عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 115

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 115
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 115

  



قاسم کے جسم و جاں میں سنسنی کی تیز لہر دوڑ گئی ۔۔۔تو گویا سچ میچ یہ شاگال کا جہاز تھا۔ لیکن اب قاسم کے لیے بہت بڑا خطرہ پیدا ہو چکا تھا۔ شاگال نے قاسم کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور یقیناًشاگال قاسم کو اپنے جہاز پر سوار نہ ہونے دیتا۔ لیکن قاسم مسلسل چپو پہ چپو مارتا رہا اسے مارسی تک پہنچنا تھا وہ ہر طرح کا خطرہ مول لے سکتا تھا۔ قاسم کی کشتی آگے بڑھتی رہی اور پھر جب وہ جہاز سے ابھی خاصا دور ہی تھا کہ اس نے شاگال کے جہا زکو لنگر اٹھاتے ہوئے دیکھا۔ اس کا مطلب تھا کہ شاگال مقابلہ کرنے کی بجائے یہاں سے فرار ہو رہا تھا۔ اب قاسم کو خیال آیا کہ اگر جہاز کے بادبان کھول دیئے گئے تو جہاز کی رفتار قاسم کی کشتی کے مقابلے میں کئی گناہ بڑھ جائے گی۔ ایسی صورت میں وہ کبھی بھی شاگال تک نہیں پہنچ پائے گا۔ قاسم نے اندھا دھند چپو چلانا شروع کر دیئے اور اس کی کشتی غیر معمولی تیزی سے حرکت کرنے گی۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 114 پڑھنے کیلئے یہاں کللک کریں

جب قاسم کی کشتی اور جہاز کا درمیانی فاصلہ صرف بیس قدم رہ گیا تو جہا زکے بادبان ایک جھٹکے سے کھل گئے اور ہوا کے دباؤ کو برداشت کرکے جہاز نے سمندر میں ایک بڑا ہچکولا لیا اور پھر اگلے لمحے قاسم کو اس وقت چھٹی کا دودھ یاد آگیا جب جہاز کے کنارے سے تیروں کی ایک خوفناک باڑھ قاسم کی جانب لپکی۔ قاسم نے چپوؤں کو تیزی سے حرکت دی اور خودایک طرف جھک کر اپنے آپ کو تیروں سے بچایا۔

زیادہ تر تیر کشتی کے چوبی تختوں میں پیوست ہوگئے۔ لیکن اس سے پہلے کہ قاسم سنبھلتا، تیروں کی دوسری باڑھ اس کی جانب لپکی۔شاگال کے آدمی قاسم پر پوری قوت سے تیر پھینک رہے تھے۔ شاگال خود جہاز کے عرشے پر کھڑا ساری کارروائی دیکھ رہا تھا۔ دوسری باڑھ سے بچنے کے لیے قاسم نے ایک عجیب فیصلہ کیا وہ یکلخت اور کسی خرگوش کی طرح اچھل کر چھپاک سے پانی میں جا گرا۔ اب شاگال اور اس کے سپاہیوں کے پریشان ہونے کی باری تھی کیونکہ قاسم پانی میں غوطہ لگا کر غائب ہو چکا تھا۔

اور پھر جب قاسم دوبارہ نمودار ہوا تو وہ کالے جہاز کی ایک جانب سے اس پر سوار ہونے کی کامیاب کوشش کر رہا تھا۔ قاسم کی تلوار اس کے دانتوں میں دبی تھ اور اس نے دونوں ہاتھوں سے جہاز کے جنگلے کو تھام رکھا تھا۔ تھوڑی سی کوشش کے بعد وہ جہاز پر سوار ہو چکا تھا۔ شاگال کے آدمی بھی اسی توقع سے جہاز کے چاروں طرف دوڑ رہے تھے کہ ان کا دشمن کسی نہ کسی جانب سے نمودار ہوگا لیکن انہیں پتہ اس وقت چلا جب قاسم شمشیر بدست ان کے سامنے آیا اور پھر اگلے لمحے شاگال کے دو ہٹے کٹے سپاہی قاسم پر ٹوٹ پڑے۔ لیکن قاسم جیسے شمشیر زن کو تلوار کے زور پر شکست دینا ان کے بس کی بات نہ تھی۔ قاسم برق آسمانی کی طرح دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں کود رہا تھا۔ تھوری ہی دیر میں ایک سپاہی کا شمشیر والا ہاتھ کٹ کر سمندر میں جاگرا۔ لیکن ایک سپاہی کے کم ہو جانے سے قاسم کے لیے کوئی آسانی پیدا نہ ہوئی کوینکہ اب جہاز پر موجود شاگال کے باقی آدمی بھی اس جگہ کا پتہ پا کر یہاں پہنچ چکے تھے۔لیکن قاسم نے دل چھوٹا نہ کیا۔ اب وہ بیک وقت شاگال کے سات بہترین جنگجوؤں کے ساتھ لڑ رہا تھا۔ قاسم درمیان میں موجود تھا اور ساتوں سپاہی اسے چاروں طرف سے اپنے گھیرے میں لئے ہوئے تھے لیکن قاسم ان سے سنبھالے نہ سنبھلتا تھا۔ وہ طاہر کا بھائی اور ہشام کو بیٹا تھا۔ عرب کے بہترین نوجوان اس کی شمشیر زنی کا لوہا مانتے تھے۔ اور یہ موقع تھا کہ جب اس کی تلوار بازی کے جوہر ملاحظہ کئے جا سکتے تھے۔ کچھ ہی دیر بعد ساتوں سپاہی نڈھال ہوگئے۔ کیونکہ قاسم نے انہیں بھگا بھگا کر تھکا دیا تھا ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ سات جنگجو اس لڑائی میں قاسم پر وار کرتے ہوئے نظر آتے۔ لیکن یہاں تو معاملہ الٹ تھا۔ ایک اکیلا قاسم ان سات ماہر شمشیر زنوں پر پے در پے وار کئے چلا جا رہا تھا۔ اسی اثناء میں قاسم نے ایک ایسا داؤ کھیلا کے شاگال کے دو سپاہی بیک وقت ایک دوسرے کی تلواروں کا شکار ہوگئے ابھی وہ دونوں فرش پر گر بھی نہ پائے تھے کہ قاسم نے ایک اور سپاہی کا پیٹ پھاڑ دیا۔

جہاز کے بادبان کھلے تھے اور وہ تیزی کے ساتھ تیر رہا تھا۔ معاً قاسم کے ذہن میں ایک خیال آیا اور وہ لڑائی کی جگہ کو چھوڑ کر جہاز کی اس سمت میں دوڑا جہاں چوبی تختے ڈھلوانی حالت میں لگے ہوئے تھے۔ باقی بچ رہنے والے پانچوں جنگجو اس کے پیچھے لپکے۔ قاسم ایک خطرناک داؤ کھیلنے جا رہا تھا وہ جہاز کے آخری کنارے کی طرف دوڑتا چلا گیا جو ڈھلوانی حالت میں نیچے کی جان کسی قدر ترچھے رخ پر موجود تھا۔ اس کنارے پر لکڑی کے کمزور جنگلے لگے ہوئے تھے۔ قاسم کے تعاقب میں اانے والے ہٹے کٹے سپاہی اپنے پورے زور میں ڈھلوانی تختوں پر بھاگتے چلے آئے۔ جونہی قاسم جہاز کے آخری سرے پر جنگلے کے نزدیک پہنچا۔ وہ پوری قوت سے رکا اور ایک دم بائیں طرف ہٹ گیا۔ اس کے تعاقب میں آنے والے بھاری بھر کم سپاہی قاسم کی طرح فوراً خود کو نہ روک سکے اور پوری قوت کے ساتھ لکڑی کے جنگلے کے ساتھ ٹکرا گئے۔ پانچوں حملہ آور یکے بعد دیگرے ایک دوسرے پر گرے۔ جنگلا ٹوٹ گیا اور شاگال کے سپاہی پھسلتے ہوئے سمندر میں جا گرے۔ آخری دو سپاہی ٹوٹے ہوئے جنگلے کو پکر کر لٹکنے لگے۔ اب قاسم نے آغے بڑھ کر ان دونوں لٹکتے ہوئے جنگجوؤں کا خاتمہ کر دیا۔

جہاز اپنی پوری رفتار سے بحر مارمورا کی جانب اڑا جا رہا تھا۔ قاسم کو خدشہ تھا کہ سمندر میں گرنے والے تینوں سپاہی بھی تیر کر واپس آنے کی کوشش کریں گے لیکن ا س نے کوئی پرواہ نہ کی اور جہاز کی اندرونی جانب بھاگا۔ قاسم نے اپنی پوری لڑائی کے دوران شاگال کو کہیں نہ دیکھا تھا۔ اسے فکر تھی کہ پراسرار شاگال کہیں کشتی کے ذریعے فرار ہی نہ ہوچکا ہو۔ قاسم جہاز کے درمیانی کیبن میں آیا ۔ یہاں آمنے سامنے تین تین کیبن بنے ہوئے تھے۔ قاسم اپنی کون آلود تلوار لئے ایک ایک کیبن میں جھانکنے لگا۔ اسے شاگال کہیں دکھائی نہ دیا نہ ہی اسے مارسی کا کوئی سراغ ملا۔ اب قاسم کے پریشان ہونے کی باری تھی قاسم بھاگ کر اندرونی احاطے سے باہر نکلا اور عرشے کی جانب بڑھا۔ جہاز کے عرشے پر پہنچ کر قاسم نے سمندر میں چاروں طرف نگاہ دوڑائی اسے دور دور تک شاگال یا کسی کشتی کے کوئی آثار دکھائی نہ دیئے۔۔۔تو کیا شاگال نے سمندر میں چھلانگ لگا دی تھی۔۔۔؟ قاسم سوچنے لگا۔

