سرفروش قبیلے کا آخری مسافر

سرفروش قبیلے کا آخری مسافر
 سرفروش قبیلے کا آخری مسافر

  

قاری محمد اکبر ہماری مسجد میں استاد تھے۔ ہم لوگ ان سے قرآن حکیم پڑھتے تھے۔ایک روز راستہ میں ملے، فرمانے لگے زندگی میں کچھ کر گزرنے کی تمنا ہی زندگی کی اصل ہے اگر یہ نہ ہو تو انسان اور ڈھور ڈنگر میں کچھ فرق نہیں۔ مَیں نے کہا محض تمنا تو کافی نہیں فیصلہ تو عملی اقدام سے ہی ہوتا ہے:

زندگی اس کی جس کو زمانہ روئے

وگرنہ لوگ آتے ہیں دنیا میں جانے کے لیے

انہوں نے ایک اکہرے بدن، میانہ قد،میانہ رو شخص کی طرف اشارہ کیا، مجھے فرمانے لگے کچھ کر گزرنے کی تمنا ہے تو اس آدمی سے مدد لو۔مَیں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ فرمانے لگے یہ ان 75 آدمیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے دنیا میں کچھ کر گزرنے کا حلف لیا تھا۔ یہ کل 75 آدمی تھے جنہوں نے ایک مرد حق بین و حق شناس کی دعوت پرلبیک کہا اور اپنا سب کچھ ایک مقصد پر قربان کر دینے کا حلف اٹھایا۔ یہ واقعہ 1942ء کا ہے۔ ایک شخص نے عہد باندھا کہ ہم بزم کا نظام بدلنے کی کوشش کریں گے اوراس مقصد کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیں گے۔ اس مقصد کے حصول میں ہمارے راستے میں کوئی رکاوٹ، رکاوٹ نہیں بنے گی۔ حلف لینے والی شخصیت معروف عالم سید ابو الاعلیٰ مودودی کی تھی۔ ان کے ہاتھ پر حلف اٹھانے والا یہ شخص شریف احسن تھا۔آج اسی شخص کا جنازہ پیپلز کالونی فیصل آباد کی ایک گراؤنڈ میں رکھا ہوا تھا۔ جنازہ مغرب کی نماز کے بعد اٹھایا گیا۔ جنازے میں چیدہ لوگ شامل تھے، لیکن سب کے سب علم دوست، علم کے شناسا اور متحرک و محرک۔ سب مرحوم کی خوبیاں بیان کررہے تھے۔

اس شخص کا نام شریف احسن تھا۔ اسم بامسمّٰی وہ خود شریف تھا اور احسن بھی تھا۔ بچپن ہی میں سارا قرآن حفظ کیا۔ محفوظ رکھا۔ہمیشہ منزل سننے اور سنانے کی پابندی کی۔ گھر کے قریب تو نہیں بلکہ کچھ ہی فاصلے پر مسجد تھی جس کا نام نورانی مسجد ہے۔ موسم سردی کا ہو یا گرمی کا قرآن سننے سنانے کی لگن دل میں بسی ہوتی تھی۔ جب قویٰ میں اضمحلال آگیا، تراویح میں قرآن سنانا مشکل ہوا توقرآن کے سامع ہو گئے۔منزل پختہ تھی کیا مجال امام صاحب سے کوئی لفظ چوک جائے یا غلط پڑھ کر آگے چل دیں فوراً لُقمہ دیتے تھے۔ کیا مجال امام صاحب بغیر درستی آگے بڑھ جائیں۔ جس شخص کے ہاتھ پر انہوں نے وعدہ نبھانے کا عہد کیا اس کی موت تک اس کا ساتھ دیا۔ اس کی صحبت میں رہ کر بصارت اور بصیرت دونوں میں خوب اضافہ ہوا۔ ان کو مطالعے کا گہرا ذوق تھا۔ ساری عمر ان کے ماہوار رسالے ’’ترجمان القرآن‘‘ کے قاری رہے۔ رسالہ ملنے میں تاخیر ہو جاتی تو ان کی بے چینی دیدنی ہو جاتی تھی۔ رسالے کے مشمولات پر خوب غور کرتے ، دوستوں کی مجلس میں اس کے مندرجات کا ناقدانہ جائزہ لیتے۔ دوسروں کے ساتھ بحث میں حصہ لیتے تھے۔ عمر بھر اپنے عہد کو نبھاتے رہے۔ جب سالار کارواں نہ رہا اور قیادت تبدیل ہوئی تو آخری ایام میں محسوس کیا کہ ساتھ چلنے والے اصل ڈگر سے ہٹ رہے ہیں تو پہلے جیسی گرم�ئ گفتار اور گرم�ئ کار نہ رہی ۔ کچھ سرفروش اور گرم رو ساتھیوں کو ساتھ ملایا او رتحریک اسلامی کے نام سے منزل کا سفر جاری رکھا۔

یہ 19 فروری کا دن تھا جب عزرائیل علیہ السلام نے دروازے پر دستک دی مولانا اب بس کیجئے مولاکا بلاواآیا ہے فوراً تیار ہو گئے۔زبان حال سے پکارے وہی بلاوا جو ہمارے جد حضرت آدم علیہ السلام کو بھی آیا تھا۔ وہی بلاوا جو جد انبیائے کرام جناب ابراہیم علیہ السلام کو بھی آیا، وہی بلاوا جو موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام کو بھی آیا، وہی بلاوا جو سرور انبیاء خاتم الانبیاء جناب حضرت محمد رسول اللہﷺ کو بھی آیا تو اگر یہی بلاوا مجھے بھی آیا ہے تو پھر ڈر کس بات کا:

دانش میں خوفِ مرگ سے مطلق ہوں بے نیاز

میں جانتا ہوں موت ہے سنت رسولﷺ کی

یہ فروری 2017ء کے آخری ایام تھے۔ مولانا شریف احسن نے اپنی جان، جان آفرین کے سپرد کر دی۔ مغرب کی نماز کے بعد ان کی نماز جنازہ کے لئے صف بندی کی گئی جنازے کے بعد اس سرفروش قبیلے کے آخری مسافر کو زمین نے اپنی آغوش میں لے لیا۔مولانا شریف احسن خوشاب کے رہنے والے تھے خمیر فیصل آباد کی مٹی کا تھا اس لئے فیصل آباد کی مٹی کا جزو ہو گئے۔ مولانا شریف احسن بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔ تمام خوبیوں کے باوجو دکبھی شہرت کے پیچھے نہ بھاگے،نہ ہی اس کی تمنا کی۔ بہت صاحب علم اور صاحب فضل تھے۔ دوا سازی کو بطور پیشہ اپنایا لیکن صرف اسی قدر جس سے قوت لا یموت حاصل ہو ۔ اس سے زائد حاصل کرنے کی کبھی تمنا نہ کی۔زندگی بھر ایک ہی شوق پالا مطالعہ بس مطالعہ۔سیرت کے موضوع پر ہر نئی کتاب کی جستجو میں رہتے۔ حصول اور مطالعہ کے بغیر چین سے نہ بیٹھتے۔ذاتی کتب خانہ گھر میں تو تھا ہی لیکن دماغی کتب خانہ جو کثیرالتعداد ہونے کے باوجودلا متناہی تھا۔ سینکڑوں کتابوں کے نام اور ان کے مضامین ذہن میں مستحضر ہوتے تھے۔ دوستوں میں بیٹھ کر ان مضامین پر علمی بحث کرتے، سننے والے ان کی معلومات سے بہرہ ور ہوتے۔ مولانا حافظ شریف احسن بہت سے کمالات کے حامل انسان تھے۔ تقویٰ، تدین، طہارت تو ان کے سلاح حیات تھے ہی، لکھنے پڑھنے کا ذوق بھی بدرجہ اتم تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ادبی ذوق بھی رکھتے تھے لیکن شاعری کا شوق حمد و نعت تک ہی محدود تھا۔ان کا شعری مجموعہ نعت کے حوالے سے ہے، جس کا عنوان انہوں نے ’’عبدہ ورسولہ‘‘ باندھا۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ جمادی الاولیٰ 1421ھ بمطابق اگست2000ء میں شائع ہوئی۔ ’’عبدہ ورسولہ‘‘کے چند اشعار مشتے از خر وارے ملاحظہ ہوں:

تمام حمد ہے اُس ذات کبریا کے لیے

ملی ہے جس سے زباں نعت مصطفیؐ کے لیے

رحمتوں کا نزول ہوتا ہے

یعنی ذکر رسولؐ ہوتا ہے

جہاں میں لائے ہیں تشریف رحمت عالمؐ

لوائے حمد کے حامل وہ حامد و محمودؐ

انہی کا نقش کف پا ہے رہبر عالم

وہی ہیں قافلہ جاں کی منزل مقصود

انتساب کے حوالے سے لکھتے ہیں:ان ژَرف نگاہ اور دُور بین انصار دختران اسلام کے نام جوحضور پُر نورﷺ کی مدینہ طیبہ میں تشریف آوری کے موقع پر یہ گیت گاتے ہوئے تاقیامت آنے والے انسانوں کی ترجمانی کر رہی تھیں:

طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا

مِنْ ثَنِیَّاتِ الْوَدَاعِ

وَجَبَ الشُّکْرُ عَلَیْنَا

مَادَعَا لِلّٰہِ دَاعِ

کوہ وداع کی چوٹیوں سے ہم پر چودھویں کا چاند نکل آیا ہے۔ جب تک کوئی اللہ کو پکارنے والا پکارتا رہے گا ہم پر (رب کریم و محسن کا) شکر واجب ہے۔

نعتیہ مجموعے میں چراغ اللہ ھو کے عنوان سے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

اگرچہ ظلمت شب خیمہ زن ہوئی ہر سو

ہے میرے سینے میں روشن چراغ اللہ ھو

یہ وہ چراغ ہے جس کو بجھا سکے نہ جہاں

یہ شور و شدت صرصر نہ تندی طوفان

ہزار سیل بڑھے صد ہزار برق گرے

یہ نقش وہ ہے کہ لوح جہاں سے مٹ نہ سکے

حکیم حافظ شریف احسن سرفروش قبیلے میں شامل ہونے والے افراد میں ترتیب کے اعتبار سے پچھترویں فرد تھے۔ ان افراد میں سے تقریباً سبھی دنیا سے رخصت ہوئے ۔ مولانا شریف احسن بھی قافلے کے پیش رو ساتھیوں سے جا ملے۔اب اس سرفروش قبیلے کاکوئی فرد شاید اس دھرتی پر نہ ہو۔اللھم اغفرلہم وارحمہم اجمعین

مزید :

کالم -