آزادی ،انقلاب مارچ نے ماں بیٹے کو جدا کر دیا

آزادی ،انقلاب مارچ نے ماں بیٹے کو جدا کر دیا
آزادی ،انقلاب مارچ نے ماں بیٹے کو جدا کر دیا

  

 اسلام آباد (ویب ڈیسک)  وفاقی دارالحکومت سیل ہونے کے باعث بیٹا بیمار ماں کی تیماداری کےلئے میلوں پیدل سفر کے باوجود اسلام آباد میں داخل نہ ہو سکا اور حکومت، عمران خان اور طاہر القادری کو جھولیاں اٹھا کر بددعائیں دیتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔تفصیلات کے مطابق گلیات ہزارہ کے محمد سدھیر کی والدہ پمز ہسپتال میں داخل تھی ۔ وہ ماں کے علاج کےلئے پیسے لینے اپنے آبائی گھر گیا تھا لیکن اسکی واپسی پر اسلام آباد کو سیل کر دیا گیا، میلوں سفر پیدل طے کرکے وہ روال جھیل کے قریب لگائے کنٹینرز کے پاس پہنچا تو پولیس نے آگے جانے سے روک دیا۔ سدھیر نے پولیس کی منت سماجت کی اور موقع پر موجود سب انسپکٹر کو اپنی مجبوری سے آگاہ کیا مگر مذکورہ انسپکٹر نے اسے آئی جی اور وزیر داخلہ سے رابطہ کرنے کا کہا، سدھیر کا کہنا تھا مجھے لانگ مارچ و انقلاب سے غرض نہیں، نوازشریف اور عمران خان کے اپنے مسائل ہیں، مجھے ماں کی خدمت عزیز ہے ایسی حکومت کبھی نہیں رہ سکتی جو ایک بیٹے کو ماں کی تیمارداری سے روکے۔

مزید :

اسلام آباد -