تحفظ حرمین شریفین پر تو کوئی اختلاف نہیں (2)

تحفظ حرمین شریفین پر تو کوئی اختلاف نہیں (2)
تحفظ حرمین شریفین پر تو کوئی اختلاف نہیں (2)

  

ایسے حالات میں یہ سمجھنا مشکل نہیں عالمی استعماری ریفری شیعہ اور وہابی میچ جیسے لیبیا،شام ،عراق اور دیگر ممالک میں کرا رہے ہیں وہی سلسلہ اب یہاں شروع کرا دیا ہے۔مغربی ممالک نہیں چاہتے کہ یہ آگ بجھے کیونکہ انہوں نے بڑی جدو جہد کے بعد یہ آگ لگائی ہے ان کو اپنا اسلحہ فروخت کرنے کی فکر ہے جو وہ دونوں طرف فروخت کر رہے ہیں ایسے حالات میں مسلم حکمرانوں کو ہی ہوش کے ناخن لینے چاہیں کہ یمن کی جلتی ہوئی حدود کی آگ بجھانے کے لیے اکٹھے ہو جائیں قبل اس کے کہ صہیونی ہوائیں اس آگ کو حجاز مقدس کی طرف دھکیل دیں۔ ایسے حالات میں پوری امت پر ہی کڑی آزمائش کا وقت آگیا ہے۔شاید اسلامی ایٹمی قوت ہونے کے ناطے پاکستان کو سب سے زیادہ سوچ سوچ کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔ عالمی تھا نیدار آج پاکستان کو یمن جارحیت میں ملوث کر کے کل پاکستان کی جامہ تلاشی لینا چاہتا ہے۔ آج تو جب پاکستانی فوج کو سعودی عرب بھجنے کی مخالفت میں کہا جارہاہے کہ ایسا کرنے سے آپریشن ضرب عضب متاثر ہو گا تواس جنگ میں پاکستان کو پھنسانے کے لیے امریکہ کے دفتر خارجہ کے ترجمان میری ہارف کا بیان سامنے آگیا ہے ’’سعودی فوجی اتحاد میں شامل ہونے سے پاکستان کی دہشت گردوں کے خلاف لڑائی کی صلاحیت متاثر نہیں ہو گی ‘‘لیکن حالات بدلنے پر یہی امریکہ ہمارے وہاں فوج بھیجنے کو جارحیت اور دہشت گردی سے کم کسی لقب سے نہیں نوازے گا۔

سعودی حکومت جس دلیل اور منطق پر یمن پر حملے کر رہی ہے۔ کہ یمن کے صدر نے ہم سے مداخلت کی اپیل کی ہے تو ہم اس کی مدد کو گئے ہیں آج امریکہ ان حملوں اور جملوں پرصرف خاموش ہی نہیں داد تحسین بھی دے رہا ہے۔کل جب امریکہ پچھلے پاؤں ہٹے گا اور انہی حملوں کو جواز بنا کر سعودی حکومت کو شکنجے میں لائے گا اور کہہ رہا ہو گا کہ ملک سے فرار ہونے کے بعد یمن کے صدر کی قانونی حیثیت مشکوک ہو چکی تھی۔ وہ کسی بھی ملک سے امداد مانگنے کاقانونی اور آئینی حق کھو بیٹھا تھا اگر وہ یمن میں رہ کے مدد مانگتا تو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق یہ اپیل جائز ہوتی ۔جب امریکہ کے تیور بدل چکے ہونگے اور سعودی عرب پر جارحیت کی فرد جرم عائد کی جائیگی اگر آج پاکستان نے سعودی عرب میں اس مقصد کے لیے فوج بھیج دی تو جارحیت کے پارٹنر کی حیثیت سے اس کو بھی کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔اس طرح خدانخواستہ دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی قوت پر امریکہ اپنے پنجے گاڑرہا ہو گا۔

