منطق اور ردعمل

منطق اور ردعمل
منطق اور ردعمل

  


کراچی میں اُردو بولنے والی آبادی نے1964ء کے صدارتی الیکشن میں ایوب خان کے مقابلے میں محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا تھا، چونکہ ان انتخابات میں صرف بی ڈی ممبرز کو ووٹ دینے کا حق تھا اس لئے عوام کی زبردست حمایت کے باوجود فاطمہ جناح یہ الیکشن ہار گئیں، لیکن ان کا ساتھ دینے والوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع ہو گئیں۔ کراچی میں ایوب خان کے بیٹے گوہر ایوب نے اُردو سپیکنگ لوگوں کو مختلف طریقوں سے ہراساں کرنا شروع کر دیا، جس کی وجہ سے پہلی بار وہاں کے لوگوں میں بے چینی اور خوف پیدا ہوا۔ اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں لسانی فسادات ہوئے جن میں وزیراعلیٰ ممتاز بھٹو نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ بھٹو دور میں سندھ میں دس سال کے لئے کوٹہ سسٹم نافذ کیا گیا، جس کے تحت ملازمتوں کا60فیصد دیہی سندھ اور 40فیصد شہری سندھ کے لئے مختص ہو گئے۔ کوٹہ سسٹم کے نفاذ کے بعد اُردو سپیکنگ آبادی میں پہلی بار ردعمل کے طور پر تنظیمیں بننی شروع ہوئیں، جن میں طلبہ تنظیم اے پی ایم ایس زیادہ نمایاں تھی۔ جنرل ضیاء الحق نے جب کوٹہ سسٹم کی توسیع کی تو ردعمل میں مزید اضافہ ہوا اور پی ایم ایس او کے اندر سے ہی سیاسی جماعت مہاجر قومی موومنٹ نے جنم لیا جو پہلے لوکل باڈیز اور پھر جنرل الیکشن میں حصہ لینے لگی اور کراچی کی سیاست جو اس سے پہلے جماعت اسلامی اور جے یو پی وغیرہ کنٹرول کرتی تھیں۔ آہستہ آہستہ ایم کیو ایم کے کنٹرول میں چلی گئی۔ 1988ء سے ایم کیو ایم کراچی کی سیاست میں سب سے اہم پارٹی ہے اور ایک سے زائد بار ریاستی آپریشن کا سامنا بھی کر چکی ہے۔ اس وقت بھی اس کے 25ایم این اے،52 ایم پی اے اور8سینیٹر ہیں۔

الطاف حسین نے چند روز پہلے فوج کے خلاف جو تقریر کی تھی اس کے خلاف شدید ردعمل ابھی تک آ رہا ہے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں میں ایم کیو ایم کے خلاف مذمت کی قراردادیں منظور ہو چکی ہیں۔ سندھ اسمبلی کے سپیکر سراج درانی نے ایم کیو ایم کے خلاف تحریک پیش کرنے نہیں دی۔ غالباً پنجاب اسمبلی اور وفاق میں بھی ایسا نہیں ہو گا۔ میرے خیال میں پاکستان کی ایک سیاسی پارٹی کے خلاف ایسی قرار داد پیش نہیں کی جانی چاہئے، ان سے دراڑ میں اضافہ ہو گا۔ جب کوئی دراڑ پڑ رہی ہو تو اسے بھرنے کی کوشش کی جانی چاہئے، نہ کہ اسے مزید کھلا کر نے کی۔ بلوچستان والوں نے تو آناً فاناً روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی دکھاتے ہوئے یہ قرار داد پیش کی۔ کچھ ایسا ہی خیبرپختونخوا میں ہوا، جہاں تحریک انصاف نے اس میں پھرتیاں دکھائیں۔ ایسی ہی پھرتیاں وہ دوسری اسمبلیوں میں بھی دکھانا چاہتی تھی، لیکن وہاں پاکستان کی زیادہ تجربہ کار اور سمجھ دار پارٹیوں کی اکثریت کی وجہ سے نہیں کر سکی، جن لوگوں کو ایوب خان دور میں مشرقی اور مغربی پاکستان اسمبلیوں کی کارروائیاں یاد ہیں وہ بتاتے ہیں کہ مغربی پاکستان اسمبلی میں ایسی قراردادیں بنگالی لیڈروں کے خلاف پیش ہوا کرتی تھیں، جن سے مُلک کے دونوں حصوں کے خلاف خلیج بڑھتی گئی اور پھر ایک دن آیا کہ مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا۔ اگرچہ کراچی میں ایسا ہونے کا ایک فیصد بھی امکان نہیں ہے، لیکن پھر بھی مُلک کے کسی ایک حصے کی اکثریتی پارٹی کے قائد کے خلاف اس طرح کی مذمتی قراردادوں سے خلیج پیدا ہو گی۔

