ملا عمر ایک پراسرار شخصیت (2)

ملا عمر ایک پراسرار شخصیت (2)
ملا عمر ایک پراسرار شخصیت (2)

  



قارئین محترم:۔ اس سے قبل23 جولائی کوامریکی جنرل جان ایف کیمبل نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا اور جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی انہوں نے آپریش ضرب عضب کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور افغان امن مذاکرات کے حوالے سے بھی جنرل راحیل شریف کے مخلصانہ کردار کوسراہا اور اعتراف کیا کہ ان کی کوشش سے یہ مرحلہ شروع ہوا ان مذاکرات کے نتیجے میں اس خطہ میں امن بحال ہوجائے گا اور یہ مذاکرات خوش آئند ہیں۔ اب افغانستان میں وہ کون سی قوت ہے جو طالبان اور افغان حکومت کے درمیان گفتگو کی بجائے تصادم چاہتی ہے اس کو ڈھونڈنا ہوگا۔

ملا عمر کی پراسرار مو ت نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے یہ خبر بھی آئی ہے کہ ان کے صاحبزادے کو قتل کردیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی ایمن الظواہری کی موت کی خبر بھی چل رہی ہے ملا عمر کی موت کے انکشاف نے طالبان کے اندر تقسیم کو واضح کردیا ہے اب ایک نئی کشمکش ملا عمر کی جانشینی کے حوالے سے جنم لے چکی ہے۔ ملا عمر کو امیرالمومنین کا درجہ دیا گیا تھا اب کوئی بھی امیرالمومنین کا خطاب حاصل نہیں کرسکے گا ملا عمر کے خاندان نے تو اعلان بغاوت کردیا ہے اور ملا منصور کی قیادت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ یہ بھی سوال اٹھ رہا ہے کہ ملا عمر کی موت کو ملا منصور نے کیوں پوشیدہ رکھا؟ اور ملا عمر کی موت کے انکشاف کے ساتھ ہی وہ طالبان کا رہبر بن گیا کیا طالبان کمانڈروں کا اجلاس بلایا گیاتھا؟ اس کے لئے ضروری ہے کہ طالبان کمانڈروں اور علماء کا اجلاس بلایا جائے اور ایک متفقہ لیڈر چناجائے۔ جب تک یہ مرحلہ طے نہیں ہوگا طالبان کے درمیان وحدت برقرار نہیں رہ سکے گا۔

چند دن پہلے انکشاف ہوا کہ جلال الدین حقانی بھی فوت ہوچکے ہیں لیکن دو اگست کو بیان آگیا کہ وہ حیات ہیں اور انہوں نے ملا منصور کی قیادت کو تسلیم کرلیا ہے اور بیعت کرلی ہے۔ انہوں نے ملا قیوم ذاکر سے اختلافات کی تردید کردی ہے اور اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ ملا منصور کے انتخاب سے مطمئن ہیں اور تمام رہنماؤں اور کارکنوں سے گزارش کرتے ہیں کہ ملا منصور کی مکمل اطاعت اور بیعت کریں اور اتحاد اور اتفاق قائم رکھیں تاکہ بیس سالہ جدوجہد رائیگاں نہ جائے۔ اختلافات افغان عوام پر منفی اثرات ڈالیں گے اور اس کے اثرات عالم اسلام پر بھی پڑیں گے۔ ملا عمر کے خاندان کی طرف سے بھی بیان جاری ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ بھی طالبان کی تقسیم نہیں چاہتے مگر فیصلے اتفاق سے ہونے چاہیں اور شخصی فیصلے تحریک طالبان کے لئے نقصان دہ ہیں اس لئے ضروری ہے کہ انتخاب کے لئے جنگجو کمانڈروں علماء مشائخ اور جنگ میں مصروف طالبان رہنماؤں پر مشتمل شوری بلائی جائے اور متفقہ فیصلہ کیا جائے۔ یہ شوری جوبھی فیصلہ کرے گی ہم اسے تسلیم کرلیں گے۔ ملا عمر کے خاندان کو طریقہ کار سے اختلاف ہے باقی کسی چیز سے نہیں۔

طالبان کے نئے امیر نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہاکہ وہ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے موقف کو رد کرتے ہیں کسی کوبھی طالبان کے امور طے کرنے کا اختیار نہیں ہے انہوں نے جہاد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور افغان عوام کے دل جیتنے کا کہا ہے اور کہا ہے کہ ان کی کوشش ہوگی کہ ملا عمر کے طریقہ کار کو اپنائیں۔ دشمن ہر طرف سے اتحاد کو توڑنے کی کوشش میں مصروف ہیں ان سے بچاجائے اور جہاد کو کمزور نہ ہونے دیا جائے۔ مشکلات کاحل ایک دوسرے کو سننے اور مل بیٹھنے میں ہے ناراض دوستوں کو ساتھ ملائیں گے اور ان کو ساتھ ملانا فرض ہے۔ ہمارا ظاہر اور باطن ایک ہونا چاہیے افغانستان میں اسلامی نظام کے قائم ہونے تک جہاد جاری رہے گا امن اور صلح کی باتیں دشمن کی چال ہے اب امن مذاکرات کی کوئی اہمیت نہیں ہے امن افغانستان میں شرعی نظام قائم ہونے کے بعد ہوسکتا ہے۔ ہمارے درمیان علماء موجود ہیں قرآن کو درمیان میں رکھ کر بات کریں گے جو کمانڈر جہاں ہے اور جس علاقے کا ذمہ دار ہے وہ وہاں اسی طرح سرگرم رہے۔ اور اطاعت لازمی ہے۔ نظم وضبط لازمی شرط ہے جس نے امارت کے فیصلوں سے اختلاف کیا ہے اس کے لئے معافی ہے مجھے امیر بناکر مجھ پر بڑی ذمہ داری ڈال دی ہے اور مجھ سے کہا تھا یہ ذمہ داری آپ اٹھائیں گے اور میں نے کہہ دیاہے کہ جب بھی مجھ سے یہ ذمہ داری واپس لی گئی تو میں بخوشی اس کو لوٹادوں گا ناحق کشت وخون منع ہے اور جو کوئی فیصلوں کی خلاف ورزی کرے گا اسے شرعی اصولوں کے مطابق سزا ہوگی۔

ملا منصور کا یہ خطاب ایک کمرے میں تھااور آڈیو بیان ہے اس محفل میں بڑی تعداد میں طالبان موجودتھے۔

قارئین محترم:۔ افغانستان میں ملا عمر کے تنہائی میں زندگی گزارنے نے کئی ابہام پیدا کئے اور اس کے نتیجے میں داعش وجود میں آگئی اب نئے امیر کے سامنے دو طرح کی مشکلات ہیں کہ ایک تو طالبان کے اندر اختلافات ہیں جو ان کے لئے مشکلات پیدا کریں گے اور ان سے نمٹنا ہوگا دوسری مشکل افغان حکومت سے مذاکرات کا مرحلہ ہے اب طالبان میں ایک طبقہ مذاکرات چاہتا ہے ملا منصور نے اپنے خطاب میں اس کو رد کردیاہے، اس لئے ایک نئی کشمکش پیدا ہوگئی ہے ملا منصور کے اس بیان کے بعد افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بیان جاری کیا ہے کہ وہ مختلف طالبان سے مذاکرات کرے گا اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی اب دیکھنا یہ ہے کہ چین اور پاکستان کا اس میں کیا کردار ہوگا اور امریکہ کیا رخ اختیار کرے گا اشرف غنی کو امریکہ نے صدر بنایا ہے اس لئے فیصلے کا اختیار اشرف غنی یا عبداللہ عبداللہ کو نہیں ہے بلکہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کو ہے اس تبدیلی سے پاکستان کی مشکلات بڑھ گئی ہیں چین بھی ان مذاکرات کے حق میں ہے اب دیکھنا یہ ہوگا کہ وہ کس طرح اثر انداز ہوگا مذاکرات کے حوالے سے نئے امیر کا پیغام امریکہ کے لئے بھی باعث تشویش ہوگا امریکہ افغانستان کی دلدل سے نکلنا چاہتا ہے اب اس کی دم رہ گئی ہے ایسا نہ ہو کہ وہ دوبارہ افغانستان لوٹ آئے جبکہ سابق وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے اپنے مضمون میں امریکہ سے کہا تھا کہ وہ 2014 ء کے بعد افغانستان کی دلدل سے ایسے نکلے کہ دوبارہ مڑ کر افغانستان کی طرف نہ دیکھے ( یہ مضمون گار جین میں شائع ہوا تھا ) اور اس میں ہنری کسنجر نے امریکہ کو یہ بھی نصیحت کی تھی یا مشورہ دیا تھا کہ وہ افغانستان سے اس طرح نکلے کہ یہ تاثر قائم نہ ہوکہ وہ شکست کھاکر نکل رہا ہے کیا امریکہ اس تاثر سے باہر نکل سکا ہے ؟ وہ تو ایک شکست خوردہ سپر پاور کی حیثیت سے افغانستان سے لوٹ رہاہے اب اگر اس نے پیچھے مڑکر دیکھا تو یہ اس کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا مگر طالبان نے اسے سبق سکھادیا ہے ۔ اب امریکہ اس زوال کو ضرور دیکھے گا اس لئے کہ تاریخ ہر جنگ کے بعد اثرات ضرور قائم کرتی ہے اور اب ہم تاریخ کے اس فیصلے کو بھی دیکھیں گے لیکن فی الحال ہم اس کا مشاہدہ کریں گے کہ طالبان اپنی وحدت کو قائم رکھتے ہیں یا انتشار کی جانب جاتے ہیں خواہش ہے کہ ایک مسلم اور طاقتور افغانستان امن و خوشحالی کے دور میں لوٹ جائے ۔(ختم شد)

مزید : کالم