الیکشن لڑے بغیر نظام بدلنے کی خواہش اور امید؟

الیکشن لڑے بغیر نظام بدلنے کی خواہش اور امید؟

عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت عام انتخابات میں حصہ نہیں لے گی، انہوں نے الیکشن کمیشن کے کردار اور انتخابی نظام پر بھی شدید ترین تحفظات کا اظہار کیا ہے، ایک طرف تو وہ انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے، لیکن الیکشن والے دن ان کا جنوں فارغ نہیں بیٹھے گا،بلکہ انہوں نے پولنگ سٹیشنوں کے باہر دھرنے کا اعلان کیا ہے۔ان دھرنوں کا مقصداور نعرہ”نظام بدلو“ ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری کے راولپنڈی کے جلسہ عام میں قراردادوں کے ذریعے کچھ مزید مطالبات بھی کئے گئے ہیں،جن میں کہا گیا ہے کہ ملک میں 35صوبے بنائے جائیں،وزیراعظم کا انتخاب براہ راست کیا جائے،وزرائے اعلیٰ کا عہدہ سرے سے ہی ختم کردیا جائے۔

جناب ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف سے الیکشن کے بائیکاٹ کی امید تو پہلے سے تھی، اگرچہ انہوں نے انتخاب میں حصہ لینے کا امکان یکسر مسترد تو نہیں کیا تھا، لیکن قرائن بتا رہے تھے کہ وہ الیکشن کا بائیکاٹ ہی کریں گے، کیونکہ لاہور میں اپنے پہلے جلسے اور بعدازاں لانگ مارچ اور دھرنے کے دوران انہوں نے جو بھی مطالبات کئے متعلقہ حضرات نے ان پر کوئی زیادہ توجہ نہ دی، حتی کہ دھرنا ختم کرانے کے لئے جو وعدے وعید ہوئے لگتا ہے وہ بھی وقت گزاری کے لئے تھے، جہاں تک الیکشن کمیشن کا تعلق ہے اس کے خلاف وہ پٹیشن لے کر سپریم کورٹ گئے تھے جو مسترد کردی گئی، البتہ ان کی دوہری شہریت کے حوالے سے بعض سوالات ضرور اُبھر کر سامنے آ گئے، جس کے بعد انہیں واضح اعلان کرنا پڑا کہ وہ کینیڈا کی شہریت بہرحال نہیں چھوڑیں گے۔

دہری شہریت کا حامل کوئی شخص نہ تو الیکشن لڑ سکتا ہے نہ سیاسی پارٹی کا سربراہ بن سکتا ہے اور نہ ہی کسی سیاسی پبلک عہدے پر متمکن ہوسکتا ہے، ایسی صورت میں اگر عوامی تحریک الیکشن لڑتی تو بارات کے دولہے کے بغیر ، اس کے لئے یہ الیکشن کس کام کے ہوتے؟ ایسے الیکشن جن میں عوامی تحریک کے عہدیداراور ورکر الیکشن لڑ رہے ہوتے اور اس کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری اکھاڑے سے باہر بیٹھ کر تماشا دیکھتے، غالباًیہ انہیں گوارا نہ ہوتا، سو انہوں نے سوچا کہ ہم نہیںلڑ سکتے تو عوامی تحریک بھی الیکشن نہیں لڑے گی، اب سوال یہ ہے کہ جو جماعت برضا و رغبت انتخابی میدان سے باہر رہنے کا اعلان کرتی ہے وہ اپنے نعرے ”نظام بدلو“ کو عملی جامہ کیسے پہنا سکتی ہے؟کوئی بھی نظام بدلنے کے لئے موجودہ دور میں سیاسی جدوجہد ہی بنیادی کردار ادا کرتی ہے، پاکستان بھی سیاسی جدوجہد کے ذریعے ہی قائم ہوا تھا، ہندوستان کی آزادی کے لئے جدوجہد تو کسی نہ کسی انداز میں انگریزوں کی برصغیر میں آمد کے ساتھ ہی شروع ہوگئی تھی اور اس کی کئی سمتیں اور جہتیں تھیں،1857ءکی جنگ آزادی بھی ایک رخ تھا، جو کامیاب نہ ہوئی، البتہ اس کی ناکامی کے بعد مسلمانوں کی زندگیوں میں مشکلات بڑھ گئیں،جس کے بعد مسلمان زعما نے انگریزی استبداد سے بچنے کی تدبیریں بھی سوچیں، انڈین نیشنل کانگرس بھی ہندوستان کی آزادی کے لئے آگے بڑھی،لیکن حضرت قائداعظمؒ کی سربراہی میں مسلم لیگ نے لاہور میں 23مارچ 1940ءکو ایک قرارداد کے ذریعے پاکستان کو اپنا نصب العین بنایا تو سات سال کی مدت میں اسے حاصل بھی کرلیا،قائداعظمؒ اور مسلم لیگ کی ساری جدوجہد قانونی اور آئینی تھی، اپنی پوری سیاسی زندگی میں قائداعظمؒ نے دلائل کے ہتھیاروں سے ہر قسم کے مخالفوں کو زیرکیا۔وہ پوری سیاسی زندگی میں ایک بار بھی جیل نہیں گئے،کوئی لانگ مارچ نہیں کیا کوئی دھرنا بھی نہیں دیا اس وقت کے ہندوستان میں جو بھی قوانین نافذ تھے۔انہوں نے ان کا احترام بھی کیا، لیکن ہدف کو آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیا، چنانچہ انہوں نے ایک ملک بنایا، جس میں ایک پاکستانی قوم بستی ہے اور اب 65سال کی عمر کو پہنچ چکی ہے۔