جہاں بہت سے قومی لیڈر الطاف حسین کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کر رہے ہیں جو کہ اس حد تک ضرور کرنی بھی چاہئے کہ ان کی پارٹی کے لوگوں کو احساس ہو کہ ان کا قائد کسی عجیب و غریب مرض میں مبتلا ہے جو پہلے کوئی بیان دے دیتے ہیں اور پھر معافی مانگتے پھرتے ہیں۔ اگر الطاف حسین کے خلاف ہونے والا ردعمل سمجھ داری پر مبنی ہو گا، تو ایم کیو ایم کے ووٹرز اور سپورٹرز ایک دن خود ہی اپنے قائد سے سوال کریں گے کہ حضور آپ کا کیا پرابلم ہے، لیکن اگر الطاف حسین کے خلاف ردعمل اس انداز میں ہو گا جیسا عمران خان اور ان کی پارٹی والے کرتے ہیں تو اسے کراچی میں پسند نہیں کیا جائے گا اور وہاں آہستہ آہستہ ایک خلیج جنم لینا شروع کر دے گی۔ اے این پی سیاسی طور پر ایم کیو ایم کی تحریک انصاف سے بھی بڑی مخالف ہے، کیونکہ کراچی میں ان کے سٹیک زیادہ ہیں، لیکن وہ پھر بھی زیادہ سمجھ داری سے کام لے رہی ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ عمران خان نے پاکستان مں جس طوفانِ بدتمیزی والی سیاست کا آغاز کیا ہے اس سے نہ صرف کراچی، بلکہ مُلک کے مختلف حصوں کے لوگوں کے درمیان آپس میں فاصلے بڑھ رہے ہیں اور اِسی لئے مجھے آج تک سمجھ نہیں آ سکی کہ عمران خان کا اصل ایجنڈا کیا ہے؟

وزیراعظم میاں نواز شریف کو سیاست اور حکومت میں اب تقریباً35 سال ہو چکے ہیں۔ اتنا طویل تجربہ رکھنے والے لیڈر بہت کم ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ چیزوں کو منطقی انداز میں دیکھتے ہیں۔ الطاف حسین کے بیان پر ہر پاکستانی شہری کو تکلیف ہوئی، ان کے اپنے شہر میں بھی لوگوں نے بہت بُرا منایا۔ یہاں وزیراعظم میاں نواز شریف کی تعریف کرنا ہو گی کہ انہوں نے ایسا ردعمل نہیں دیا جو بعد میں کراچی میں کسی منفی ردعمل کو جنم دیتا۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے الطاف حسین کے بیان کی مذمت کرنے کے بعد کہا چونکہ انہوں نے معافی مانگ لی ہے اس لئے انہیں معاف کر دیں، امید ہے وہ آئندہ احتیاط کریں گے۔ یہ ہوتا ہے ایک سٹیٹسمین کا ردعمل اور وزیراعظم میاں نواز شریف نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ صحیح معنوں میں پاکستان کے سٹیٹسمین ہیں۔ *

مزید : کالم


loading...