نوشہرہ میں شکئی کے عوام کا قاضی میڈیکل کمپلیکس کیخلاف مظاہرہ

نوشہرہ میں شکئی کے عوام کا قاضی میڈیکل کمپلیکس کیخلاف مظاہرہ

نوشہرہ(بیورورپورٹ) حاملہ خاتون کو بروقت علاج مہیا نہ کرنے پر علاقہ رشکئی کے عوام کا قاضی میڈیکل کمپلیکس کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ احتجاجی مظاہرین کا ہسپتال انتظامیہ اور لیڈی ڈاکٹر اور دائی کے خلاف زبردست نعرہ بازی اگر صوبائی حکومت نے ہسپتال انتظامیہ اور لیڈی ڈاکٹر سمیت دیگر عملے خلاف کاروائی نہ کی گئی تو اپنے بچوں سمیت شوبرا چوک نوشہرہ کینٹ میں خود سوزی کریں گے جس کی ذمہ داری ہسپتال انتظامیہ پر عائد ہوگی وزیر اعلیٰ، چیف جسٹس ہائی کورٹ پشاور ، سیکرٹری ہیلتھ اور وزیر صحت انصاف فراہم کریں ان خیالات کااظہار علاقہ رشکئی کے رہائشی گل اسلام، زاہد گل، محمداسحاق، گلزار، محمدعارف، شمس الرحمن، کاشف کی قیادت میں عوام نے نوشہرہ پریس کلب کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا احتجاجی مظاہرین نے قاضی میڈیکل کمپلیکس کے چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر طاہر، ڈاکٹر کرن، نرس شبانہ اور خالہ الفت سمیت دیگر عملے کے خلاف شدید نعرہ بازی کی انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہم نے وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل اور پراجیکٹ ڈائریکٹر محمدطاہر کو بھی درخواست دی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں نوشہرہ قاضی میڈیکل کمپلیکس کی لیڈی ڈاکٹر کرن اور نرسسز کی غفلت اور لاپرواہی اور عدم توجہ کے باعث نوشہرہ کی رہائشی حاملہ خاتون لیبر روم کی بجائے ہسپتال کی سیڑھیوں میں بچے کو جنم دے دیا جبکہ خاتون کا بچہ دانہ ناکارہ ہوگیا متاثرہ خاتون کو تشویشناک حالت میں پشاور ایل آر ایچ منتقل کردیاگیا قاضی میڈیکل کمپلیکس نوشہرہ میں طبی سہولیات کی عدم دستیابی وفراہمی پر متاثرہ خاتون کے لواحقین سراپا احتجاج انہوں نے کہا کہ بچے کے پیدائش میں تھوڑا وقت رہ گیا تھا حاملہ خاتون کو شدید تکلیف محسوس ہورہی تھی جسے ہم طبی امداد کی فراہمی کے سلسلے میں قاضی میڈیکل کمپلیکس نوشہرہ لے کر آئے وہ پر موجود لیڈی ڈاکٹر کرن نے حاملہ خاتون کو دیکھا اور پھر کہا کہ اب بھی بچے کی پیدائش میں کافی وقت ہے یہ کہہ کر حاملہ خاتون کو لیبر روم کی بجائے وارڈ میں رکھا گیا اور خود موبائل پر فیس بک کھیلنے لگی حاملہ خاتون کو شدید درد نے تنگ کیاتو ہم دوبارہ ڈاکٹر کرن کے پاس گئے تو انہوں نے نرسسز کو کہا کہ میں نہیں جاسکتی اور آپ حاملہ خاتون کو میرے کمرے میں لے کر آئیں ظالم نرسسز نے حاملہ خاتون کو سٹریچر کی بجائے سیڑھیوں پر گھسیٹتے ہوئے میری بیوی کو لے جایا جارہاتھا کہ اس دوران خاتون نے سیڑھیوں میں بچے کو جنم دے دیا جس سے اس کی حالت غیر ہوگئی ڈاکٹر کرن اور ڈیوٹی پر موجود نرسسز نے حاملہ خاتون کی تشویشناک حالت دیکھ کر ہمیں پشاور کے ہسپتال ریفر کرنے کیلئے چٹ تھما دی اور کہا کہ ہمارے پاس سہولیات موجود نہیں انہوں نے کہا کہ جب حاملہ خاتون کو پشاور لے جایا گیا تو اس کی حالت اتنی غیرہوگئی تھی کہ زیادہ خون بہنے کی وجہ سے اور سیڑھیوں سے گھسیٹتے وقت اندورنی چوٹیں لگنے کی وجہ سے اپریشن کرنا پڑا جس سے حاملہ خاتون اپنی بچہ دانہ کھو بیٹھی اور ہمیشہ کیلئے بانجھ پن کی شکار ہوگئی انہوں نے کہا کہ پشاور کے ہسپتال میں ڈاکٹروں نے کہا کہ اگر اس خاتون کو بروقت طبی سہولیات فراہم کئے جاتے تو یہ نوبت نہیں آتی انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواپرویز خان خٹک ، صوبائی وزیر صحت شہرام ترکئی اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈاکٹر کرن اور اس وقت ڈیوٹی پر موجود نرسسز سمیت قاضی میڈیکل کمپلیکس کے بورڈ آف گورنرز کے ناقص ایڈمنسٹریشن پر کاروائی کرتے ہوئے سخت سے سخت سزا دے تاکہ آئندہ کوئی دوسری خاتون ان ظالم ڈاکٹروں کی وجہ سے بانجھ پن کا شکار نہ ہوسکے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...