اسلامی تقویم (کیلنڈر) کی خصوصیات اور اُمت مسلمہ!

اسلامی تقویم (کیلنڈر) کی خصوصیات اور اُمت مسلمہ!

  



قرآن مجید کی آیت…… ترجمہ: ”یعنی اللہ تعالیٰ ہی دن اور رات کو ردوبدل کرتا رہتا ہے، آنکھوں والوں کے لئے تو اس میں یقینا بڑی بڑی عبرتیں ہیں“(نور: 44)…… میں واضح کر دیا گیا کہ دن اور رات کا یکے بعد دیگرے آنا اس وحدہٗ لاشریک لہ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر ہے، آیت کے آخری حصہ میں اہل خرد اور دانشمندوں کو آواز دی گئی ہے کہ وہ گردش ایام کے اس بڑے سبق پر غور کریں۔

شب و روز کے مجموعہ کو وقت کہا جاتا ہے، انہیں مختلف اوقات سے مل کر دن جنم لیتے ہیں، اور انہیں دنوں کی مختلف تعداد کو تقویم اور کیلنڈر کہا جاتا ہے، ابھیتھوڑے دن پہلے ہی ایک نئے اسلامی سال یعنی 1431ھ کا ہم نے استقبال کیا ہے، مناسب ہے کہ ہمارے اسلامی کیلنڈر کی تاریخ، اس کی اہمیت اور خصوصیتوں پر نظر ڈالی جائے، تاکہ ہمیں اپنی تاریخ کا صحیح علم ہوا، اسلامی کیلنڈر دین اسلام کے محاسن اور اس کی خوبیوں میں سے ایک ہے، اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے، تو یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ دنیا کی تاریخ تخلیق جتنی قدیم ہے، اتنی ہی اسلامی تقویم کی تاریخ بھی پرانی ہے۔ جیسا کہ بخاری شریف میں حضرت ابوبکر ؓ سے مروی حدیث ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ”زمانہ گھوم گھما کر پھر اسی حالت پر آ گیا ہے، جس حالت پر اس وقت تھا، جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی“…… جب اسلامی کیلنڈر کی اتنی تاریخی حیثیت ہے تو کیوں نہ اس کی خصوصیتوں پر نظر دوڑائی جائے۔

دنیا میں پائے جانے والے مذاہب میں اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا کیلنڈر کئی خصوصیات کا حامل ہے، جن میں چند یہ ہیں:

٭ اسلامی تقویم جن بارہ مہینوں پر مشتمل ہے ان کی تخلیق اور تعداد من جانب اللہ ہے جیسا کہ سورہئ توبہ میں فرمایا گیا…… ترجمہ: ”مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ کی ہے“……(توبہ: 36)

٭ اسلامی کیلنڈر کے کل بارہ مہینے ہیں، جیسا کہ مذکورہ خصوصیت میں آیت کے مفہوم سے واضح ہو گیا۔

٭ اسلامی کیلنڈر کے مہینے کے دنوں کی تعداد29 ہوتی ہے یا پھر تیس، جیسا کہ حدیث میں داعی اعظمﷺنے فرمایا: ”مہینہ 29دنوں کا ہوتا ہے اور پھر کبھی تیس کا ہوگا، پھر آپ ﷺ نے اس عدد کو ہاتھ کے اشارے سے واضح فرمایا“……(مسلم)

٭ اسلامی کیلنڈر کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کا تعلق چاند سے ہے، اسی تعلق کی بنیاد پر معاشرے میں ”قمری مہینے اور قمری تاریخ“ کی اصطلاح مشہور ہے، چاند سے تعلق کے پیش نظر شریعت نے ہر ماہ کے آغاز و اختتام میں عبادت مثلاً روزہ، حج، نماز وغیرہ میں چاند کو بنیاد بنایا ہے۔

٭ اسی طرف رب ذوالجلال نے اشارہ فرمایا……ترجمہ: ”اے محمدﷺ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ یہ لوگوں کی عبادت کے وقتوں اور حج کے موسم کے لئے ہے“(بقرۃ: 189)…… مفسرین اس آیت کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں، اس آیت میں کفار و مشرکین بعض یہودیوں اور منافقین کے چاند کے گھٹنے یا بڑھنے پر اعتراض کا جواب دیا جا رہا ہے کہ چاند اللہ کی قدرت کا ایک مظہر ہے، جس سے اس نے انسانی زندگی کی کئی شرعی اور دنیوی ضرورتوں کو جوڑ دیا ہے، مثلاً عبادت کی تعیین، قرض وغیرہ کی تعیین مدت، عورتوں کی تاریخ عدت وغیرہ۔

٭ اسلامی تقویم کے بارہ مہینوں میں چار ماہ حرمت والے ہیں، اس خصوصیت کا ذکر قرآن کریم میں کیا گیا ہے…… ترجمہ: ”ان میں سے چار مہینے حرمت و ادب کے ہیں“(توبۃ: 36)…… جن کی تفصیل بخاری میں ابوبکرؓ کی اس حدیث سے ہوتی ہے……”چار ماہ حرمت والے ہیں، تین پے در پے، ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور چوتھا رجب جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان ہے“ (صحیح بخاری، کتاب التفسیر سورہئ توبہ)

٭ اسلامی تقویم میں خصوصی طور پر حرمت والے مہینوں میں کسی قسم کی تحریف، تقدیم و تاخیر، ہیرا پھیری کفر کا موجب ہے۔ …… ویسے عام طور پر دیکھا جائے تو اسلامی کیلنڈر کے کسی بھی ماہ میں تقدیم و تاخیر کا حق اُمت میں کوئی سے نہیں رکھتا، اس کے لئے تھوڑا سا فساد بھی انسانی زندگی اور اس کے صحیح نظام میں خلل اندازی کر سکتا ہے۔

٭ اسلامی تقویم کی ترتیب اور اس کی صحیح تعداد درست دین کا ایک حصہ ہیں، جیسا کہ اللہ نے مہینوں کی تعداد ذکر کرنے کے بعد فرمایا …… ترجمہ: ”یعنی یہی درست دین ہے“ (سورہئ توبۃ:36)…… اس کی مزید تفصیل یہ ہے کہ اسلامی کیلنڈر کے بارہ مہینوں کی تعداد پر قائم رہنا، اصل دین کی علامت ہے، اس تعداد میں کمی و بیشی دین کی صحت کو بہت متاثر کرتی ہے۔

٭ اسلامی تقویم کی ابتداء کا تعلق ہجرت نبویﷺ سے ہے، اس خصوصیت کا سہرا خلیفہ ئ ثانی حضرت عمر فاروق ؓ کے سر جاتا ہے، جبکہ انہوں نے اپنے ایام خلافت میں صحابہ کے سامنے اسلامی تقویم کی بنیاد کا مسئلہ پیش کیا، بعض نے رسول اللہﷺ کی ولادت مبارکہ کو بنیاد بنائے جانے کا مشورہ دیا اور بعض نے آپ کی وفات کو، لیکن حضرت عمرؓ نے اپنی دور اندیشی اور حکیمانہ سیاست سے اور حضرت علی ؓ کی مشاورت سے ہجرت نبویؐ کو اسلامی تقویم کے لئے بنیاد بنایا، اس لئے کہ ہجرت تاریخ کا ایک عظیم باب اور نیا موڑ ہے۔ حضرت عمر ؓ نے ہجرت نبوی ﷺ کو اسلامی کیلنڈر کی بنیاد بنائے جانے پر آیت ”من أول یوم احق أن تقوم فیہ“ (توبہ:108) سے استدلال کیا تھا۔

٭ اسلامی تقویم کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کا پہلا اور آخری مہینہ حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے، یعنی محرم الحرام اور ذوالحجہ دراصل اس میں باریک اشارہ ہے کہ تمام بارہ مہینوں کا احترام اور لحاظ رکھا جائے تاکہ زندگی کا کوئی بھی لمحہ اللہ کی نافرمانی میں نہ گزر جائے۔

