آئین بدلنا کوئی کھیل نہیں

آئین بدلنا کوئی کھیل نہیں
 آئین بدلنا کوئی کھیل نہیں

  



شکر ہے آئین کے بنیادی ڈھانچے میں ترمیم کے خلاف مشترکہ آواز اُٹھ رہی ہے۔آئین سازی کوئی کھیل نہیں کہ اسے بدلنے کی باتیں سہولت کے ساتھ کی جاتی ہیں۔1973ء کا آئین وہ واحد دستاویز ہے، جس پر اُس دور کی تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق کیا ہے۔ 1973ء کی اسمبلی کا یہ بہت بڑا کارنامہ ہے جسے بھلایا نہیں جا سکتا، اُس وقت قائد ایوان ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ اُن کی مدبرانہ کوششوں سے ایک متفقہ دستوری منظوری ممکن ہوئی۔اگرچہ اس آئین میں19 ترامیم ہو چکی ہیں، تاہم اس کے بنیادی ڈھانچے اور تصور کی کسی نے نفی نہیں کی۔یہی وجہ ہے کہ بعدازاں دو آمروں نے بھی اسے یکسر ختم کرنے کی جرأت نہیں کی اور اس میں نظریۂ ضرورت کے تحت اپنی جگہ تلاش کرتے رہے۔اب ایک بار پھر یہ باتیں کی جانے لگی ہیں کہ آئین میں ترمیم ہونی چاہئے یا نیا عمرانی معاہدہ کر کے نئے آئین کی بنیاد رکھنی چاہئے؟یہ بڑی خطرناک بات ہے۔پاکستان ایک وفاق ہے اور آئین میں وفاق کی تمام اکائیوں اور آئینی اداروں کی حدود و قیود متعین کر دی گئی ہیں، پھر اسی آئین میں ترمیم کا طریقۂ کار بھی وضع کر دیا گیا ہے، اِس لئے ایسی کوئی ڈیڈ لاک کی صورت نہیں جس میں یہ کہا جا سکے کہ یہ آئین وقت کے تقاضوں پر پورا اترنے کی صلاحیت یا گنجائش نہیں رکھتا۔

اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے آئین سے اپنی مرضی کی شقیں تلاش کر کے اور انہیں اپنے مطلب کے معانی پہنا کر وقت گزارنے کی کوشش کی ہے۔یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کے پاس بیسیوں درخواستیں صرف آئین کی تشریح کے لئے دائر کی جا چکی ہیں۔حیرت ہوتی ہے کہ جو لوگ پارلیمینٹ میں بیٹھے ہیں اور جن کا کام ہی قانون بنانا اور آئین کی حفاظت کرنا ہے، وہ آئین کو موم کی ناک بنا دیتے ہیں، جسے جس طرف چاہا موڑ لیا اور جیسے معانی چاہے نکال لئے۔سپریم کورٹ پارلیمینٹ کے پاس کردہ کئی بلوں کوکالعدم قرار دے چکی ہے، صرف اِس لئے کہ وہ آئین کی بنیادی روح سے متصادم تھے۔خاص طور پر ایسے قوانین جو بنیادی حقوق کو سلب کرنے کا باعث بن سکتے ہیں،اُن پر سپریم کورٹ نے ہمیشہ سخت گرفت کی ہے۔کوئی بتائے کہ ایسا کون سا بڑا مسئلہ ہے، جسے اس آئین کے تحت حل نہیں کیا جا سکتا۔ہٹ دھرمی کی بات اور ہے وگرنہ صوبوں کے حقوق سے لے کر انسانی حقوق تک سب اس آئین میں متعین کر دیئے گئے ہیں،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آئین کا احترام نہیں کیا جاتا۔مثلاً حال ہی میں سندھ حکومت نے اپنا احتساب کا ادارہ بنا کر احتساب بیورو کو سندھ سے بے دخل کر دیا ہے،جبکہ آئینی طور پر نیب کو یہ تحفظ اور اختیار حاصل ہے کہ وہ پورے ملک میں کام کرے گا اور کرپشن کے خلاف کارروائی کرنا اُس کے آئینی اختیار میں شامل ہے۔ اب یہ معاملہ پھر عدالت میں چلا گیا ہے اور عدالت اس کا فیصلہ کرے گی کہ سندھ اسمبلی اور حکومت نے آئین سے تجاوز کیا ہے یا نہیں،حالانکہ وفاق اور صوبے کے وزرائے قانون اور قانونی ماہرین بآسانی بیٹھ کر پہلے اس کا تعین کر سکتے تھے،مگر چونکہ آئینی موشگافیوں کا سہارا لے کر معاملات کو اُلجھایا جاتا ہے، اِس لئے یکطرفہ فیصلے کئے جاتے ہیں۔

