باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے سہولت کار شبقدر سے گرفتار، نوستہ نوشہرہ سے بھی 8 مشکوک افراد زیر حراست

باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے سہولت کار شبقدر سے گرفتار، نوستہ نوشہرہ سے بھی ...
باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے سہولت کار شبقدر سے گرفتار، نوستہ نوشہرہ سے بھی 8 مشکوک افراد زیر حراست

  


چارسدہ(مانیٹرنگ ڈیسک) باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے 4 سہولت کاروں کو شبقدر کے علاقے سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کو سہولت فراہم کرنے والے 4 افراد کو گرفتار کرکے تفتیش کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیاہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کرنے والے تمام دہشت گردوں نے گرفتار افراد کے ہاں ایک رات قیام کیا اور اگلے دن کارروائی کی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے تمام سہولت کاروں کا پتہ لگا لیا ہے اور آئندہ 72 گھنٹوں میں انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے نوستہ نوشہرہ روڈ سے بھی 8 مشکوک افراد کو حراست میں لیا ہے جن کی عمریں 15 سے 20 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تمام افراد کو سیکیورٹی اداروں نے حراست میں لے کر اسلحہ برآمد کیا اور تفتیش کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے مطابق باچا خان یونیورسٹی حملے میں ملوث پانچ دہشت گرد بھی گرفتار کئے گئے ہیں جن کا تعلق مہمند ایجنسی سے بتایا جاتا ہے۔ نجی ٹی وی نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ گرفتار ہونے والے 5 دہشت گردوں نے باچا خان یونیورسٹی پر حملے کی منصوبہ سازی اور معاونت فراہم کی تھی۔

واضح رہے کہ بدھ کی صبح 4 دہشت گردوں نے باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کر کے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 21 افراد شہید جبکہ 20 زخمی ہوئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ حملہ سے متعلق کافی شواہد مل چکے ہیں۔ حملے کیلئے کس نے بھیجا کہاں سے کنٹرول کیا گیا سب پتہ چل چکا ہے اور جلد ہی اس میں ملوث تمام لوگوں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ حملہ آوروں نے افغان سمز استعمال کیں جبکہ دہشت گردوں کے مرنے کے بعد بھی ان کے موبائل فونز پر کالز آتی رہیں۔

مزید : چارسدہ /اہم خبریں