٭ اسلامی تقویم کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کا پہلا مہینہ محرم ہے، جس کی اضافت اللہ نے اپنی ذات کی طرف کی ہے، اس میں راز یہ ہے کہ سال کے بارہ مہینوں کا خالق اور مرتب اللہ کی ذات ہے، رسول اللہﷺ نے اس خصوصیت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرمایا……”افضل الصیام بعد رمضان شہر اللہ الذی تدعونہ المحرم“ (مسلم بروایت ابوہریرہؓ)

٭ اس اسلامی تقویم میں دو ہی شرعی عیدیں ہیں، عید الفطر جو رمضان کے اختتام پر روزہ دار توفیق الٰہی کے شکرانے میں مناتے ہیں، دوسری عیدالاضحی (بقر عید) جو 10 ذوالحجہ کو منائی جاتی ہے۔

٭ اسلامی کیلنڈر کا نواں مہینہ رمضان المبارک ہے، جس کے پورے دنوں میں ایک عاقل بالغ(مکلف) مرد و عورت پر روزہ رکھنا فرض ہے، یہ خصوصیت ایسی ہے جس میں دوسرے ماہ داخل نہیں ہو سکتے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: …… ”فمن شہد منکم الشہر فلیصمہ“ (بقرۃ)

٭ اسلامی کیلنڈر کی تاریخ ہر طرح کی قربانیوں سے لبریز ہے، اس کی بنیاد رسول اکرمؐ کی وہ عظیم ہجرت ہے، جس میں آپ ﷺ نے ہر طرح کی قربانی دے کر گلشن اسلام کو سینچا، صحابہ کرام ؓ نے اپنی جانی و مالی ہر طرح کی قربانیوں کا نذرانہ پیش کر کے روئے زمین پر ایک لاثانی مثال قائم کر دی، اس لئے جب بھی ہم ایک نئے سال کا آغاز کرتے ہیں، تو ہمیں ان قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے عزم و ایمان کی تجدید کرنی ہو گی، سال نو کے آغاز میں ماہ محرم میں عاشورہ کے روزے کی حکمت بھی یہی ہے کہ ہمیں موسیٰ ؑ کی بنی اسرائیل کی نجات کے لئے ہر طرح کی قربانی کا پورا اعتراف ہے، اس لئے موسیٰ ؑنے بطور شکر الٰہی روزہ رکھا۔ (بخاری)

اسی کی طرف ابن عباس ؓ کی حدیث اشارہ کرتی ہے کہ آپﷺ مدینہ پہنچے تو یہودیوں کو روزہ رکھتے ہوئے دیکھا، وجہ دریافت کرنے پر بیان کیا گیا کہ آج وہ مبارک دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ڈبویا اور بنی اسرائیل کو فرعون کے شکنجہ ئ ظلم سے آزاد کرایا، آپ صلی اللہ علہ وسلم نے فرمایا، ہم تم سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام کے مستحق ہیں، آپ نے خود روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بھی اس کا حکم دیا۔ (بخاری، کتاب الصوم، باب صوم یوم عاشورہ)

مسلم اور ابن ماجہ کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں آئندہ سال باقی (زندہ) رہا تو ضرور 9 محرم کا روزہ رکھوں گا، اسی چیز کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قولی حدیث میں یوں بیان فرمایا: نو اور دس محرم کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو۔ (بیہقی، طحاوی، علماء حدیث نے اس حدیث کو موقوف بتایا ہے)

٭ اسلامی تقویم کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کا آغاز شام اور مغرب کے وقت سے ہوتا ہے، اس کی ظاہری وجہ یہ ہے کہ نیا چاند شام کے وقت ہی ظاہر ہوتا ہے، جب کہ سورج غروب ہو کر تاریکی پھیلنا آ ہستہ آہستہ شروع ہوتی ہے۔

٭ یہ ہے کہ اسلامی تقویم عقیدے کے لحاظ سے بالکل پاک و صاف ہے، اس کے کئی مظاہر ہمیں مشاہدے میں ملتے ہیں، سال کے بارہ مہینوں میں اللہ تعالیٰ نے برکتِ زمانی کی بے شمار مثالیں پیدا کی ہیں، رمضان المبارک، ذوالحجہ کے دس ابتدائی ایام، ہر ہفتہ جمعہ کی مشروعیت، ان خصوصیات سے واضح ہوتا ہے کہ ایک مومن وقت کا صحیح استعمال کرے، تو اس کی زندگی کا ہر لمحہ بابرکت بن جاتا ہے، اس کے برخلاف اسلامی سال کا کوئی بھی دن منحوس نہیں، بلکہ نحوست اور برائی انسانی اعمال کا برااثر ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی ہلاکت کا سبب بتاتے ہوئے فرمایا…… ترجمہ: ”پھر ہم نے ان (قوم عاد) پر چند منحوس دنوں میں تیز و تند آندھی چھوڑی“ (فصلت: 16)…… ایک اور جگہ قوم ثمود کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا…… ترجمہ:”قوم ثمود کہنے لگی، ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو منحوس تسلیم کرتے ہیں“ (نمل:47) …… صالح ؑنے جواباً کہا: تمہاری نحوست تو اللہ کے پاس ہے، اسی طرح کا ایک مضمون سورہئ یٰسین 19-18 میں بھی مذکور ہے، کہ اصل نحوست کفر اور انسانوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے جنم لیتی ہے۔

٭ اسلامی تقویم کا ایک خصوصی پہلو یہ بھی ہے کہ یہ ہمارا ایک بڑا شعار ہے، اسلاف کی قربانیوں کی پہچان کا ذریعہ ہے، اگر یہ لکھا جائے تو غلط نہ ہوگا، اسلامی کیلنڈر ہماری دائمی تہذیب کا ایک ابدی حصہ ہے، اس خصوصیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہاسلامی کیلنڈر سے ہماری اپنی تاریخ کی گہرائی کا علم ہوتا ہے۔

٭ ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ سال کے کسی بھی دن کو برا بھلا نہ کہا جائے، اسی لئے حدیث میں فرما دیا گیا…… ترجمہ: ”تم زمانے کو گالی مت دو، اس لئے کہ زمانے کا خالق اللہ کی ذات ہے“ایک اور روایت میں یہ الفاظ مذکور ہیں:……”یؤ ذینی ابن آدم یسب الدھر وأنا الدھر“ (بخاری)کہ انسان کے اس رویہ سے مجھ کو تکلیف ہوتی ہے کہ وہ زمانے کو گالی دیتا ہے، حالانکہ زمانے کو الٹنے والا اور پھیرنے والا میں ہوں“۔

٭ ایک یہ بھی ہے کہ اسلامی تقویم کے بارہ مہینوں کی تعداد اور ان کے ایام کی تعیین من جانب اللہ یعنی توقیفی ہے، لہٰذا اس خصوصیت میں عقل اور اجتہاد وغیرہ کا کوئی دخل نہیں ہونا چاہئے۔

٭ یہ ہے کہ اسلامی کیلنڈر انسان کے اندر احتساب ذات کی اور آخرت کی جوابدہی کا احساس پیدا کرتا ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ انسان گزرے دنوں سے سبق لیتے ہوئے اپنی آخرت کے قریب ہوتا ہے، تو یہی چیز ہمیشہ انسان کو محاسبہ کے لئے تیار رکھتی ہے۔

٭ اللہ تعالیٰ نے ساری کائنات کا ذمہ اپنے سر لے رکھا ہے، لہٰذا یہ اسلامی کیلنڈر کی حفاظت اور اس کی تدبیر کا سارا ذمہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔

٭ اسلامی تقویم کا تعلق نصرت خداوندی سے بڑا ہی گہرا ہے، اس لئے اللہ نے ہر زمانے میں حق پرست جماعت کو غالب اور باطل پرستوں کو مغلوب رکھا ہے، اس کی واضح مثال ہمیں ہر سال محرم میں عاشورا کے روزے میں نظر آتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دن دنیا کے سب سے باطل پرست انسان (فرعون) کو ڈبو دیا تھا، اور موسیٰ ؑ کو کامیابی سے نوازا، ہر سال نو کے آغاز میں اس عہد کی تجدید ہو تو ہمیں سال بھر یہ سبق یاد رکھنا چاہئے، اور باطل پرستوں کے ظاہری دبدبہ سے متاثر نہیں ہونا چاہئے، فرمان باری تعالیٰ ہے…… ترجمہ: ”اہل کفر کا شہروں میں چلنا پھرنا آپ ؐ کو دھوکہ میں نہ ڈال دے، یہ تو تھوڑا فائدہ ہے، پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، اور وہ نہایت ہی بُری جگہ ہے“ (آل عمران:196)…… عصر حاضر میں اُمت مسلمہ ظاہری طور پر مغلوب نظر آتی ہے، لیکن فطری غلبہ اور فکری لحاظ سے امت مسلمہ دنیا کی ساری اقوام پر غالب ہے، نصرت الٰہی اٹل ہے، جب اسلامی تقویم کی اتنی ساری خصوصیات ہیں تو امت مسلمہ کی اس تعلق سے بڑی بھاری ذمہ داری ہے، جن میں کچھ یوں ہیں:

-1 اُمت مسلمہ کو چاہئے کہ وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں اس اسلامی تاریخ کا کثرت سے استعمال کرے، اس لئے کہ اس سے ہماری تاریخ اور تہذیب وابستہ ہے۔

-2 اسلامی کیلنڈر کے تئیں اُمت مسلمہ کی ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ سال کے بارہ مہینوں کے نام ایسے ہی استعمال کئے جائیں، جس طرح قرآن و حدیث نے رہنمائی کی ہے، بعض لوگ اس میں تحریف کر دیتے ہیں جو درست نہیں ہے۔

-3 اسلامی سال کے کسی بھی دن کو (کسی بھی وقت) منحوس تصور نہ کیا جائے، یہ ہندوستانی مسلمانوں پر غیر اسلامی تہذیب اور اس کے باطل افکار و بے بنیاد تصورات کا منفی اثر ہے، عصر حاضر میں بعض تجارت پیشہ جاہل مسلمان کیلنڈر کی اشاعت میں اس غلطی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

-4 عصر حاضر کی نئی نسل کو اسلامی تقویم، اس کا تاریخی پس منظر، بارہ مہینوں کے نام اور اس کی خصوصیت سے واقف کرایا جائے، تاکہ انہیں اپنے سلف کی چھوڑی ہوئی میراث کی صحیح قدر معلوم ہو۔

-5 اسلامی تقویم سے متعلق ہر طرح کی احتسابی کیفیت کا پورا لحاظ رکھا جائے، کیونکہ ہر گذرتا ہوا دن آخرت کی جوابدہی کو یاد دلاتا ہے۔

-6 اسلامی تقویم سے متعلق ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ سال بھر ہر طرح کی بدعتوں سے بچا جائے، تاکہ اُمت مسلمہ سال کے ہر دن اللہ کی رحمتوں اور برکتوں سے مالا مال ہوتی رہے۔

-7 امت کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اسلامی تقویم کو تبلیغ اسلام کا ذریعہ بنائے تاکہ ساری دنیا کو اس آفاقی تقویم کی قیمت کا صحیح اندازہ ہو سکے۔

-8 ہر سال نو کی آمد پر امت کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس نئے سال کے لئے اپنا لائحہ عمل تیار کرے اور وقت کو منصوبہ بند طریقے سے استعمال کرے، خدا کرے کہ یہ سال امت مسلمہ کے لئے عزت و غلبے کا سال بنے اور ہر طرح کی امن و سلامتی اس کو حاصل ہو۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1