لارڈز کرکٹ میچ جیت لیا! اب آگے؟

لارڈز کرکٹ میچ جیت لیا! اب آگے؟

لارڈز کرکٹ گراؤنڈ لندن میں ہونے والے پاکستان اور انگلینڈ کے ٹیسٹ میچ کا تیسرے روز کا کھیل ختم ہوا تو پاکستان ٹیم کو 281رنز کی برتری حاصل ہو چکی تھی اور اس کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ تھے،توقع کی جارہی تھی کہ پہلی اننگز کی طرح سنیئر بلے باز بہتر کھیل کامظاہرہ کریں گے تو یہ برتری کم از کم 350ہو جائے گی تو میچ جیتنے کے امکانات بڑھ جائیں گے، مگر ایسا نہ ہوسکا،مصباح بد قسمتی سے معین علی کے پیچھے ہی گیند پر چھکا مارتے ہوئے باؤنڈری پر کیچ ہوگئے یہ مشکل کیچ تھا جو فیلڈرنے اپنے قدکا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھی کیا، یونس خان اپنا روائتی کھیل پیش نہ کرسکے اس سے پہلے محمد حفیظ بھی صفر پر آؤٹ ہو چکے تھے اور اظہر علی صرف 29رنز بناسکے، اسد شفیق ااور سرفراز احمد نے تھوڑی کوشش توکی لیکن یہ بھی نہ جم سکے، اس تیسرے روز کے کھیل کی خبر پر ایک معاصر نے سرخی جمائی’’ بیٹسمینوں نے جیت کا بوجھ باؤلروں پر ڈال دیا‘‘ یہ بہت بر محل اور حقیقت پسندانہ سرخی تھی، واقعی اگلے روز آخری دو وکٹیں صرف ایک رنز کے اضافے کے بعد گرگئیں تو شائقین کرکٹ مایوسی کا شکار ہو گئے تھے کہ گورے 283سکور کرلیں گے کہ دو دن کا وقت بھی ہے جبکہ پاکستان کے باؤلروں کے لئے یہ مشکل کام تھا کہ دس وکٹیں اتنے سکور کے اندر گرالیں۔

انگلینڈ کے کھلاڑی جب میدان میں اترے تو سنبھل کر کھیل رہے تھے، خصوصی طور پر یہ نظر آیا کہ وہ محمد عامر کے لئے خاص ہدایات کے تحت کھیلتے ہیں کہ بہت آسان گیند پر سکور لیتے ورنہ چھوڑ دیتے یا روک لیتے تھے، ان کی یہ احتیاط ادھر کی اُدھر رہ گئی جب دوسری طرف سے راحت علی کو کھیلنے کے شوق میں وہ اپنی پہلی تین وکٹیں کم سکور میں گنوا بیٹھے،کُک اور روٹ کا آؤٹ ہو جانا نیک شگون تھا، ان کے بعد بیلنس نے سنبھالنے کی کوشش کی لیکن وہ یاسر شاہ کا شکار ہو گئے پھر یاسر شاہ نے پہلی اننگز کی طرح ایسے گیند کرائے کہ گورے ان کو سمجھ ہی نہ سکے وہ بھی چار آؤٹ کر گئے جبکہ آخری سپیل میں محمد عامر بھی فارم حاصل کرگئے شاید نفسیاتی دباؤ سے باہر آگئے تھے انہوں نے بھی دو آؤٹ کئے یوں باؤلروں کی محنت سے پاکستان نے یہ ٹیسٹ چوتھے روز ہی 75رنز سے جیت لیا، یہ تاریخ ساز فتح تھی، اگرچہ اس گراؤنڈ میں چوتھی ہے لیکن مجموعی طور پر 20سال کے بعد یہاں میچ جیتا ہے۔اب اس گراؤنڈ پر مصباح اور یاسر شاہ نے کئی ریکارڈ اپنے اور اپنے ملک کے نام کرلئے ہیں،پوری قوم خوشی سے جھوم اٹھی، خود کھلاڑیوں نے اپنے جسمانی فٹنس کے لئے فوجی ٹرینروں کوخراج تحسین پیش کیا۔یہ درست کہ نوجوانوں نے جذبہ سے کھیل کر ایک مشکل میچ جیت لیا اگرچہ جب ٹاس جیت کر مصباح نے پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا تو ماہرین نے اسے غلط قرار دیا لیکن ٹیم نے حوصلہ نہ ہارا اور جذبہ سلامت رہا جس نے میچ جتوادیا، یاسر کی گیندبازی پر آسٹریلیا کے نامور سپن باؤلر بھی جھوم اٹھے، ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی والی بات ہے کہ ہماری کرکٹ ٹیم کچھ بھی کر گزرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، میرٹ یا ڈی میرٹ کی بات کئے بغیر کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب مجموعی طور پر پوری ٹیم کی کوشش کا نتیجہ ہے کہ یہ کامیابی ملی، فیلڈنگ میں چند غلطیوں کے سوا کوئی بڑی غلطی بھی نہیں ہوئی۔

کرکٹ ٹیم کو مبارک باد ،قوم نے خوشی منائی، لیکن ہم وہ ہیں جو ایسی کارکردگی پر داد کے ڈونگرے برسانے میں بخل نہیں کرتے لیکن ذرا خراب کارکردگی ہو توخود مایوس ہوتے اور کھلاڑیوں کے لتے لیتے ہیں، یہ انتہا پسندانہ رویے ہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے، کھیل کو کھیل ہی جانا جائے، ٹیم کے کھلاڑیوں کو بھی اپنی کارکردگی برقرار رکھنا ہوگی، یاسر شاہ اور راحت علی نے افادیت ثابت کردی، محمد عامر بھی دباؤ سے نکل آیا ہے اگلا میچ بھی ٹرننگ وکٹ پر ہے ۔وہاں پھر یہ تینوں کامیابی دلانے میں اہم ترین کردار ادا کریں گے، تاہم بیٹسمینوں کو اب ہر صورت زیادہ سنجیدگی اور بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ہم کسی پر تنقید نہیں کرتے یہ اب کرکٹ ٹیم مینجمنٹ کا کام ہے کہ وہ اگلے میچ کے لئے کھلاڑیوں کوذہنی طور پر تیار کرے، ہم تو قوم کی طرح خوش ہیں، دعا گو ہیں کہ کھلاڑی محنت کریں، جدوجہد کریں اللہ مدد گار ہوگا اور ٹیم سیریز جیت کرآئے گی۔

مزید : اداریہ