اب اچانک قاسم کو جہاز میں ممکنہ تہہ خانے کا خیال آیا۔ وہ دوبارہ تیزی کے ساتھ جہاز کے اندرونی احاطے میں گھسا اور جہاز کی نچلی منزل یعنی پیندے پر موجود کسی تہہ خانے کا راستہ تلاش کرنے لگا۔ اندرونی احاطے میں موجود کیبنوں کے اختتام پر قاسم کو لکڑی کے تختوں سے بنی ایک سیڑھی دکھائی دی۔ اب وہ کسی چیتے کی طرح چوکنا ہو چکا تھا۔ نچلی منزل میں اترتے ہوئے قاسم کوشش کر رہا تھا کہ اس کے قدموں کی آہٹ پیدا نہ ہو لیکن پھر بھی جونہی وہ نچلی منزل میں اترا۔ ایک سنسناتا ہوا برچھا اس کی جانب لپکا۔ بہت ممکن تھا کہ ہوا میں اڑ کر آتے ہوئے اس برچھے سے قاسم کی گردن کٹ جاتی لیکن اس کی چھٹی حس نے بروقت کام دکھایا اور وو ایک دم اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔ برچھا ہوا میں زناتے کی واز کے ساتھ کسی پھرکلی کی طرح گھومتا ہوا آیا اور قاسم کے ایک دم بیٹھ جانے کی وجہ سے اس کے اوپر سے گزرتا ہوا عقبی دیوار میں جا کر کھب گیا۔

یہ برچھا خطرناک دشمن شاگال نے پھینکا تھا۔ قاسم کی نظر ایک دم شاگال پر پڑی۔ شاگال جہاز کے تہہ خانے میں موجود تھا لیکن قاسم کی نظر یکایک شاگال پر پڑنے کے بعد اس کے عقب میں کھڑی مارسی پر پڑی۔ قاسم کو ایک زور دار جھٹکا لگا اور وہ شاگال کو بھول کر مارسی کو دیکھنے میں ہی مصروف ہوگیا۔ مارسی کی حالت بہت خستہ تھی۔ وہ بے حد کمزار اور لاغر دکھائی دے رہی تھی۔ اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پیدا ہوگئے تھے اور اس کا لباس جگہ جگہ سے پھٹا ہوا تھا۔ مارسی کی حالت دیکھ کر قاسم کے دل کو دھکا لگا قریب ہی فرش پر کٹی ہوئی رسی کے وہ ٹکڑے پڑے ہوئے تھے جن سے مارسی بندھی رہتی تھی۔ ابھی کچھ دیر پہلے شاگال نے ایک برچھے کی مدد سے مارسی کی رسیاں کاٹی تھیںَ وہ مارسی کو لے کر یہاں سے فرار ہونا چاہتا تھا۔ لیکن عین وقت پر قاسم پہنچ گیا۔ شاگال نے اپنا برچھا تو قاسم پر پھینک دیاتھا چنانچہ اس نے جونہی قاسم کو مارسی کی جانب متوجہ دیکھا کسی چھلاوے کی طرح چھلانگ لگائی اور نزدیک کی دیوار پر لٹکا لوہے کا لکڑیاں کاتنے والا بھاری تبر اٹھا لیا ،یہ جہاز میں استعمال ہونے والے اوزاروں میں سے ایک تھا۔ قاسم نے شاگال کی کے ہاتھ میں تبر دیکھا تو دل ہی دل میں مسکرا دیا۔ یہ لکڑیاں کاٹنے والا کلہاڑا قاسم کی تلوار کاکہاں مقابلہ کر سکتا تھا؟ لیکن شاگال کے انداز سے یوں لگتا تھا جیسے وہ اس بھاری بھر کم کلہاڑے کو بھی کسی برچھے کی طرح آسانی کے ساتھ استعمال کر لے گا۔(جاری ہے )

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 116 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح