سپین کے ذریعے یورپ پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد میں اضافہ

سپین کے ذریعے یورپ پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد میں اضافہ

  

میڈرڈ(این این آئی)ایک طرف بحیرہء روم عبور کر کے اٹلی کا رخ کرنے والے مہاجرین کی تعداد میں حالیہ کچھ ماہ میں کمی دیکھی گئی ہے، تو دوسری جانب اسپین پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ہسپانوی ساحلوں کا رخ کرنے والے افراد کی تعداد میں رواں برس جولائی اور اگست میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جب کہ اٹلی پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق اس سے معلوم چلتا ہے کہ مہاجرین یورپ پہنچنے کے لیے اب اسپین کو متبادل راستے کے بہ طور استعمال کرنے کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔گزشتہ ہفتے دو روز کے عرصے میں ہسپانوی میری ٹائم ریسکیو سروسز نے 920 تارکین وطن کو بحیرہء روم میں مراکش سے اسپین کی جانب بڑھتے ہوئے ریسکیو کیا۔ یہ افراد کشتیوں کے ذریعے بحیرہء روم کی موجوں سے نبرد آزما تھے۔ سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تارکین وطن سے بھری یہ کشتیاں ربر کی تھیں اور ان افراد کو، جن میں سے اکثریت کا تعلق سب صحارا افریقہ سے تھا، کو ہسپانوی علاقے کاڈیز کے قریب ایک ساحل پر اتارا گیا۔رواں برس اسپین پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں ماضی کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ رواں برس جولائی میں تقریبا26 سو مہاجرین اسپین پہنچے اور یہ تعداد گزشتہ برس اس ماہ کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔ رواں برس آٹھ ماہ میں اسپین پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد گزشتہ پورے برس میں اسپین کا رخ کرنے والے مہاجرین کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق رواں برس اب تک بحیرہء روم کے ذریعے اسپین پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد نو ہزار سات سو اڑتیس ہے۔بتایا گیا ہے کہ ان تارکین وطن کی زیادہ تر تعداد آبنائے جبل الطارق کے ذریعے ہسپانوی سرزمین پر پہنچی، کیوں کہ یہ علاقہ مراکش کے ساحلوں سے نہایت قلیل سمندری پٹی کے ذریعے جدا ہے۔ ایک مقام پر اسپین اور مراکش کے درمیان یہ سمندری پٹی صرف چودہ کلومیٹر طویل ہے اور تارکین وطن پیڈل کشتیوں کے ذریعے بھی یہ سفر کرنے نکل پڑتے ہیں۔ حکام کا کہناتھا کہ اس علاقے میں سرگرم انسانوں کے اسمگلر تجارتی جہازوں کے ذریعے بھی تارکین وطن کو مراکش سے اسپین پہنچا رہے ہیں، جب کہ اس دس منٹ کے سفر کے لیے وہ ان سے کئی ہزار یورو معاوضہ وصول کرتے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -