آٹامافیاکے بعد شوگرمافیانے بھی اپنے ’کمالات‘ دکھانے شروع کردیئے

آٹامافیاکے بعد شوگرمافیانے بھی اپنے ’کمالات‘ دکھانے شروع کردیئے
آٹامافیاکے بعد شوگرمافیانے بھی اپنے ’کمالات‘ دکھانے شروع کردیئے

  



سجاول(آن لائن)صوبہ سندھ کے سجاول ضلع میں آٹامافیاکے بعد شوگرمافیانے بھی اپنی کمالات دکھانے شروع کردئے،سجاول میں تین شوگرملوں کی پروڈکشن کے باوجود علاقے میں چینی کی قیمت دس روپے فی کلو بڑھادی گئی۔

تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں آٹے کے مبینہ بحران کے بعد شوگر مافیا نے بھی عوام کو لوٹنے کے لئے کمر کس لی، چینی کی قیمت میں پانچ روپے اضافے کی خبروں کے بعد ایک روز میں مقامی ذخیرہ اندوزوں نے فوری طورپرفی کلو چینی کی قیمت میں دس روپے تک کا اضافہ کرکے فی کلو اسی روپے قیمت کردی ہے، علاقے میں اس سے قبل سترسے چوہترروپے فی کلو فروخت ہورہی تھی، سجاول ضلع کی تین شوگرملزمیں اس وقت چینی کی پروڈکشن جاری ہے اور چھوٹے تاجروں نے بھی ڈائریکٹ شوگرملوں سے چینی کے ٹرک ڈیو بک کرائے ہیں جبکہ بڑے ہول سیلرز نے بھی اپنی بکنگ کرالی ہے، گذشتہ سال سجاول ضلع دو شوگرملزدیوان اور شاہمراد شوگرملزنے چینی ایکسپورٹ کے علاوہ ملک کے اندر فروخت کی تاہم اومنی گروپ کی لاڑ شوگرملزکو مقامی سیٹھوں نے اپنے طورپر چلایااور چینی کی تمام پروڈکشن مقامی گوداموں میں بھردی تھی،جس کو پورے سال بیس روپے اضافے کے ساتھ فروخت کیاگیا، اس دفعہ بھی لاڑ شوگرملزکو مقامی ذخیرہ اندوز سیٹھ چلارہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ضلع سجاول کی تینوں شوگرملزاس وقت چل رہی ہیں اور مقابلے میں گنادوسو پچھترروپے فی من کے حساب سے لے رہی تھیں، گذشتہ روز اچانک ہی تینوں شوگرملزگنے کی قیمت اسی روپیافی من کم کرکے سرکاری ریٹ ایک سو پچانوے کردیاجس سے کاشتکاروں کا کروڑوں کا نقصان ہوااس کے ساتھ ہی مارکیٹ میں چینی کی قیمت دس روپے اضافہ کرکے اسی روپیافی کلو کردی گئی ہے۔ چینی مافیاکے اس کھیل سے معلوم ہوتاہے کہ ملک بھرمیں چینی کا مصنوعی بحران پیداکرکے قیمت ایک سو روپے فی کلو تک پہنچانے کی تیاری کی جارہی ہے، سجاول ضلع کی لاڑ شوگرملزکی تمام پروڈکشن علاقے کے سیٹھوں کے گوداموں میں بھرنے کی تیاری کی جارہی ہے جبکہ گذشتہ سال کی وافرچینی موجود ہونے کے باوجود چینی کی قیمت میں اضافہ کیاگیاہے، شوگرملزاور چینی مافیاکی ملی بھگت سے کاشتکاروں بلیک میل کرکے کم قیمت اداکرنے کے بعد ذخیرہ اندوزی کرکے چینی کی قیمت بڑھانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، اس سلسلے میں بڑے تاجروں کے علاوہ چھوٹے تاجروں نے بھی ڈائریکٹ شوگرملوں میں ڈیو چینی کے ٹرک بک کرادئے ہیں۔ اس طرح یہ چینی وہیں پڑی رہے گی اور جب چاہیں اٹھاسکتے ہیں، واضع رہے کہ چینی سے تاجروں کے دکان اور گودام بھی بھرے ہوئے ہیں، آٹے اور چینی کاکاروبار کرنے والے سیٹھ اس سے دگنافائدہ اٹھارہے ہیں لیکن غریب آدمی کے لئے مشکلات میں شدید اضافہ ہوگیاہے،۔

علاقے میں اومنی گروپ کی شوگرملزسے گذشتہ سال نکلنے والی چینی کا ایف بی آر کے پاس پروڈکشن اور سیلزٹیکس کاحساب تک نہیں ہے راتوں رات یہ چینی مقامی سیٹھوں کے گوداموں میں شفٹ کی گئی تھی اس دفعہ بھی ایسی ہی واردات کی جارہی ہے، واضع رہے کہ شوگرملزمصنوعی طورپر گنے کی قیمت کم زیادہ کرکے گنانہ ملنے کابہانہ بناکر نوکین میں مل بندرہنے کی رپورٹ ایف بی آر کو دے رہی ہیں لیکن پروڈکشن کی چینی مقامی مارکیٹ میں چوری چھپے فروخت کی جارہی ہے۔اس سے تیارچینی کی قیمت زیادہ کرنے کاجواز بھی بنایاجارہاہے۔ اس طرح کالے دھن کا گورکھ دھندا جاری ہے، اور اربوں کھربوں کی ہیرپھیرکی جارہی ہے شوگرملزکے خلاف مقامی کاشتکاروں نے شکایات کی ہیں کہ خریدے گئے گنے کی قیمت کئی سالوں سے ادا نہیں کی گئی اور نہ ہی دیگرمتفرقات ادا کئے گئے ہیں، اور کروڑوں روپے کی مقروض ہیں۔ شوگرملزمالکان، تاجروں اور ذخیرااندوزوں کی ایک چین ہے جو منظم انداز میں لوٹ کھسوٹ کررہی ہے، اس ضمن میں فوری اقدامات کی اپیل کی گئی ہے۔

مزید : علاقائی /سندھ /ٹھٹہ