مولانا عبیداللہ سندھیؒ اور ان کی والدہ پریم کور

مولانا عبیداللہ سندھیؒ اور ان کی والدہ پریم کور
 مولانا عبیداللہ سندھیؒ اور ان کی والدہ پریم کور

  

مولانا عبیداللہ کے نام کے ساتھ سندھی کا لاحقہ لگا ہوا ہے اور وہ مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے نام سے جانے جاتے ہیں، لیکن وہ سندھ کے رہنے والے نہیں تھے، بلکہ ان کا تعلق سیالکوٹ سے تھا۔ سیالکوٹ کے قریب ایک گاؤں چیانوالی کے نام سے ہے، مولانا کی پیدائش اسی گاؤں میں ہوئی۔ ان کی والدہ کا نام پریم کور تھا ۔ وہ سکھ گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کے شوہر کا نام رام سنگھ تھا۔ وہ بھی سکھ تھے۔ 10 مارچ 1872 ء کی صبح اللہ تعالیٰ نے پریم کور کو بیٹا عطا کیا ۔ پریم کور ابھی امید ہی سے تھی کہ اس کے شوہر رام سنگھ کا انتقال ہو گیا۔ اب بچے کی پرورش کی ذمہ داری پریم کور کے سسر کے ذمہ آ گئی۔ دادا نے اپنے پوتے کا نام بوٹا سنگھ رکھا،لیکن قدرت کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں۔ ابھی پریم کور کا بیٹابہت ہی چھوٹا تھا کہ دادا کا سہارا بھی سر سے اٹھ گیا۔ پریم کور اب کیا کرتی؟اس نے سیالکوٹ کی سکونت چھوڑی ، اس کے دو بھائی تھے، ایک کا نام بڈھا سنگھ، دوسرے کا نام سدھا سنگھ تھا۔ یہ جام پور ضلع ڈیرہ غازی خاں میں رہتے تھے۔ دونوں بھائیوں نے پریم کور کو اپنے پاس بلا لیا۔ پریم کور اپنے بیٹے بوٹاسنگھ کو لے کر ان کے پاس چلی آئی اور جام پورہی میں رہنے لگی۔ جب بوٹا سنگھ سکول جانے کے قابل ہوا تو اس کو جام پور ہی کے سکول میں داخل کروا دیا گیا۔ اس طرح بوٹا سنگھ کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

سکول میں بوٹا سنگھ کی دوستی آریا سماجی طالب علم سے ہو گئی۔ اس کے دوست کو کتابیں پڑھنے کا شوق تھا۔ بوٹا سنگھ نے ایک دن اس کے ہاتھ میں ایک کتاب دیکھی ۔ اس کتاب کا نام تحفۃ الہند تھا۔بوٹا سنگھ نے اسے کہا کہ مجھے یہ کتاب چند روز کے لئے دو ۔یہ کتاب ایک نومسلم شخص عبداللہ کی لکھی ہوئی تھی۔ یہ مالیر کوٹلہ کے رہنے والے تھے۔ بوٹا سنگھ نے یہ کتاب چند رو ز میں پڑھ لی تو اسے مزید مطالعے کا شوق ہوا۔ اس نے دوسری کتاب تقویۃ الایمان پڑھی۔ یہ کتاب شاہ ولی اللہؒ کے صاحبزادے شاہ اسماعیل شہید کی لکھی ہوئی تھی۔ یہ کتاب پڑھ کر بوٹا سنگھ کے دل میں اسلام کی محبت پیدا ہوئی۔ اب اس کو اسلام کے بارے میں مزید مطالعہ کی لگن پیدا ہوئی۔ اس نے تیسری کتاب احوال الآخرت کا مطالعہ کیا۔ اس کتاب سے بوٹاسنگھ کے دل میں عقیدۂ آخرت کی صداقت کھل گئی۔اب اس کے دل میں اسلام قبول کرنے کا داعیہ پیدا ہو گیا۔ اس نے اپنے اس خیال کو دل میں چھپائے رکھا، لیکن چپکے چپکے نماز پڑھنا شروع کر دی۔ ایک بار اس کی والدہ پریم کور نے اس کو کمرے میں نماز پڑھتے دیکھ لیا۔ بس پھر کیا تھا، پریم کور نے اپنا سر پیٹ لیا اور زور زور سے شور مچانے لگی کہ بوٹا سنگھ نے دھرم بدل لیا۔اس کے ماموں اور والدہ بوٹا سنگھ کو نماز پڑھنے سے روکتے۔ والدہ نے بھی بوٹا سنگھ کا بہت تعاقب کیا۔ اب بوٹا سنگھ کااپنے ماموں اور والدہ کے ساتھ رہنا مشکل ہو گیا ، گھر سے بھاگ کھڑا ہوا اور کوٹلہ رحمے شاہ ضلع مظفر گڑھ آ گیا۔

