اگر دوسرے آپ کو غیراہم خیال کرتے ہیں تو اس کی وجہ آپ کا رویہ ہے

اگر دوسرے آپ کو غیراہم خیال کرتے ہیں تو اس کی وجہ آپ کا رویہ ہے
اگر دوسرے آپ کو غیراہم خیال کرتے ہیں تو اس کی وجہ آپ کا رویہ ہے

  

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز

قسط:69

فرض کریں کہ آپ اپنا ذاتی ہوائی جہاز اڑا رہے ہیں اور وہ جہاز کہیں پہاڑوں وغیرہ میں کھو جاتا ہے یا اسے کوئی حادثہ پیش آ جاتا ہے۔ جیسے ہی اس حادثے کا پتہ چلتا ہے تو آپ کی تلاش بڑے پیمانے پر شروع کر دی جاتی ہے۔ یہ سوال کوئی نہیں پوچھے گا کہ کیا آپ ایک اہم شخص ہیں جس کی تلاش اس طرح کی جا رہی ہے؟ آپ سے متعلق کچھ بھی معلوم کیے بغیر کہ آپ کون ہیں؟ صرف آپ کو ایک انسان کی حیثیت سے تلاش کیا جا رہا ہے۔ اس کی تلاش پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔

جب کوئی چھوٹا بچہ کسی جنگل میں گم ہو جائے یا کسی نہر وغیرہ میں گر جائے یا کسی دوسری خطرناک صورتحال سے دوچار ہو جائے تو بچے کے بارے میں یہ معلوم نہیں کیا جائے گا کہ وہ کسی اہم خاندان سے تعلق رکھتا ہے یا کسی غریب گھرانے سے لیکن بچے کی دستیابی کیلئے کوشش شروع ہو جائے گی کیونکہ بچہ کسی کا بھی ہو وہ بہت اہم ہے۔

کیونکہ خدا کے سامنے بھی ہر فرد بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

عمل کے حوالے سے:

اگر دوسرے آپ کو غیراہم خیال کرتے ہیں تو اس کی وجہ آپ کا رویہ ہے۔

آپ کے روئیے سے لگ جان جاتے ہیں کہ آپ دوسروں کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔ ا س لیے آپ ان کیلئے غیراہم ہو جاتے ہیں۔

کسی کی کم آمدنی، یا اس کے معیار زندگی کے حوالے سے کسی کو غیراہم خیال کرنا بہت بڑی غلطی ہے جبکہ اصل چیز اس فرد کا عمل ہوتا ہے۔

جب آپ دوسروں کو اپنی اہمیت کا احساس دلائیں گے تو وہ آپ کیلئے بہت کچھ کرنے کو تیار ہو جائیں۔

اگر آپ کسی گاہک کو بہت زیادہ اہمیت دیں گے تو آپ سے وہ زیادہ خریداری کرے گا۔

اسی طرح اگر کسی ملازم کو بہت زیادہ اہمیت دی جائے تو وہ آپ کیلئے زیادہ کام کرے گا۔

عظیم لوگ ہمیشہ اعلیٰ سوچ رکھتے ہیں۔ بڑے مفکر ہمیشہ افراد کی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں کیونکہ وہ افراد سے متعلق ہمیشہ بڑی سوچ رکھتے ہیں۔

دوسری بڑی وجہ لوگوں کو اہمیت دینے کی یہ ہے کہ ”جب آپ دوسروں کو اہمیت دیتے ہیں تو اس سے آپ کو اہم بننے میں بھی مدد ملتی ہے۔“

میں ایک بلڈنگ میں جایا کرتا تھا، اس بلڈنگ کی لفٹ آپریٹر مجھے اوپر لے جاتی اور نیچے بھی لاتی۔ میں نے اس کی جانب کئی دفعہ دیکھا اس میں کوئی کسی قسم کی دلکشی نہ تھی۔ اس کی عمر پچاس کے قریب تھی کوئی بھی اسے اہم خیال نہ کرتا تھا۔

ایک دن میں نے غور سے دیکھا کہ اس نے بال کاٹ کر چھوٹے کیے ہوئے ہیں۔ یقینا اس نے یہ اپنے گھرمیں ہی کیے ہوں گے لیکن اس کے بال بالکل اچھے نہیں لگ رہے تھے۔

میں نے اس سے کہا: مسز ایس (میں نے اس کا نام بھی معلوم کر لیا تھا) آپ کے بال بہت خوب لگ رہے ہیں۔ اس نے چہک کر کہا: جناب آپ کا بہت شکریہ۔ وہ میرے الفاظ سے بہت خوش ہو گئی تھی۔

اگلے دن جب میں لفٹ میں سوار ہوا تو اس نے کہا ڈاکٹر گڈمارننگ۔ میں نے اس سے پہلے اس آپریٹر خاتون کو کسی کا نام لے کر سلام کہتے ہوئے نہیں سنا تھا کیونکہ میں نے اس خاتون کو محسوس کروایا تھا کہ وہ بہت اہم ہے اور اس طرح اس نے بھی مجھے اہمیت دی تھی۔( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم “ نے شائع کی ہے ( جُملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -