصورت علاقے میں فلمائی گئی فلم ’’ہمراز‘‘ 1967 ء میں نمائش کے لئے پیش کی گئی اور بلاک بسٹر سپرہٹ ثابت ہوئی ۔ ومی راتوں رات شہرت کے ساتویں آسمان پر پہنچ گئی ۔ ہر بڑے فلمی میگزین میں اس کی تصاویر نمایاں انداز میں شائع ہونا شروع ہوگئیں۔ فوراً ہی تین چار فلمیں ومی کو مل گئیں اور ہر جگہ ومی کو ’’وی آئی پروٹوکول‘‘ ملنا شروع ہوگیا۔ جلد ہی اس کے اپنے خاوند سے اختلافات شروع ہوگئے، کیونکہ اس نے اس کے فلمی معاملات میں دخل اندازی شروع کردی تھی۔ اس نے کہانی اور کرداروں میں بھی اپنی مرضی چاہی اور تبدیلی کامطالبہ کرنا شروع کر دیااس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نئے فلمساز محتاط ہوگئے اور ایک فلم سے اسے نکال بھی دیا گیا۔ اختلافات بڑھے تو خاوند نے اسے طلاق دے کر بیٹا پاس رکھ لیا اور اس سے مکمل طور پر قطع تعلق کرلیا۔ والدین اور رشتہ دار پہلے ہی چھوڑ چکے تھے لہذٰا وہ فلمی دنیابلکہ اس دنیا میں مکمل طور پر تنہا اور آزاد ہوگئی ۔کامیابی اور شہرت کا اپنا ایک نشہ ہوتا ہے اور ومی اس نشے سے لطف اندوز ہورہی تھی ۔ اخبارات اور نگارخانوں، ہر جگہ ومی کے چرچے تھے اور شائقین کو اس کی اگلی فلم کا انتظار۔ 1968ء میں اس کی فلم ’’آبرو‘‘ ریلیز ہوئی جس کی بہت بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی تھی ،لیکن اس سب کے باوجود یہ فلم فلاپ ہوگئی اور اس کی ایک وجہ ومی کی اداکاری بھی بنی۔ عقدہ یہ کھلا یہ ومی کی واحد خوبی صرف اس کا حسین ہونا ہے، اسے اداکاری نہیں آتی۔ ’’ہمراز‘‘ میں ،اس لئے اس کا بھرم رہ گیا کہ اس کا کردار ہی ’’شوپیس‘‘ قسم کا تھا، صرف ایک حسین بت کی طرح کا۔ ناکامی کا یہ جھٹکا اس کے لئے ذہنی جھٹکا بھی ثابت ہوااور اس نے شراب نوشی شروع کردی۔ ایک چھوٹی کلاس کا فلم میکر ’’جولی‘‘ اس کا دوست بن کر اس کے ساتھ رہنے لگااور اس کے فلمی معاملات دیکھنے لگا،لیکن جلد ہی وہ اس سے بھی الگ ہوگئی ۔ اس کی تیسری اور چوتھی فلم بھی فلاپ گئی۔ وہ بال بال قرضوں میں ڈوب گئی اور چھوٹے سے ایک دو کمروں کے فلیٹ کا کرایہ دینا بھی اس کے لئے مشکل ہوگیا ۔خاوند کی طرف اس کا ایک کاروبار ’’ومی ٹیکسٹائلز‘‘ کے نام سے کلکتہ میں اس کے نام تھا۔ قرضوں سے خلاصی کے لئے اس کا یہ واحد اثاثہ بھی بک گیا۔ ’’ہمراز‘‘ کے بعداس کی یکے بعد دیگرے سات فلمیں نمائش پذیر ہوئیں ،لیکن سبھی فلاپ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مکمل طور پر فلموں سے آؤٹ ہوگئی ۔ساتھ ہی اخبارات اور رسائل میں بھی اس کا ذکر بند ہوگیا۔ وہ بے تحاشا شراب پینے لگی۔ آمدنی کا ذریعہ نہ رہا۔ اس کا حسن بھی اس کا ساتھ چھوڑ گیا۔ زیادہ شراب نوشی کی وجہ سے اس کو پتے اور دیگر بیماریوں نے آگھیرا۔اس کے پاس ایک پھوٹی کوڑی نہ رہی ۔کسی نے اس کو ناناوتی اسپتال ممبئی کے جنرل وارڈ میں داخل کرادیاجہاں وہ انتہائی عدم دیکھ بھال ، عدم چاہت اور کسی اپنے کی عدم موجودگی کے عالم میں 22 اگست 1977ء کو انتقال کرگئی ۔ اخبارات اور میگزین جو 1967ء میں اس کی ہر ادا پر مرے جارہے تھے ،لیکن صرف دس سال بعد جب وہ مری تو کسی بھی اخبار نے اس کا نمایاں ذکر نہیں کیا۔ انتہائی عبرت انگیز امر یہ ہے کہ عالی شان گاڑیوں میں لمبی ڈرائیو پر جانے والی کے لئے ’’اصل ڈرائیو‘‘ پر جانے کے لئے کوئی گاڑی نہیں تھی ۔ اس موقع پراس کا سابق دوست ڈولی اور اس کے دو ساتھی ایک چنے بیچنے والے کا ٹھیلہ لے کر آئے اور ومی کی لاش کو اس ٹھیلے پر رکھ کر شمشان گھاٹ چھوڑ آئے۔

حُسن والے حُسن کا انجام دیکھ

ڈوبتے سورج کو وقت شام دیکھ

میاں محمد بخشؒ نے سچ کہا ہے کہ

سدا نہ باغیں بلبل بولے سدا نہ باغ بہاراں

سدا نہ ما پے حسن جوانی سدا نہ صحبت یاراں

مزید :

کالم -