اسلامی اتحاد میں شمولیت ریاست کا فیصلہ

اسلامی اتحاد میں شمولیت ریاست کا فیصلہ
اسلامی اتحاد میں شمولیت ریاست کا فیصلہ

  



سعودی عرب کی زیر قیادت دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے تشکیل دیئے گئے اسلامی فوجی اتحاد میں پاکستان، ترکی، مصر، انڈونیشیا، اردن، متحدہ عرب امارات، سوڈان، تیونس، قطر اور ملائشیا سمیت اسلامی دنیا کے39 ممالک شامل ہیں۔ اس اتحاد کا آپریشنل مرکز سعودی دارالحکومت الریاض میں ہو گاجہاں سے نہ صرف دنیا بھر میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی مانیٹرنگ کی جائے گی، بلکہ اس لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے مشترکہ طور پر عملی اقدامات بھی کئے جائیں گے۔ سعودی عرب میں مسلمان ملکوں کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں دہشت گردی کی بیخ کنی اور عالمی امن وسلامتی کو یقینی بنانے کے لئے موثر حکمت عملی وضع کرنے کے ساتھ ساتھ دوست ممالک میں باہمی رابطوں کو مزید بہتر بنانے پر بھی اتفاق کیا گیاکہ انسانیت کے خلاف وحشیانہ جرائم اور فساد فی الارض ناقابل معافی جرائم ہیں جو نہ صرف انسانی نسل کی تباہی کا موجب بن رہے ہیں ،بلکہ بنیادی حقوق کی پامالی اور انسانی عزت و احترام کے لئے بھی نہایت خطرناک ہیں۔

دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے تمام مسلمان ممالک سعودی عرب کی قیادت میں متحد ہیں اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں پاکستان ، سعودی عرب اور ترکی سمیت مسلم دنیا کے اہم ممالک اس وقت اندرونی سازشوں کا شکار ہیں اور دشمنان اسلام‘ مسلم ملکوں و معاشروں میں امن و امان کی بربادی کے لئے تکفیر اورخارجیت کا فتنہ پروان چڑھانے کے لئے بے پناہ وسائل خرچ کر رہے ہیں۔سعودی عرب میں مساجد وامام بارگاہوں میں خودکش حملے ہوں، پاکستان میں افواج، عسکری اداروں ، مساجداور پبلک مقامات پر بم دھماکے ہوں یا کسی دوسرے اسلامی ملک میں اس نوع کی دہشت گردی ہو، تمام واقعات کے پیچھے دشمن قوتوں کاہاتھ کارفرما نظر آتا ہے۔ مغربی ممالک خود ہی دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرتے ہیں۔ مسلم ملکوں میں افواج و دفاعی اداروں پر حملے کروائے جاتے ہیں‘ بے گناہ انسانوں کا لہو بہانے کے لئے ہر طرح کی مدداور وسائل فراہم کئے جاتے ہیں اور پھرکچھ عرصہ بعد انہی دہشت گرد تنظیموں کا قلع قمع کرنے کے بہانے مسلم ملکوں میں مداخلت کر کے انہیں عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

یہ بہت بڑی سازش ہے جو پچھلے کئی برسوں سے کی جارہی ہے۔پہلے نائن الیون کا ڈرامہ رچاکر حملہ آوروں کا تعلق مختلف مسلم ملکوں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی اور پھر صلیبی ملکوں کا بڑ ااتحاد بنا کر افغانستان پر چڑھائی کر کے بڑی تعداد میں مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا۔ عراق میں بھی یہی کھیل کھیلا گیا۔ دس لاکھ سے زائد عراقی مسلمانوں کو شہید کر کے اپنی پسند کے لوگوں کو وہاں اقتدار دلوایا اور بعد میں ٹونی بلیئر جیسے برطانوی حکمران معافیاں مانگتے نظر آتے ہیں کہ عراق پر حملہ کے لئے جو الزامات لگائے گئے تھے وہ ثابت نہیں ہو سکے اسی حملہ کے نتیجہ میں داعش وجود میں آئی ہے۔ پہلے نائن الیون حملہ کی بنیاد پر دو مسلم ملکوں میں خون کی ندیاں بہائی گئیں۔پاکستان میں دہشت گردی کے خوفناک سلسلے پروان چڑھائے گئے اور اب داعش کے خاتمہ کے نام پر شام میں بے گناہ سنی مسلمانوں کا خون بہایا جارہا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کو جب بھی میدانوں میں فتح حاصل ہوئی ہے ‘ کفار کی جانب سے مسلم معاشروں میں فتنہ تکفیر اور خارجیت کو پروان چڑھایا گیا۔حال ہی میں افغانستان میں اتحادیوں کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تواس خطہ میں بھی داعش جیسی تنظیموں کی آبیاری کی جارہی ہے، تاکہ فرقہ وارانہ قتل و غارت گری، دہشت گردی وتخریب کاری کا سلسلہ چلتا رہے اور اسلام دشمن قوتوں کے مذموم مقاصد پورے ہوتے رہیں۔ ایسی صورتحال میں مسلم ممالک کے ایک بڑے اتحاد اور مسلم معاشروں میں دہشت گردی پھیلانے والی تنظیموں کے خلاف مشترکہ طور پر عملی اقدامات کی بہت زیادہ ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ سعودی عرب کی زیر قیادت بننے والا فوجی اتحاد جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے اکتالیس اسلامی ممالک شامل ہیں‘انتہائی خوش آئند اور پوری مسلم امہ کے دل کی آواز ہے۔پاکستان اور سعودی عرب پہلے بھی دہشت گردی کے اس فتنہ کو ختم کرنے کے لئے بھرپور انداز میں کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں افواج پاکستان کے سپہ سالار جنرل(ر) راحیل شریف کی قیادت میں آپریشن ضرب عضب نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی اور بیرونی قوتوں کی مداخلت کے نیٹ ورک بکھر کر رہ گئے ہیں۔اسی طرح سعودی عرب میں بھی دہشت گردوں کی بڑی تعداد میں گرفتاریاں کی گئی ہیں اور سعودی فورسز کو اہم کامیابیاں حاصل ہور ہی ہیں۔