آئین بدلنے کا معاملہ اِس لئے زیادہ شدت سے اٹھا ہے کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے اپنی معزولی کے باعث جو بیانیہ اختیار کیا ہے،وہ بہت سخت ہے، وہ نئے عمرانیے کے تحت ایسا آئین چاہتے ہیں،جس میں عوام کے ووٹ کی طاقت سب سے بالاتر ہو۔سول سپر میسی اُن کے بیاینے کی بنیادی شق ہے۔وہ غالباً آئین میں ایسی ترامیم چاہتے ہیں،جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے وزیراعظم کو ہر قسم کے احتساب سے بالاتر کر دے اور صرف عوام ہی اگلے انتخاب میں اپنے ووٹ سے اُس کا احتساب کر سکیں،اُن کا بنیادی ہدف آئین کی 62-63 شقیں بھی ہیں، جن میں سے ایک (62) کے تحت سابق وزیراعظم نواز شریف کو گھر بھیجا گیا ہے۔دُنیا کے کسی مُلک کا آئین بھی یہ اجازت نہیں دیتا کہ جس عوامی نمائندے کو لوگوں نے منتخب کیا ہے، وہ ایماندار یا صادق نہ ہو۔ امریکہ جیسے مُلک میں بھی امریکی صدور اخلاقیات کی شقوں کے تحت صدارت سے ہاتھ دھوتے رہے ہیں۔یہ دلیل بھی بودی ہے کہ پاکستان کا کوئی شہری بھی 62-63 شقوں پر پورا نہیں اُترتا۔کیا اس دلیل کو تسلیم کر کے ہم یہ فیصلہ دے سکتے ہیں کہ ہمارے ہاں کسی ایماندار عوامی نمائندے کا کوئی گزر نہیں،کیا کسی اور مُلک نے بھی اپنے آئین سے ایسی شقوں کو نکالا ہے، جو عوامی نمائندے کی اہلیت کے ضمن میں درج کی جاتی ہیں،تاکہ مُلک ایک صالح قیادت کے تحت چلایا جا سکے۔ نواز شریف کے لئے یقیناًیہ ایک بہت بڑا دھچکا ہے کہ اُنہیں بڑی جماعت کا سربراہ اور مُلک کا مقبول سیاسی رہنما ہونے کے باوجود نااہل قرار دے دیا گیا،لیکن یہ بھی تو ایک حقیقت ہے کہ وہ اپنے او پر لگنے والے الزامات کا دفاع نہیں کر سکے۔ اب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ مُلک کی سب سے بڑی عدالت میں آپ اپنا کیس بھی ثابت نہ کر سکیں اور یہ اصرار بھی کریں کہ آپ کو کچھ نہ کہا جائے۔اِس سارے عمل میں آئین کا کیا قصور ہے؟آئین نے تو آپ کو مینڈیٹ کے مطابق مسندِ اقتدار پر لا بٹھایا، اسی آئین کے تحت آپ نے جب حلف اٹھایا تواُس میں عہد کیا کہ اپنے فرائض ایمانداری اور دیانت و امانت کے ساتھ ادا کریں گے۔اگر آئین کی ایسی شقوں کے تحت یہ ثابت ہوا ہے کہ آپ اُن پر پورا نہیں اُترے تو اسے تسلیم کرنے کی ضرورت ہے ناکہ سارے آئین کو ہی تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا جائے۔

آئین کے تحت ایسے راستے کھلے ہیں کہ آپ سپریم کورٹ سے نظرثانی کی اپیل کر سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کو ہدف تنقید بنانے سے نواز شریف کے قد کاٹھ میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا، بلکہ یہ تاثر اُبھر رہا ہے کہ مُلک میں ایک ایسا شخص وزیراعظم تھا، جو اداروں کا احترام صرف اس صورت میں کرتا ہے، جب تک قومی ادارے اس کے دست نگر رہتے ہیں، جونہی وہ اپنے آئینی تقاضوں کے تحت کام کرتے ہیں، وہ ان کی مخالفت پر اتر آتاہے۔

مَیں آج بھی اس موقف پر قائم ہوں کہ اگر ہمارے منتخب نمائندے اور سیاسی جماعتیں ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک ایسی جمہوریت کو پروان چڑھائیں جو واقعتا جمہور کی آواز ہو اور منتخب ہونے کے بعد عوام سے لاتعلق نہ ہو کر بیٹھ جائے تو اسی آئین کے تحت اسے اتنی مضبوطی حاصل ہو جائے گی کہ کوئی اس کی طرف میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے۔ سیاسی قیادت کبھی اس نکتے پر غور کرے کہ انتخابات میں عوام بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں،انتخابی جلسوں میں عوام کی شرکت اور جوش و خروش دیدنی ہوتاہے۔ پھر پولنگ والے دن وہ جوق درجوق گھروں سے نکلتے ہیں اور اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں، لیکن جونہی حکومتیں بنتی ہیں، ان کا گراف نیچے آنا شروع ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ اقتدار مقبولیت کا دشمن ہے، حالانکہ اقتدار میں آ کر تو سیاسی قائدین اور جماعتوں کو مزید مضبوط ہو جانا چاہئے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اقتدار میں آتے ہی ان سب وعدوں کو بھلا دیا جاتا ہے جو عوام کے ساتھ انتخابی مہم کے دوران کئے جاتے ہیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو جیسا لیڈر بھی روٹی، کپڑے اور مکان کے اپنے دعوے کی تکمیل نہیں کر سکا تھا، نواز شریف نے 2013ء کے انتخابات میں چھ ماہ کے اندر لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا دعویٰ کیا تھا، وہ اب تک ختم نہیں ہو سکی۔ جب عوام محسوس کرتے ہیں کہ نئے انتخابات اور نئی حکومتوں کے باوجود ان کی زندگی میں تو کوئی تبدیلی نہیں آئی، تو وہ پھر دوسری طرف دیکھنے لگتے ہیں کوئی حکومت اگر یہ کہے کہ مخالفین اسے کام نہیں کرنے دے رہے تو یہ اس کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ نواز شریف بتائیں کہ وہ کون سا عوامی فلاح کا کام تھا جو وہ کرنا چاہتے تھے اور مخالفین نے نہیں کرنے دیا۔ نواز شریف کو گذرے ہوئے چند دنوں میں اندازہ ہو گیا ہو گا کہ حالات انقلاب یا آئین کی تبدیلی کے لئے موافق نہیں۔ بہتر ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کو متحد رکھنے پر توجہ دیں اور اگلے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی کے لئے منصوبہ بندی کریں، اس کے بعد شاید انہیں بہت سے ایسے اقدامات اُٹھانے میں آسانی رہے، جن کی وہ دِل میں خواہش رکھتے ہیں۔

مزید : کالم