تحفظ حرمین کے لیے تو ہر مسلمان اپنی جان ہتھیلی پہ رکھے پیکر وفا بن کر شوق شہادت میں مچل رہا ہے۔مگر یمن سعودی جنگ میں فریق بننے کا مطلب کچھ اور بنتاہے۔ ہمارے حکمرانوں کو سعودی حکمرانوں سے دوستی نبھانے کا پورا حق حاصل ہے۔ مگر ہمیں ایسی کشمکش میں فریق نہیں بننا چاہیے جس کا رد عمل کسی کے لیے حرمین شریفین کی جانب میلی نگاہ سے دیکھنے پر منتج ہو سکتا ہو۔ امریکہ تو ہمیں فوج بھیجنے پر گارنٹی دے رہا ہے کہ سعودی عرب فوج بھیجنے سے تمہیں کچھ نہیں ہو گا۔ لیکن ہمیں یہ بھی سوچنا ہے کہ امریکا کو یہ دلچسپی کیوں ہے ؟ظاہر ہے کہ اس کی اس آرزو کے پیچھے تحفظ حرمین شریفین کا جذبہ نہیں۔ ہمارے حکمرانوں کو خود بھی سوچنا چاہیے کہ موجودہ حالات میں کیا ہم کسی ملک کی فوجی امداد کے قابل بھی ہیں یا نہیں جب ہماری فوج لائن آف کنٹرول اور افغانستان بارڈر پر تعینات ہے۔ضربِ عضب اور آئی ڈی پیز کی ذمہ داری بھی فوج پر ہے، کراچی اور بلوچستان میں فوج ہی آگ بجھانے میں مصروف ہے ،دہشت گردوں کو سزائیں دینے کے لئے عدالتوں کا کام بھی فوج کے سپرد ہے ،پورا ملک لا قانونیت ،فرقہ واریت اور دہشت گردی میں جکڑا ہوا ہے۔

اور ان آفات میں حکمران فوج کا منہ ہی دیکھ رہے ہیں .تو پھر حکمرانوں کو چارد دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہئیں ،تحفظ کعبہ اور تحفظ گنبد خضریٰ ہمیں جانوں سے بھی عزیزہے۔ حقیقت حال سے آگاہ لوگ جانتے ہیں سعودی عرب پاکستان سے حرمین شریفین کے گرد پہرا دینے کے لیے یا سعودی عرب کی سرحدوں پر پہرا دینے کے لیے فوج مانگ ہی نہیں رہا وہ تو یمن میں زمینی جنگ میں پاکستان کی فوج کی مدد چاہتا ہے۔ اگر کل سعودی عرب کی جانب سے یمن میں زمینی حملوں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا جاتاہے اور افواج پاکستان اس میں حصہ لیتی ہیں۔ تو اس سے ایک مسلم ملک یمن کی تباہی ہو گی علاقائی سلامتی بھی داؤ پرلگ جائے گی۔ہمارا دشمن بھارت تو ہماری کسی بھی دفاعی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایڑیاں اٹھا کے دیکھ رہا ہے۔ پاک افغان سرحدپر انڈین قونصل خانے پہلے ہی دن رات شر انگیزیوں میں مصروف ہیں۔ان حالات میں سعودی عرب کی حمایت میں ہماری یمن پر چڑھائی کی صورت میں پاکستان اورایران سرحدوں پر بھی کشیدگی اور تناؤ پیدا ہو گا اور ہماری سلامتی چاروں اطراف سے سنگین خطرات میں گھِر جائے گی۔اگر معاملہ سعودی عرب کی علاقائی یکجہتی اور اندرونی سلامتی کے لحاظ سے تزویراتی امور میں مدد ’’لاجسٹک سپورٹ‘‘کا ہوتا تو اور بات تھی مگر موجودہ حالات میں سعودی عرب فوج بھیجنے کا مطلب کچھ اور ہے جس کی ہمارے ملکی حالات ہمیں اجازت نہیں دے رہے۔(ختم شد)

مزید :

کالم -