نیب کے ماہرین نے دو ہزار ارب کی کرپشن پکڑنے کا طریقہ تجویز کر دیا

نیب کے ماہرین نے دو ہزار ارب کی کرپشن پکڑنے کا طریقہ تجویز کر دیا
نیب کے ماہرین نے دو ہزار ارب کی کرپشن پکڑنے کا طریقہ تجویز کر دیا

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ریونیو سے متعلق کرپشن کی روک تھام اور دو ہزار ارب روپے سالانہ کی کرپشن کو پکڑنے کیلئے، نیب نے ماہرین کی کمیٹی کی سفارش پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ایک جامع پیکیج بھیجا ہے جس پر عمل کرکے ملک کے ٹیکس نظام کی اوور ہالنگ کی جا سکتی ہے۔ آزاد پاکستان ریونیو ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام، ایف بی آر سے ٹیکس اپیل کے اختیارات لے کر متعلقہ عدالتوں کو دینا، ایف بی آر کے نظام میں شفافیت، ٹیکس ضایع ہونے اور اس میں ہونے والے فراڈ کو کم سے کم کرنا، قومی شناختی کارڈ کو انفرادی سطح پر نیشنل ٹیکس نمبر (این ٹی این) قرار دے کر ٹیکس کا دائرہ بڑھانا، پراپرٹی کی فروخت اور ان کی منتقلی مارکیٹ کے نرخوں پر کرنا، تمام کاروبار اور تمام جائیدادوں (نجی و تجارتی) کی رجسٹریشن اور 50 ہزار روپے سے زائد کے لین دین کو بینکوں کے ذریعے کرنا، وغیرہ ایسے اقدامات ہیں جن کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

ایف بی آر کا اوور ہالنگ پیکیج نیب کے ڈپٹی چیئرمین ریئر ایڈمرل سعید احمد سرگانا کی زیر قیادت ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے تیار کیا ہے۔ کمیٹی میں عالیہ راشد ڈائریکٹر جنرل (اے اینڈ پی)، سید عادل گیلانی کنسلٹنٹ ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان، سہیل احمد سابق چیئرمین ایف بی آر، بدر الدین چیف سیلز ٹیکس /ایف ای (پالیسی) ایف بی آر، ڈاکٹر سعید احمد ڈائریکٹر (اے سی اینڈ ایم ایف ڈی) / نمائندہ برائے اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سید اسد مشہدی نمائندہ برائے فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، راشد ابراہیم ایف سی اے نمائندہ برائے آئی سی اے پی، منور حسین شیخ صدر پی ٹی بی اے اور دیگر شامل ہیں۔

یہ کمیٹی ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی رپورٹ کی بنیاد پر قائم کی گئی تھی جس میں 2013 کے دوران سالانہ دو ہزار ارب روپے کا ٹیکس ضایع (لیک) ہونے کی نشاندہی کی گئی تھی اور سپریم کورٹ کو تجاویز پیش کی گئی تھیں۔ کمیٹی کی جانب سے ایف بی آر کی اوور ہالنگ کیلئے جو تجاویز پیش کی گئی ہیں ان میں کچھ اہم ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں: * ٹیکس اپیلیٹ حکام کی اسکیم کو پاکستان کے آئین کی شقوں کے مطابق بنایا جائے، حکم صادر کرنے والے افسران کو ایف بی آر کی ماتحتی سے ہٹایا جائے۔ کمشنر (اپیل) / کلکٹر (اپیل) کو مقرر کیا جائے اور وہ براہِ راست وزارت قانون کے ماتحت کام کریں اور اپیلیٹ ٹریبونل کے ممبران کو مقرر کیا جائے اور وہ متعلقہ ہائی کورٹس کے ماتحت کام کریں۔

ایف بی آر کے افسران کو اگر اپیلیٹ فورم میں ٹرانسفر کیا جائے تو انہیں ان کی باقی ملازمت کا عرصہ اسی فورم میں رکھا جائے اور اس میں واپس اپنے محکمے میں واپسی کا آپشن نہیں ہونا چاہئے۔ ایسی ٹیکس مشینری جو ایگزیکٹو سائیڈ کے کنٹرول میں ہو، وہ خوفزدہ اور سچے ٹیکس دہندگان کو منصفانہ اور فوری انصاف فراہم کرنے میں رکاوٹ ہے۔ * فیڈرل بورڈ آف ریونیو صرف عملدرآمد کا ادارہ ہونا چاہئے اور اسے وزارت خزانہ کے ماتحت ہونا چاہئے۔ اسے ریگولیٹر کی ذمہ داری سے فارغ کر دیا جائے۔ * پاکستان ریونیو ریگولیٹری اتھارٹی (پی آر آر اے) کے نام سے ایک آزاد ادارہ قائم کیا جائے، جس کا کام آمدنی میں اضافے کیلئے قوانین بنانا اور براہِ راست وزیراعظم کو رپورٹ پیش کرنا ہونا چاہئے۔

اس میں پانچ پیشہ ور ممبران ہوں گے یعنی کے تین ماہرین اقتصادیات، ایک ماہر قانون اور ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ۔ * ایک موثر، قابل بھروسہ اور انسان دوست خود کار سسٹم بنایا جائے جو ایف بی آر کے نظام میں شفافیت لائے، ایف بی آر کے کام کرنے کے طریقے میں خود اعتمادی پیدا کرے، ٹیکس ضایع ہونے اور اس میں فراڈ ہونے کو روکے، ایماندار اور رضامند ٹیکس دہندگان میں اعتماد پیدا کرے، ٹیکس بیس کا دائرہ بڑھائے اور ذاتی روابط کمی لائے۔ * ایف بی آر کی جانب سے دو مراحل میں انٹرپرائز ریسورس پلان سافٹ ویئر شروع کیا جائے۔ پہلا مرحلہ یکم جولائی 2015 سے جبکہ دوسرا مرحلہ 31 دسمبر 2015 سے ہونا چاہئے۔ * پاکستان میں پراپر بینکنگ چینل کے ذریعے لائے جانے والے غیر ملکی زر مبادلہ کے سلسلے میں نافذ العمل آئی ٹی آرڈیننس کی شق 4۔111 کے تحت استثنیٰ کو ختم کیا جائے۔

* اگر کسی شخص کے پاکستان سے باہر اثاثے موجود ہیں اور پاکستان میں اس کی آمدنی کے ذرائع معلوم نہ ہو سکیں تو ایسی صورتحال کیلئے ایسے مناسب قوانین بنائے جائیں جس سے حکومت مساوی قیمت کے مقامی اثاثے ضبط کر سکے یا پھر مناسب ٹیکس عائد کر سکے۔ پاکستان ان ممالک کے ساتھ باہمی یا پھر کثیر فریقی معاہدے کرے جہاں اس بات کا شک ہے کہ کوئی پاکستانی شہری غیر قانونی طور پر بینک اکاؤنٹس یا پھر اثاثے رکھتا ہے تاکہ محفوظ ٹھکانوں میں رکھی گئی غیر ٹیکس شدہ رقم پاکستان واپس لائی جا سکے جس طرح امریکا اور بھارت سوئس حکومت کے ساتھ معاہدے کر رہے ہیں۔ * فی الوقت اسٹیٹ بینک آف پاکستان بڑی مالیت کے پرائز بانڈز اور بیئرر سرٹیفکیٹ جاری کر رہا ہے جس کی وجہ سے کالا دھن رکھنے والے ٹیکس چوروں کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ انہیں استعمال کرکے اپنے کالے دھن کو سفید کر سکیں۔ایسی صورت کیلئے 7500 روپے سے زائد مالیت کے پرائز بانڈز اور بیئرر سرٹیفکیٹ حامل کے نام کے ساتھ جاری کیے جائیں۔

* فی الوقت صوبائی حکومتیں متعلقہ ریونیو کلکٹرز کے طے شدہ نرخ پر غیر منقولہ جائیداد کے ٹرانسفر پر اسٹامپ ڈیوٹی وصول کر رہی ہیں؛ عموماً یہ نرخ مارکیٹ ریٹ کے مطابق نہیں ہوتا۔ اس سے کالے دھن کو بغیر کوئی ٹیکس دیئے سفید کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہئے کہ وہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ایک ایسا ششماہی یا پھر سالانہ نرخ طے کرے جس کی غیر منقولہ جائیداد کے ٹرانفسر پر اسٹامپ ڈیوٹی اور دیگر لیوی وغیرہ مارکیٹ ریٹ کے مقابلے میں ایک فیصد سے زیادہ نہ ہو۔

* اقتصادیات کو دستاویزی شکل دینے اور ٹیکس بیس کا دائرہ وسیع کرنے کیلئے قومی شناختی کارڈ کو یکم جولائی 2015 سے نیشنل ٹیکس نمبر (این ٹی این) قرار دے دیا جائے، ٹیکس کی حد عبور کرنے والے تمام شناختی کارڈ کے حامل افراد سالانہ ٹیکس ریٹرن جمع کرائیں گے۔ * وفاقی حکومت کو چاہئے کہ وہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر جائیدادوں کی اسسمنٹ کرائیں تاکہ ان کی مارکیٹ ویلیو پتہ چل سکے اور اس کیلئے تیسرے فریق کی خدمات حاصل کی جائیں اور اس کیلئے ریفرنس دستاویز بھی جاری کیا جائے۔ یہی دستاویز ہر سال یکم جولائی کو نظرثانی کرکے دوبارہ جاری کی جائے۔ صوبائی ایکسائز ڈپارٹمنٹ کو اس مقصد کیلئے استعمال کیا جائے۔ اس ضمن میں، جائیداد کے ٹرانسفر کیلئے اسٹامپ ڈیوٹی اور دیگر لیوی اعشاریہ پانچ فیصد سے لے کر ایک فیصد تک ہونا چاہئے۔ * تمام کاروباری افراد اور خوردہ فروشوں کو لائسنس جاری کرنے والی اتھارٹی اور ایف بی آر کے تحت رجسٹر کیا جائے۔

  • پچاس ہزار روپے سے زائد مالیت کے لین دین اور رسیدوں کے اجراء کو بینک کے ذریعے محدود کیا جائے اور لین دین کے باقی ذرائع پر پابندی عائد کر دی جائے۔ * ایسے خوردہ فروشوں اور تھوک فروشوں کو مراعات دی جائیں جو ٹرن اوور کی حد کے بغیر الیکٹرانک کیش رجسٹر نصب کریں گے اور انہیں ایف بی آر کے ڈیٹا بیس کے ساتھ منسلک کر دیں گے۔ انہیں ایک مرتبہ سابقہ واجب الادا سیلز ٹیکس میں بھی چھوٹ دی جائے۔سیلز ٹیکس / ویلیو ایڈیڈ ٹیکس (وی اے ٹی) پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے اور اس کیلئے نادرا کے ڈیٹا بیس کو موثر انداز میں استعمال کیا جائے۔* پراپرٹی (بشمول رہائشی، تجارتی اور صنعتی) کے حامل / مالکان / الاٹیز، نجی گاڑیوں، ٹرکوں، بسوں، بین الاقوامی سفر، مخصوص مالیت کی حد تک یوٹیلیٹیز (بشمول گھریلو، تجارتی اور صنعتی)، مخصوص مالیت کی حد تک کریڈٹ کارڈز، ڈیبٹ کارڈز اور اے ٹی ایم کے ذریعے کیے جانے والے لین دین، کراس چیک، پے آرڈرز / بینکاری کے دیگر ذرائع، فکسڈ ڈپازٹ میں کی گئی سرمایہ کاری، نیشنل سیونگ اسکیموں اور اسٹاک کی تفصیلات اور ڈیٹابیس مرتب کیا جائے اور اس معلومات کی بنیاد پر مکمل پروفائل بنایا جائے اور اسے موثر انداز سے استعمال کیا جائے۔
  • * فی الوقت ماہانہ یا پھر سالانہ بنیادوں پر گوشوارے جمع کرانا لازمی ہے جس میں ٹیکس کی وتھ ہولڈنگ پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تاہم، یہ تجویز دی جاتی ہے کہ غیر منقولہ جائیداد (صنعتی، تجارتی، رہائشی اور زرعی) کے ٹرانسفر اور رجسٹریشن کیلئے ہاؤسنگ سوسائٹیز پر بھی یہ گوشوارے جمع کرانے کی پابندی عائد کرنا چاہئے۔ موٹر وہیکل رجسٹریشن اتھارٹیز، کلب (نجی و سرکاری)، کریڈٹ کارڈ جاری کرنے والے ادارے۔

سینٹرل ڈپازٹری کمپنی، نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان، بڑے نجی اسپتال اور اسکولز اور مالیاتی ادارے جو قانونی طور پر قابل ٹیکس حد سے زیادہ منافع تقسیم کرتے ہیں یا پھر تجارتی قرضے جاری کرتے ہیں، ایئرلائن کمپنیوں وغیرہ کے حوالے سے ایف آئی اے کو متحرک کیا جائے کہ وہ ایف بی آر کے پاس پہلے سے موجود معلومات سے نئی معلومات کا موازنہ کرے۔ وتھ ہولڈنگ کا جرمانہ کم کیا جائے۔

اگر گوشوارے طے شدہ وقت سے ایک ہفتہ زیادہ تک جمع کرائے جاتے ہیں تو ڈیفالٹرز کو صرف خبردار کیا جائے۔ تاہم، اگر ڈیفالٹ ایک ہفتے سے زیادہ ہو جائے تو ان پر جرمانہ عائد کیا جائے۔ * معاشرے کے مختلف طبقوں کے درمیان ٹیکس مساوی اور منصفانہ ہونا چاہئے۔ معاشرے کے تمام طبقوں کیلئے ٹیکس جمع کرانا آسان بنانا چاہئے۔ ٹیکس نافذ کرنے والے قوانین واضح اور غیر مبہم ہونا چاہئیں تاکہ ٹیکس دینے والا شخص یہ سمجھ سکے کہ جس طرح کا بوجھ اس پر عائد ہے وہ دراصل ہے کیا۔ * ایماندار اور ٹیکس دینے کیلئے رضامند ٹیکس دہندگان کو سہولت اور اعتماد دینا چاہئے اور ان سے اضافی ٹیکس وصول نہیں کرنا چاہئے بلکہ ان سے زیادہ لینا چاہئے جو اپنی آمدنی کے ذرائع چھپاتے ہیں یا پھر کم بتاتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں معاشرے کے تمام طبقے کے افراد کو یکساں مواقع ملیں گے اور ٹیکس بچانے والوں اور دیگر شعبوں سے آمدنی حاصل کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ * ٹیکس انتظامیہ میں احتساب کو ضرور متعارف کرانا چاہئے۔ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرنے والوں کے خلاف حقیقی احتساب کی عدم موجودگی، زبردست کرپشن اور اختیارات کا ناجائز استعمال وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ٹیکس مشینری عدم صلاحیت کا شکار ہو جاتی ہے اور اسلئے یہ صورتحال درست کرنے کی ضرورت ہے۔ * مالیاتی اور ٹیکس کے متعلق پالیسیاں متعارف کرائیں جو کم از کم تین سال تک برقرار رہیں۔ ٹیکس پالیسی میں تسلسل ہونا چاہئے اور ساتھ ہی سیاسی سطح پر مضبوط ارادہ ہونا چاہئے تاکہ قانون پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جا سکے تاکہ تین سالہ بجٹ کی راہ ہموار ہو سکے۔

مزید : اسلام آباد