بدقسمتی یہ ہوئی کہ قائداعظمؒ نے جو ملک اسلام کی تجربہ گاہ بنانے کے لئے حاصل کیا تھا اس میں ہم نے طرح طرح کے دوسرے سیاسی و غیر سیاسی تجربات تو کئے لیکن اسلام کا تجربہ نہ کر پائے،ہم نے پارلیمانی نظام کا تجربہ کیا،صدارتی نظام بھی نافذ کئے رکھا، براہ راست فوج کی حکمرانی کا ذائقہ بھی چکھا،پارلیمانی اور صدارتی نظام کا ملغوبہ بنا کر بھی دیکھ لیا، لیکن ان سارے تجربات سے ہم نے سیکھا کچھ نہیں اور اب بھی نئے تجربات اور نئے مطالبات ہوتے رہتے ہیں۔

ڈاکٹر طاہرالقادری کو موجودہ نظام پسند نہیں، وہ اسے بدلنا چاہتے ہیں لیکن کس طرح؟ الیکشن وہ لڑنا نہیں چاہتے، لڑ بھی لیں تو ان کی جیت کے ایسے امکانات موہوم ہیں جو نظام کو بدلنے میں ممدومعاون ثابت ہوسکیں۔ الیکشن کمیشن انہیں پسند نہیں، تمام حکومتوں کو وہ فرعون اور یزید کی جانشین قرار دیتے ہیں تو پھر نظام کیسے بدلا جائے گااور کون بدلے گا؟انتخابی اور جمہوری جدوجہد کو اگر آپ تیاگ دیں تو غیر جمہوری اور مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے تو کیا ڈاکٹر صاحب کے نہاں خانہ دماغ میں کوئی ایسا راستہ ہے؟ ہمارا خیال ہے ان کا ذہن اس ضمن میں واضح نہیں کہ زمانہ مسلح جدوجہد بھی کسی کامیابی کی ضمانت نہیں۔دنیا میں بہت سے گروہ یہ راستہ اختیار کرکے ترک کر چکے ہیں، برطانیہ میں مسلح جدوجہد کرنے والے ناکام ہوکر آئینی راستے کی طرف آ گئے، ہمارے خطے میں سری لنکا میں تامل ٹائیگر کی جدوجہد ناکام ہوگئی، خود ہمارے ہاں جن لوگوں نے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کررکھا ہے، وہ خون خرابہ کرنے میں تو ضرور کامیاب ہیں، لیکن جو کامیابی وہ حاصل کرناچاہتے ہیں، اس کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ورنہ اب تک انہیں کچھ نہ کچھ تو حاصل ہو گیا ہوتا۔

