پیشہ ورانہ تربیت پر توجہ کی ضرورت

پیشہ ورانہ تربیت پر توجہ کی ضرورت
 پیشہ ورانہ تربیت پر توجہ کی ضرورت

  

وطن عزیز میں تعلیم و تربیت کے حوالے سے بحث تو جاری رہتی ہے، لیکن پیشہ ورانہ اور اعلیٰ فنّی تربیت کے حوالے سے یہاں کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں ہیں۔تعلیم اور اعلیٰ پیشہ ورانہ فنّی اور تکنیکی تربیت کے حوالے سے وفاقی وزارت تعلیم کو پیشہ ورانہ تربیت کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے ملک میں معیاری پیشہ ورانہ تربیت کے لئے انتظامات اور اقدامات نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینٹر نعمان وزیر ، جو کہ خود بھی ایک معروف صنعتکار ہیں ، نے ہائی سکولوں کے نصاب میں صنعت، فنّی تربیت اور انجینئرنگ کی اہمیت پر مضامین شامل کرنے کی سفارش کی ہے۔سینیٹر نعمان وزیر فرماتے ہیں کہ صنعتوں میں جب فریش انجینئرز کو بھرتی کیا جاتا ہے۔ تو انہیں معیاری ویلڈنگ کو سمجھنے اور جانچنے کی بھی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی، عملی کام کرنے ، اس کا معیار جانچنے اور اسے آگے بڑھانے کی صلاحیت انتہائی کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ پیشہ ورانہ تعلیم کے دوسرے ، تیسرے اور چوتھے سال میں متعلقہ شعبے میں انٹرن شپ لازمی قرار دے دینا چاہیے۔ اس اجلاس میں پیشہ ورانہ تربیت کی وفاقی وزارت نے ایک رپورٹ پیش کی ہے کہ 2014-15ء میں مختلف شعبوں کے 2215افراد کو 8 تربیتی ورکشاپس کے ذریعے فنّی اور تکنیکی پیشہ ورانہ تعلیم مہیا کی گئی ہے۔ اس اجلاس میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندے نے بتایا ہے کہ کمیشن نے اعلیٰ پیشہ ورانہ تعلیم کے جدید تقاضوں کو سمجھنے اور سمجھانے کی خاطر پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے 25485 افراد (یعنی یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور ان کے معاونین) کو تربیت دینے کا اہتمام کیا ہے۔اسی طرح پاکستان مین پاور ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے ذریعے ثانوی سطح پر 16548 افراد کو مختلف شعبوں میں تربیتی ورکشاپس کے ذریعے تربیت مہیا کی گئی ہے۔

دراصل تربیتی ورکشاپس کے ذریعے تربیت کی اہمیت اپنی جگہ ، لیکن دوران تعلیم پیشہ ورانہ تربیت کی اہمیت اپنی جگہ مسّلم ہے۔ ورکشاپس میں نئی معلومات اور ٹیکنالوجی کی جدت کو زیر بحث لایا جاتا ہے، جبکہ بنیادی اہمیت دوران تعلیم فنی طور پر تکنیکی چیزوں کو سمجھنے کی ہے۔اس لئے سینٹ کی کمیٹی کی یہ سفارش بنیادی اور عملی اہمیت کی حامل ہے کہ پیشہ ورانہ تعلیم کے دو سرے ، تیسرے ، چوتھے یا پانچویں سال میں انٹرن شپ لازمی ہونی چاہئے۔ہمارے ہاں طب کی پیشہ ورانہ تعلیم کا معیار اس لئے بہتر ہے کہ یہاں ایک میڈیکل کالج کے ساتھ 250 بستروں پر مشتمل ایک ٹیچنگ ہسپتال کی موجودگی لازم ہے۔ میڈیسن کے طلباء کو تین چار دن کی پڑھائی کے بعد ہفتے میں ایک مرتبہ ضرور ی اور لازمی طور پر ہسپتال کا وزٹ دیا جاتا ہے۔ اس کے بر عکس انجینئرنگ کے تعلیمی اداروں ، یونیورسٹیوں اور صنعتوں کا آپس میں اکیڈمک رابطہ نہ ہونے کے برابر ہے۔چار یا پانچ سال کے بعد ایک انڈسٹری میں دو مہینے کی انٹرن شپ خانہ پری کے برابر ہوتی ہے اور اکثر طلباء یہ زحمت بھی گوارہ نہیں کرتے، بلکہ تعلق اور دوستی کی بنیاد پر کسی انجینئر نگ کمپنی سے سرٹیفیکٹ حاصل کرکے ڈگری کے حصول میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔اگر ہم غور کریں تو اس بڑی خامی کے دو اہم پہلو ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم لوگ انفرادی اور قومی سطح پر یہ سوچ رکھتے ہیں ، کہ مقصد ڈگری کا حصول ہے۔ بعد میں دیکھا جائے گا۔ دراصل ہمارے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی سوچ بھی فکری بلوغت کے حوالے سے انتہائی محدود اور" افسرانہ" ہوتی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ انجینئر بن کر انہیں تو صرف ایک پراجیکٹ کا نقشہ بنانا ہوگا اور اس پر عملدرآمد کی نگرانی کرنا ہوگی۔ باقی سارے کام تو نیچے کے ورکر لوگ کریں گے، لہٰذا انہیں ویلڈنگ کی اہمیت اور معیار کو سمجھنے کی ضرورت کیا ہے۔اس معاملے کا دوسرا اہم پہلو تعلیم کا بجٹ ہے۔ جب انجینئرنگ کی لیبارٹریز اور سائنسی ریسرچ کے آلات کی معقول فراہمی نہیں ہوگی تو پیشہ ورانہ تربیت کا معیار کیسے آگے بڑھایا جا سکے گا۔ جب تعلیم کے بجٹ کی اہمیت میٹرو بس اور اورنج ٹرین کے مساوی نہیں ہوگی تو معیار کیسے بہتر ہوگا۔ یہ نکتہ ہماری سیاسی قیادت کو سمجھانے کا ہے۔

ایک افسوس ناک خبر، اخبار کے کراچی ایڈیشن کے ایک اندرونی صفحے پر نظر سے گزری کہ جامعہ کراچی کے ایک معروف تحقیقی شعبے یعنی کیمسٹری کے ایچ۔ای۔جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں سائنسی اور کیمیائی تحقیق کے حوالے سے ایک بھر پور بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے۔ اس کانفرنس میں 45 برادر ممالک کے 740 سائنسدانوں اورمحققین نے شرکت کی ہے اور اپنے تحقیقی مقالے پڑھے ہیں ۔ یہ تقریب 15دسمبر سے 18 دسمبر تک جاری رہی، لیکن یہ بین الاقوامی کانفرنس سرکاری سرپرستی سے قطعی طور پر محروم رہی۔ کسی وفاقی یا صوبائی وزیر نے اس کے افتتاحی یا اختتامی سیشن کے لئے اپنی رونمائی کنفرم نہیں کی۔ اس کانفرنس کے کوارڈینیٹر پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمٰن اس حوالے سے انتہائی شاکی رہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیانے بھی اس کانفرنس کو کماحقہ اہمیت نہیں دی ۔ بھلا ہو برادر ملک کے مہمانوں کا کہ انہوں نے یہاں آنا اپنے لئے ایک اعزاز سمجھا اور خراج تحسین جامعہ کراچی اور انسٹی ٹیوٹ کے منتظمین کو پیش کرنا چاہئے ، ہمارے ملک میں ایک عدد سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت بھی پائی جاتی ہے جووزارت تعلیم کی طرح حکمرانوں کی توجہ کی مستحق ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس وزارت کو آج کل کسی وزیر کی سرپرستی بھی حاصل ہے یا نہیں، پچھلے دور میں اعظم سواتی اس وزارت کے وزیر مملکت ہوا کرتے تھے۔اس وزارت کے تحت ایک بڑا ادارہ پی سی ایس آئی آر یا پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ ہے۔اسی ادارے کے انتظام کے تحت ملک کے بڑے شہروں میں اچھے معیار کی لیبارٹریاں قائم ہیں، اگر وزارتِ پیشہ ورانہ تعلیم ، وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی، وزارت صنعت اور یونیورسٹی کی سطح پر کوئی جائنٹ پروفیشنل ٹریننگ ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا جائے۔ تو ہمیں امید ہے کہ مختلف اداروں میں موجود فنی تربیت کی سہولت کی دستیابی سے بھرپورفائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور سہولتوں کی عدم دستیابی کو بھی پورا کیا جاسکتا ہے۔

دراصل ضرورت سوچ، فکر اور بنیادی رویوں میں تبدیلی لانے کی بھی ہے۔ایک بار ایک تحقیق کے دوران راقم الحروف پر یہ حقیقت بھی آشکار ہوئی کہ نام نہاد انٹرن شپ کے دوران طلباء کو ورکنگ ایریا میں جانے کی اجازت ہی نہیں ہوتی ،کیونکہ فیکٹری یا تحقیقی ادارے کی انتظامیہ یہ سمجھتی ہے کہ باہر کا بندہ اندر آنے سے ان کی سیکریسی لیک ہو جاتی ہے۔بعض فنی ماہرین اتنے تنگ نظر ہوتے ہیں ، کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اپنا فنی تجربہ ، جو انہوں نے دہائیوں کی محنت اور ریاضت کے بعد حاصل کیا ہوتا ہے، کیوں مفت میں دوسروں کے ساتھ شےئر کریں۔ اس حوالے سے مجھے اپنے ایک دوست کی بات یاد آئی، وہ امریکہ میں اپنے بھائی کے ساتھ مقیم رہے تھے۔ جاپان سے انہوں نے خود الیکٹرانکس میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ امریکیوں کی یہ فطرت ہے کہ تکنیکی اور فنّی مہارت صرف اور صرف ان کا خاصہ ہے۔اور یہ ان تک اور ان کے اپنے ملک تک محدود رہنا چاہئے۔امریکی اپنی ذہانت او ر تجربے میں کسی کو اپنا حصہ دار بنانے پر آمادہ نہیں ہیں۔ اس کے بر عکس جاپانیوں کا رویہ ہمیشہ یہ ہوتاہے کہ وہ اپنے مشاہدات تجربات اور علم میں فراخدلی کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں، اﷲکرے کہ ہمارے صنعتکار، انجنےئر اور فنی ماہرین جاپانیوں کا رویہ اپنائیں۔ میڈیسن کے ایک پوسٹ گریجویٹ سطح کے ایک سرکاری تعلیمی ادارے کے ایک سینئر پروفیسر کے بارے میں یہ سنا گیاکہ وہ اپنے ایف سی پی ایس کے طلباء کو بہت زیادہ تنگ کرتے ہیں۔اسائنمنٹ (Assignment) کو چیک کرنے میں طویل عرصہ لے لیتے ہیں۔ پھر رزلٹ دینے میں کافی تنگ کرتے ہیں۔پراجیکٹ کی اپروول (Approval) میں کافی لمبا عرصہ گزار دیتے ہیں۔ میں نے ان کے ایک بے تکلف دوست سے ان کے شاگردوں کی فریاد کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہاکہ پروفیسر صاحب سمجھتے ہیں کہ "ان کو اتنی جلدی جلدی ہم سپیشلٹ کیوں بنوادیں، ہم نے تو سپیشلسٹ کی ڈگری لینے کے لئے جرمنی اور انگلینڈ کے انٹری امتحانات پاس کرنے کے لئے دن رات ایک کرکے محنت کی تھی اور یہ یہاں اتنی آسانی سے آگے بڑھنے کے خواہشمند ہیں۔ بہر حال ایک استاد اس لئے استا د ہوتا ہے کہ وہ اپنا علم فراخدلی کے ساتھ پھیلائے۔ اﷲسے یہی دعا کی جا سکتی ہے کہ ہم سب تعصب اور تنگ نظری کو چھوڑ کر ملک، قوم اور نوجوان نسل کی بھلائی کا سوچیں اور ہماری سیاسی اور قومی قیادت، ذاتبات سے نکل کر قومی سطح کی ترقی کے لئے بڑے اور بنیادی اقدامات کرنے کا راستہ اپنائے۔

مزید :

کالم -