یہاں آ کر اس نے باقاعدہ مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا اور اپنا نام مولوی عبید اللہ کے نام پر عبیداللہ رکھ لیاکیونکہ یہ نام تحفۃ الہند کے مؤلف عبیداللہ کا تھا، لہٰذا بوٹا سنگھ نے یہی نام اپنے لئے چنا۔ اب بوٹا سنگھ، بوٹا سنگھ نہیں، بلکہ عبیداللہ ہو گیا تھا۔ اسے معلوم ہوا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد ختنہ کرانا بھی ضروری ہے، لہٰذا اس نے مظفر گڑھ ہی میں یہ معرکہ بھی سر کر لیا۔ اب عبیداللہ کو اسلام کے بارے میں مزید علم حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوا، اسے کسی نے بتایا کہ سندھ میں ایک جگہ بھرچونڈی شریف ہے۔ وہاں حافظ محمد صدیق نامی اللہ والے رہتے ہیں، ان کی خدمت میں چلے جاؤ۔ عبیداللہ درگاہ بھر چونڈی شریف پہنچ گیا اور وہاں حافظ محمد صدیق صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان کو اپنی تمام کہانی سنائی۔ حافظ محمد صدیق صاحب نے عبیداللہ کو بڑی محبت دی، بہت عزت افزائی کی اور اپنے تمام مریدوں کو جمع کیا اور کہاعبیداللہ نے اسلام کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑا ہے۔ آج سے میں اسے اپنا بیٹا بناتا ہوں۔ میری اولاد نہیں، یہی میری اولاد ہے۔ اسی مجلس میں عبیداللہ نے اعلان کیا کہ میرے مرشد نے مجھے اپنا بیٹابنا لیا ہے، میں بھی اعلان کرتا ہوں کہ میں آج کے بعد اپنے مرشد کے حوالے سے سندھی کہلاؤں گا۔اس طرح عبیداللہ سندھی کہلانے لگا۔ آج دنیا اسی عبیداللہ کو مولانا عبیداللہ سندھی کے نام سے یاد کرتی ہے۔

ایک روز مولانا عبیداللہ سندھی نے اپنے مرشد حافظ محمد صدیق سے عرض کی کہ میں نے آپ کی خدمت میں رہ کر سلوک و تصوف کا درس لیا ہے۔آپ کی صحبت نے میرے من کی دنیا بدل دی ہے۔اب میرا دل علوم عقلیہ و نقلیہ حاصل کرنے کی طرف راغب ہو رہا ہے تاکہ مجھے دیگر دینی علوم کا پتہ چلے۔ مرشد خوش ہوئے ، ان کے مرشد نے کہا کہ برصغیر میں دینی علوم کی بہت بڑی درس گاہ دار العلوم دیوبند ہے، پوری دنیا سے لوگ دینی علوم کی تحصیل کے لئے یہاں آتے ہیں اگر تم بھی دینی علوم سے مالا مال ہونا چاہتے ہو تو دار العلوم دیو بند جا کر علم دین سیکھو۔ عبیداللہ سندھی نے دارالعلوم دیوبند جانے کا قصد کیا۔ وہاں ان کی ملاقات مولانا محمود حسن سے ہوئی۔ مولانا نے ان کے احوال پوچھے اور محسوس کیا کہ عبیداللہ بہت کمالات کا حامل طالب علم ہے اور اس پر بھر پور توجہ دی، علوم سے بہرہ ور کیا۔ مولانا محمود حسن تحریک آزادی کے سرخیل تھے۔ ان کو برصغیر میں انگریزوں کا تسلط قطعاً پسند نہ تھا۔ انہوں نے یہی تڑپ اپنے شاگرد عبیداللہ میں پیدا کی۔ عبیداللہ سندھی بھی اپنے استاد پر جان چھڑکتے تھے۔ یہاں سے مولانا عبیداللہ سندھی کی زندگی کا نیا دور شروع ہوااور ان کی زندگی میں بڑے اتار چڑھاؤ آئے۔ اور وہ دنیا میں مسلمانوں کے عظیم لیڈر بن کر ابھرے۔

مزید :

کالم -