ان حالات میں نظام بدلنے کے لئے نظام کے اندر رہ کر جدوجہد کرنا ہی بہترین راستہ ہے۔یہ راستہ طویل ضرور ہے،لیکن کامیابی اسی راستے سے ملتی ہے۔دنیابھر کے سیاسی نظاموں کا جائزہ لیں تو اسی نتیجے پر پہنچا جاسکتا ہے کہ دلجمعی سے کی جانے والی سیاسی جدوجہد کے ذریعے ہی کامیابی ملتی ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری نے الیکشن والے دن دھرنے دینے کا جو اعلان کیا ہے کیا اس سے نظام بدلنے میں کوئی مدد مل سکتی ہے؟ہمارے خیال میں یہ تو ہو سکتا ہے کہ وہ الیکشن والے دن پولنگ سٹیشنوں پر دھرنا دے کر اپنی موجودگی کا احساس دلا دیں، ممکن ہے کسی جگہ کوئی پرتشدد واقعہ ہو جائے تو وہاں الیکشن میں کوئی خلل بھی پڑ جائے توزیادہ سے زیادہ کسی حلقے یا چند حلقوں کا انتخاب موخر ہوسکتا ہے لیکن اس سے نظام بہرحال نہیں بدلا جا سکے گا۔کیونکہ اگرنظام دھرنوں سے بدلا جا سکتا تو یہ کام کرنے والے بہت تھے۔

ڈاکٹر صاحب کے راولپنڈی کے جلسے میں جو مطالبات قراردادوں کی شکل میں سامنے آئے وہ بھی ایسے ہیں کہ آئین کی موجودگی میں ان کا پورا ہونا مشکل ہے۔پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا نعرہ لے کر اٹھی تھی، سابق وزیراعظم گیلانی اس سلسلے میں بہت متحرک تھے، بلکہ انہوں نے ایک بار تو جوش جذبات میں یہ تک کہہ دیا تھا کہ سرائیکی صوبہ 2013ءکے الیکشن سے پہلے بن جائے گا۔لیکن اس سلسلے میں ہوا کیا؟صرف سینیٹ میں ایک بل منظور ہو سکا اور بس، جس کا اب کوئی فائدہ نہیں، اگلی پارلیمنٹ جانے اور حکومت جانے، جہاں ایک صوبہ بنانا مشکل ہے وہاں 35صوبے کون بنائے گا،35 صوبے بنے تو ہر تین اضلاع پر ایک صوبہ بنانا پڑے گا اس کے لئے اخراجات کہاں سے آئیں گے؟ کیا ڈاکٹر صاحب ملک کی موجودہ معاشی حالت کا حقیقی ادراک رکھتے ہیں؟یہ اگر قرارداد پیش کرنے والوں نے نہیں سوچا تو ڈاکٹر طاہر القادری کی گہری نظر اس پر ضرور پڑنی چاہیے تھی،اسی طرح وہ وزیراعظم کا انتخاب بھی براہ راست چاہتے ہیں اور وزرائے اعلیٰ کے عہدے ختم کرنے کے حق میں ہیں۔یہ سارے مطالبات تو سیاسی ہیں اور سیاست سے جڑے ہوئے ہیں لیکن وہ ”ریاست بچانے کے لئے سیاست کوخیر باد“ کہہ چکے ہیں تو ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ جناب یہ مطالبات کیسے پورے ہوں گے؟آئین کی حدود میں رہ کر یہ تو ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب خود الیکشن لڑیں اور اپنے اتنے ہم خیال پیدا کرلیں کہ ان کی دوتہائی اکثریت ہو جائے، پھر آئینی ترامیم کریں اور نظام بدل لیں براہ راست وزیراعظم کا انتخاب کرائیں، یا وزرائے اعلیٰ کے عہدے ختم کریں جو چاہے کریں، آئین کے اندر تو یہی راستہ ہے، باقی سارے راستے ماورائے آئین ہیں، جو قوتیں ماورائے آئین اقدام کرسکتی ہیں، اگر وہ ایسا کر گزریں تو ان کا ایجنڈا اپنا ہوگااور ان کی سوچ بھی اپنی ہو گی، وہ ڈاکٹر طاہرالقادری کا ایجنڈا کیوں اختیار کریں گی؟ اس لئے ڈاکٹر صاحب اگر نظام بدلنے میں سنجیدہ ہیں تو سنجیدہ سیاسی جدوجہد کریں، ان کے نزدیک کسی دوسرے طریقے سے نظام ایسے بدلا جا سکتا ہو جیسا وہ چاہتے ہیں تو براہ کر م ہمارے قارئین کو بھی آگاہ فرمائیں۔       ٭

مزید : اداریہ