ایاز صادق کے سپیکر رہنے کا جواز نہیں ، سول ملٹری تعلقات خراب ہیں تو کھل کر بتایا جائے، مریم نواز کا واحد کارنامہ ٹی وی پر غلط بیانی کرنا ہے: عمران خان

ایاز صادق کے سپیکر رہنے کا جواز نہیں ، سول ملٹری تعلقات خراب ہیں تو کھل کر ...
ایاز صادق کے سپیکر رہنے کا جواز نہیں ، سول ملٹری تعلقات خراب ہیں تو کھل کر بتایا جائے، مریم نواز کا واحد کارنامہ ٹی وی پر غلط بیانی کرنا ہے: عمران خان

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن میں میرے خلاف ریفرنس مسترد ہونے پر ایاز صادق کے پاس سپیکر کے عہدے پر رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں بچتا۔ سپیکر نے نواز شریف کے ساتھ مل کر مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔ اگر حکومت اور فوج ایک پیج پر نہیں ہیں تو حکومت کو چاہیے کہ عوام کو کھلم کھلا بتائے لیکن یہ لوگ منافقت کرتے ہیں۔مریم نواز کا اپنی زندگی میں واحد کارنامہ ایک ٹی وی پروگرام میں اثاثوں کے معاملے پر غلط بیانی کرنا ہے۔

عمران خان ،جہانگیر ترین کیخلاف نااہلی ریفرنسز خارج کردیئے گئے

الیکشن کمیشن میں اپنے خلاف دائر ریفرنس کا فیصلہ آنے پر عمران خان نے رد عمل دینے کیلئے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میرے اثاثوں میں تضاد سامنے آیا تو سیاست چھوڑ دوں گا۔ اپنے خلاف دائر ریفرنس پر میں نے دسمبر کے پہلے ہفتے الیکشن کمیشن کو تمام جوابات دے کر کیس مکمل کردیا تھا لیکن ان کا وکیل تاریخ پہ تاریخ لیتا جا رہا تھا کیونکہ موٹو گینگ مجھ پر تنقید کرنا چاہتا تھا۔

سپیکر ایاز صادق فوری طور پر مستعفیٰ ہوں :تحریک انصاف کا مطالبہ

انہوں نے کہا کہ اس ملک میں صرف نام کی جمہوریت ہے انہوں نے میرے اوپر چار کیسز کیے، میری غلطی یہ تھی کہ میں ان سے جواب مانگ رہا تھا ۔ سپیکر نے نواز شریف کے ساتھ مل کر مجھے بلیک میل کرنے اور کیسز کے ذریعے میری آواز بند کرنے کی کوشش کی۔ سپیکر سے پوچھتا ہوں کہ آج کے فیصلے کے بعد کیا آپ کے پاس سپیکر رہنے کا کوئی جواز رہ گیا ہے؟ کیا آپ کو استعفیٰ نہیں دینا چاہیے؟۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ سپیکر کو غیر جانبدار ہونا چاہیے، جب سپیکر کا یہ تاثر جاتا ہے کہ وہ شریف خاندان کا درباری ہے تو پارلیمنٹ نہیں چل سکتی،اگر سپیکر کا یہ حال ہے تو پارلیمنٹ میں کیسے جائیں، اگر سپیکر میں عزت نفس ہے تو ان کے پاس اس عہدے پر رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں بچتا۔

عمران خان اور جہانگیر ترین کیخلاف قانون کے دیگر درواز ے کھٹکھٹائیں گے : نواز لیگ کا اعلان

انہوں نے کہا کہ ہمارے سپیکر کا یہ حال ہے کہ وہ مریم نواز کو ہاتھ باندھ کر پروٹوکول دیتا ہے، کوئی بتائے گا کہ مریم نواز نے اپنی زندگی میں آج تک کیا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ ان کا واحد کارنامہ ایک ٹی وی پروگرام میں عوام کے سامنے اثاثوں کے معاملے پر غلط بیانی کرنا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھاکہ تمام اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم سے پاناما کے معاملے پر جواب مانگا لیکن انہوں نے متضاد جواب دیا۔ اپوزیشن نے حکومت سے جواب طلب کیا تو خواجہ آصف نے کہا کہ میاں صاحب لوگ اس معاملے کو بھول جائیں گے۔ پاناما کے معاملے پر جواب نہ ملنے پر ہم سڑکوں پر نکلے اور سپریم کورٹ پہنچے ۔میں نے سپیکر کے سامنے ریفرنس دائر کیا لیکن سپیکر نے میرے خلاف ریفرنس بھیج دیا اور نواز شریف کے خلاف مسترد کردیا۔ سپیکر سے پوچھتا ہوں کہ آپ نے نواز شریف کے خلاف ریفرنس کیوں نہیں بھیجا؟۔

انہوں نے سرکاری اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اداروں کا کام نواز شریف کو پکڑنا تھا لیکن یہ سب ادارے عمران خان اور جہانگیر ترین کے پیچھے پڑے ہوئے تھے کہ کسی طرح کوئی چیز مل جائے جس کی بنا پر انہیں پکڑا جا سکے۔ ایف بی آر سے پوچھتا ہوں کہ پاکستانیوں نے گزشتہ چار سال کے دوران دبئی میں 800 ارب روپے کی جائیدادیں خریدی ہیں لیکن کیا آپ نے ان سے پوچھ گچھ کی؟۔ان کی نا اہلی کیلئے یہی کافی ہے کہ انہوں نے اپنے قطری کاروباری شراکت دار کو پورٹ قاسم کا 200 ارب روپے کا ٹھیکہ سنگل بڈ پر دے دیا ۔ جب تک کسی شخص کی جائیداد پاکستان میں نہ ہو اسے حکمرانی کا کوئی حق نہیں ہونا چاہیے کیونکہ جب کسی شخص کا پیسہ باہر پڑا ہو وہ بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں بلیک میل ہو سکتا ہے۔

سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر سول حکومت سمجھتی ہے کہ فوج لائن پر نہیں ہے توحکومت کھلم کھلا عوام کو بتائے۔ یہاں یہ منافقت ہے کہ یہ عوام میں کہتے ہیں کہ ہم ایک ہی پیج پر ہیں لیکن آپس میں یہ مخالف سمتوں میں جا رہے ہوتے ہیں۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...