امام کعبہ الشیخ عبدالعزیز سمیت دنیا بھر کے علماء کرام نے مسلم ملکوں میں خود کش حملوں کو حرام قرار دیا او ر داعش جیسی تنظیموں کے نظریات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے نوجوان نسل کو ان سے بچانے کی ترغیب دی ہے۔ اس حوالہ سے یقینی طور پر نظریاتی محاذ پر بھی سرگرم کردار ادا کیا جائے گا۔ بہرحال فوجی اتحاد میں پاکستان اور سعودی عر ب کا کردار سب سے اہم دکھائی دیتا ہے۔آپریشن ضرب عضب میں اللہ تعالیٰ نے پاکستانی فوج کو جن کامیابیوں سے نوازا ہے‘ اس کے فوائد ان شاء اللہ دیگر مسلم دنیا کو بھی حاصل ہوں گے اور دوسرے اسلامی ملکوں سے بھی دہشت گردی کا خاتمہ کرنے میں مدد ملے گی۔سعودی عرب کے نائب ولی عہد او روزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے واضح طورپر کہا ہے کہ مسلم ممالک کا یہ اتحادصرف داعش کے خلاف نہیں ، بلکہ دہشت گردی کی شکل میں پھیلنے والی برائی میں ملوث ہرگروپ کے خلاف پوری قوت سے جنگ لڑی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی لعنت سے نمٹنے کے لئے امریکہ و یورپ، چین اور ایران سمیت سب کو کوششیں کرنی چاہئیں۔ ان ممالک کے اختلافات کے سبب داعش کو فائدہ اور طاقت ملی ہے۔

اسی طرح سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیرسے جب اس اتحاد کے قیام اور مقاصدسے متعلق سوالات پوچھے تو ان کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک کا یہ اتحاد داعش کے خلاف جنگ کے لئے معلومات کا تبادلہ کرے گا،فورسز کو تربیت دے گا، انھیں مسلح کرے گا اور ضروری ہوا توزمینی فوج بھی بھیجی جاسکتی ہے۔اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ بھی خارج ازامکان نہیں ہے، تاہم اس کا انحصار مسلم ممالک کی جانب سے درخواست اور ضرورت پر ہے۔سعودی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیا اتحاد سنی یا شیعہ نہیں۔ دہشت گرد خواہ کسی بھی فرقہ اور گروہ سے تعلق رکھتے ہوں، روئے زمین پر تباہی اور فساد پھیلانے والوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی ہو گی۔ سعودی وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کی گفتگو سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلامی ممالک کا یہ اتحاد دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے پوری قوت صرف کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم حکومتیں سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلامی ملکوں کے اتحاد کی کامیابی کے لئے بھرپور انداز میں کوششیں جاری رکھیں اور اس حوالہ سے کسی قسم کے بیرونی دباؤ کو خاطر میں لانے کی بجائے مسلم ملکوں کے اپنے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں ترتیب دی جائیں۔اب تو آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھی کہہ دیا ہے کہ اسلامی فوجی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت اور جنرل (ر) راحیل شریف کو اس کی سربراہی قبول کرنے کی اجازت دینا ریاست کا فیصلہ ہے۔ اس لئے اب اسلامی فوجی اتحاد کے خلاف مذموم پروپیگنڈا کا سلسلہ مکمل طور پر بند ہونا چاہیے۔ مسلمان ملک باہم متحدہوں گے تو اللہ تعالیٰ آسمانوں سے رحمتیں و برکتیں نازل کرے گا اور مسلم امہ کو کامیابیوں سے نوازے گا۔

مزید : کالم