جب حضور ﷺ نے اللہ سے عیدیں مانگیں

جب حضور ﷺ نے اللہ سے عیدیں مانگیں
جب حضور ﷺ نے اللہ سے عیدیں مانگیں

  

دنیا کی تقریباً سبھی قوموں میں تہوار منانے کا رواج ہے اور مذہب کے لوگ اپنی روایت کے مطابق تہوار مناتے ہیں۔ اسلامی تہوار دوسرے مذاہب کے تہواروں سے بالکل مختلف اور جداگانہ نوعیت کے ہیں۔ ہمارے نبی کریمﷺ جب مدینہ میں ہجرت کر کے تشریف لائے تو وہاں کے لوگ چھوٹے چھوٹے تہواروں کے علاوہ نو روز کا جشن اور کچھ بڑے بڑے بتوں کی پوجا کا تہوار بھی مناتے تھے ،حضور ﷺ نے ان باتوں کو سخت نا پسند فرماےا اور اللہ تبارک وتعالیٰ سے اپنی امت کے لئے دعا فرمائی اور مسلمانوں کے لیے دوعیدیں مقرر کر وا لیں۔

جب پہلی بار مسلمانوں پر روزے فرض ہوئے تو تاریخ اسلام کے اس پہلے رمضان المبارک میں حضور ﷺ نے مدینہ کے انصار کو مخاطب کر کے فرماےا کہ ہر قوم کے لئے عید ہوتی ہے تم بھی عیدیں مناتے تھے، اللہ تعالیٰ نے تمہاری عیدوں کو ان دو عیدوں سے بدل دیا ہے۔ اب تم ہر سال شان سے عیدالفطر اور عیدالا لضحیٰ منایا کرو۔

 عید کیونکہ ہر سال لوٹ آتی ہے اس لئے اس کا نام عید پڑگیا ،عید کا تصور اتنا ہی قدیم ہے جتنی انسانی تاریخ ۔تاریخ کا کوئی دور ایسا نہیں جو عید کے تصور سے آشنا نہ ہو،قدیم تاریخی کتب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تمدن دنیا کے آغاز کے ساتھ ہی عید کا بھی آغاز ہو گیا تھا۔

ایک رویات  ہے کہ جس روز حضرت آدم ؑ کی توبہ قبول ہوئی، اس روز دنیا میں پہلی بار عید منائی گئی تھی۔ دوسری بار عید اس وقت منائی گئی تھی جس روز ہابیل اور قابیل کی جنگ کا خاتمہ ہوا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ کی قوم نے اس روز عید منائی تھی، جس روز آپ  پر نمرود کی آگ گلزار ہوئی تھی۔ حضرت یونس ؑکی امت اس روز عید مناتی ہے جس روز حضرت یونسؑ کو مچھلی کی قید سے رہائی ملی تھی۔ حضرت موسیٰؑ کی قوم اس روز عید مناتی ہے جس روز حضرت موسیٰؑ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے مظالم سے نجات دلائی تھی۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی امت آج تک اس یوم سعیدکوعید مناتی ہے۔ جس روز حضرت عیسیٰؑ کی ولادت ہوئی۔

مسلمانوں نے پیارے رسول ﷺ کے اس ارشاد کی تعمیل میں یکم شوال دو ہجری کو پہلی بار عید منائی، عید الفطر حقیقت میں مسلمانوں کی خوشی اور مسرت کا وہ محبوب دن ہے، جو سال بھر میں صرف  ایک مرتبہ انہیں نصیب ہوتا ہے۔ایک ماہ مسلسل اللہ کی عبادت کا فریضہ ادا کر کے مسلمان اپنے دل میں مسرت اور خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ان کے قلب میں ایمان کی روشنی پیدا ہوتی ہے۔ اور ان کے دل اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ روزے رکھ کر انہوں نے اللہ تبارک وتعالیٰ کی خوشنودی حاصل کر لی ہے۔

جس کا نتیجہ ہے کہ ہر سال مسلمان چھوٹا بڑا امیر غریب مرد عورت غرض ہر شخص رمضان المبارک کے اختتام پر بڑے تزک واحتشام سے عید الفطر مناتے ہیں،جب رمضان کا با برکت مہینہ ختم ہوتا ہے اور چاند کی 29 ویں شام ہوتی ہے تو غروب آفتاب کا وقت قابل دید ہوتا ہے۔مکان کی چھتوں پر بچے اور بڑے بھی چڑھ جاتے ہیں ،مغرب کی طرف نظر جمائے دیکھتے ہیں کہ ہلال عید نظر آجائے۔

آﺅمل کر مانگیں دعائیں ہم عید کے دن

باقی نہ رہے کوئی بھی غم عید کے دن

ہر آنگن میں خوشیوں بھرا سورج اترے

اور چمکتارہے ہر آنگن عید کے دن

عیدالفطر کے پر مسرت موقع پر جو آپس میں کسی وجہ سے ناراض ہیں ان کو ایک دوسرے سے صلح کر لینی چاہیے اور بروز عید ایک دوسرے سے بغل گےر ہونا چاہیے۔ خوشیاں لائی اس عید کے دن دل میں کوئی رنجش نہ رکھیں کیونکہ عید آتی ہے اور خوشیاں دے کر چلی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں کہ اور جب انسان اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے سرفراز ہو تو اسے چاہیے کہ وہ خوب خوشیاں منائے عید کے دن مسلمانوں کی مسر ت اور خوشی کی وجہ صرف ےہ ہے کہ انہوں نے اپنے خدا کے احکامات کی اےک ماہ تک سختی سے تعمیل کی اور اس تعمیل کے بعد خوش و مسرور رہتے ہیں۔

اسلام کا کوئی حکم بھی حکمت سے خالی نہیں اور پھر اسی مبارک مہینے میں زکٰو ة نکالی جاتی ہے یعنی امیر لوگ غریبوں کو دینے کے لئے ضرورت مندوں کی مددکرنے کے لیے اپنی جمع پونجی (آمدنی)میں سے اسلامی قوانین کے مطابق کچھ رقم نکالتے ہیں اور غریبوں میں اس طرح تقسیم کرتے ہیں کہ بہت سے غریب گھرانوں اور حاجت مندوں میں کھانے پینے کی چیزیں اور پہننے کے لئے کپڑے خرید کر دئیے جاتے ہیں اور  یوں  سب عید کی خوشیوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اسی ماہ صدقہ فطر بھی دیا جاتا ہے جو ہر امیر،غریب،غلام پر واجب ہے ۔

اگر ہمارے آس پاس یا خاندان میں کوئی عید کی خوشیاں میں شامل نہیں ہو سکتا غربت کی وجہ سے تو ان کی مدد کرنے سے ہی عید کی خوشیاں دوبالا کریں،جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ مہنگائی ،بے روزگاری نے اکثریت کی زندگی مشکل کر دی ہے ہم کو چاہیے خاص طور پر ان مسلمانوں کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل کریں جن کو ایک وقت کی روٹی بھی نصیب نہیں ہوتی تا کہ وہ بھی مسرتوں اور خوشیوں کا تھوڑا سا حصہ حاصل کر سکیں اور ویسے بھی  غریب مسلمان کی خوشی کے موقع پر بے لوث مدد اور خدمت کرنے سے جو روحانی خوشی حاصل ہوتی ہے وہ لازوال ہوتی ہے اور مدد کرنے پر اللہ اور رسول ﷺ بھی خوش ہوتے ہیں اور اگر ہو سکے تو ان کی مدد کر یں تاکہ وہ اپنے بچوں کے لیے کپڑے خرید سکے ،یہ ہمارا ان پر کوئی احسان نہیں ہے بلکہ اللہ کی طرف سے ہم پر فرض ہے ۔ اللہ نے ہم کو دیا ہے تو ہماری ذمہ داری بھی بنتی ہے۔

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -