جنت الفردوس میں منایا گیا یومِ آزادی

جنت الفردوس میں منایا گیا یومِ آزادی
جنت الفردوس میں منایا گیا یومِ آزادی

  

گزشتہ سال تک ہم زمین پر باقی ہم وطنوں کی طرح اپنے گلی کوچوں میں، اپنے گھروں میں، اپنے سکولوں میں14اگست کو جھنڈیاں لگاکر جشن آزادی منایا کرتے تھے۔۔۔ لیکن ہم ’’شہدائے پشاور‘‘ یہاں جنت الفردوس میں پہلی بار جس شاندار طریقے سے اپنا جشنِ آزادی منا رہے ہیں، وہ بیان سے باہر ہے۔ہر طرف نرم و گداز مخملیں قالین بچھے ہوئے ہیں۔ بہتے ہوئے دھاروں اور گنگناتی آبشاروں کے درمیان نہایت خوبصورت وسیع و عریض سر سبز میدان ہے، جس میں نقرئی نشستوں پر اہلِ جنت جلوہ افروز ہیں۔ ہم شہدائے پشاور نے خصوصی طور پر سبز اور سفید لباس زیب تن کیا ہوا ہے۔ ہر طرف بے مثال چہل پہل ہے، تا حدِ نگاہ ہر طرف نور کی بارش ہو رہی ہے۔ حُور و غلمان مہمانوں کے استقبال میں مصروف ہیں۔ میرا نام خولہ ہے میں صرف ایک ہی دن سکول جا سکی، پھر اسی دن سکول سے گھر جانے کی بجائے سیدھی اللہ تعالیٰ کے پاس جنت الفردوس میں آگئی۔ آج مَیں نے بھی اپنے دوستو ں کی طرح پاکستان کا قومی پرچم لپیٹا ہوا ہے چاروں طرف سبز ہلالی پرچموں کی بہار ہے، ہر کوئی شاداں ہے۔ اگر چہ ہمارے ماما پاپا ہمارے ساتھ نہیں ہیں، مگر بہت سے انکل اور آنٹیاں ہماری دیکھ بھال کر رہے ہیں، وہ بھی ہمارے ساتھ کھیل کود میں مصروف ہیں۔۔۔ مَیں عبداللہ آفریدی ہوں، چاہتا تھا بڑا ہو کر شاہد آفریدی کی طرح کا کرکٹر بنوں، لیکن 16دسمبر 2014ء کو مجھے اپنا سکول اور دُنیا چھوڑ کر یہاں آنا پڑا، اب میں یہاں جی بھر کر کرکٹ کھیلتا ہوں۔ شاہد آفریدی کی طرح زور دار چھکے مارتا ہوں اور ہاں یہاں جتنی بھی زور دار ہٹ لگاؤں گیند گم نہیں ہوتا، کسی کے گھر میں بھی گیند جائے فوراً واپس مل جاتا ہے۔

میرا نام فرقان حیدر ہے، ماں باپ نے میرا نام حیدر اِس لئے رکھا تھا کہ مَیں بہت بہادر ہوں۔ 16دسمبر کو بھی مَیں نے بزدل دہشت گردوں کے حملے میں داد شجاعت دی تھی، مَیں چھپنے کی بجائے ایک دہشت گرد سے اُس کی بندوق چھیننے کی کوشش کر رہا تھا کہ اچانک گولی چل گئی اور مَیں یہاں آ گیا۔۔۔اور مَیں شاہ رخ ہوں، میری ماں نے میرا نام شاہ رخ اس لئے رکھا تھا کہ مَیں بہت خوبصورت ہوں۔ 16دسمبر 2014ء کو درندہ صفت دہشت گردوں نے شاید میری ماں کامان توڑنے کے لئے میرے چہرے پر گولیاں ماریں تاکہ میرا چہرہ مسخ ہو جائے اور میری ماں مجھے خوبصورت، یعنی شاہ رخ نہ کہے، لیکن یقین جانیں میاں میرا چہرہ یہاں آنے کے بعد زیادہ خوبصورت ہو گیا ہے، اور یہ بات ان ظالموں کو بھی بتادو کہ تمہارے شاہ رخ کی خوبصورتی درندگی کا شکار ہو کر کئی گنا بڑھ گئی ہے۔مَیں ضیاء الاسلام ہوں، میرے نام کا مطلب ہے اسلا م کی روشنی۔ میرے ماں باپ کے خیال میں مَیں ایک بہت نیک بچہ تھا اور مَیں نے دہشت گردوں کو بتایا بھی کہ میرے نام کا مطلب کیا ہے، مگر دہشت گردوں نے کہا ہم اسلام کی روشنی ختم کرنے کے لئے ہی تو یہاں آئے ہیں، تو پھر ہم تمہیں کیوں چھوڑیں۔۔۔مَیں 20 سالہ وسیم خان ہوں، وہی خوبصورت سرخ و سفید وسیم، جس کے باپ کو آپ لوگوں نے ٹی وی پر یہ کہتے سُنا کہ مَیں نے اپنے وسیم کو20سال لگا کر بڑا کیا اور درندوں نے 20منٹ میں سب کچھ ختم کر دیا، لیکن پاپا مَیں تو ختم نہیں ہوا، مَیں تو بس آپ سے اور ماما سے کچھ دن کے لئے دور ہو گیا ہوں۔مَیں تو یہاں جنت کے دلفریب نظاروں کا ہر وقت مشاہدہ کرتا رہتا ہوں۔

مَیں طاہرہ قاضی ہوں، پشاور آرمی سکول کی پرنسپل، مَیں چونکہ ایک ماں بھی ہوں، ایک عورت بھی اور پرنسپل ہونے کے ناطے میرا یہ فرض بھی تھا اس لئے مَیں نے دہشت گردوں کو بہت دیر تک اپنے پھولوں کو مسلنے سے روکے رکھا۔۔۔ آپ جانتے ہیں نا کہ جب باغ میں آندھی اور طوفان آتا ہے تو سب سے زیادہ تکلیف مالی کو ہوتی ہے، کیونکہ اس نے شب و روز کی محنت شاقہ سے اپنے پھولوں اور پودوں کی آبیاری کر کے انہیں لہلہانا سکھایا ہوتا ہے، اِسی لئے جب 16دسمبر 2014ء کو میرے باغ میں نحوست اور وحشت کی آندھی چلی تو مَیں فوراً اپنے باغ کے مہکتے ہوئے پھولوں اور خوبصورت کلیوں کو بچانے کے لئے ڈٹ گئی۔ بہت دیر تک ایک عورت ہونے کے باوجود شقی القلب حملہ آوروں کے سامنے ڈھال بن کر کھڑی رہی۔ مَیں اپنے بچوں کو چھوڑ کر بھاگ نہیں سکتی تھی، ہمیشہ ان کے ساتھ رہتی تھی۔ اس روز بھی اُن کے ساتھ رہی اور آج بھی میں اپنے ان پھولوں کے ساتھ ہوں۔

ہم تمام شہدائے پشاور یومِ آزادی کے موقع پر اپنے ہم وطنوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ آپ لوگ ہماری یاد میں آنسو ہرگز نہ بہائیں، بلکہ امن کے دشمن دہشت گردوں کا لہو بہائیں۔ خدا کے لئے اِسی اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کریں، جس کا مظاہرہ آپ نے16دسمبر 2014ء کے سانحہ کے بعد کیا تھا۔ اُسی بے مثال یکجہتی کے ساتھ وطن دشمنوں کے ساتھ جنگ جاری رکھیں۔ ہم خوش ہیں کہ ہماری قربانیوں کے نتیجے میں ہماری قوم دہشت گردی کے خلاف یک زبان ہو گئی ہے، لیکن سُنا ہے کہ اب پھرکچھ حلقوں میں دہشت گردوں کے حوالے سے نرم آوازیں پیدا ہونا شروع ہو گئی ہیں، کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ کچھ اور بچے بھی اِسی طرح کی قربانی دے کر آپ کو پھر سے اکٹھا ہونے کا موقع مہیا کریں؟

خدارا ہمارے وطن کے چپے چپے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لئے اپنی کوشش جاری رکھیں۔ ضربِ عضب کے معرکے میں اپنی بہادر افواج کا ساتھ دیں دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے ہمدردوں اور معاونوں پر بھی ایسا کڑا ہاتھ ڈالیں کہ پھر کسی درس گاہ میں خون کی ہولی نہ کھیلی جاسکے۔ ہم تو یہاں جنت الفردوس میں خوب مزے کی زندگی گزار رہے ہیں۔آپ درندہ صفت دہشت گردوں کو بتا دیں کہ شہدائے بدر اور شہدائے کربلا ہمارے ہمسائے ہیں، ہمارے ماما ، پاپا اور ہمارے دوست ہماری جدائی میں ہر گز غمگین نہ ہوں۔ ہمیں یاد رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ پوری قوت کے ساتھ دہشت گردی کی لعنت سے ہمارے پیارے وطن کو پاک کر دیں۔ پیارے ہم وطنو! اب ہم سب اپنے سبز ہلالی پرچم کو سلامی دینے لگے ہیں، آئیے ہم سب ایک ساتھ مل کر فلک شگاف آواز میں اپنا قومی ترانہ پڑھیں۔۔۔ پاک سرزمین شاد باد۔

مزید : کالم