بدعنوانی سے پاک پاکستان،نیب کا عزم

بدعنوانی سے پاک پاکستان،نیب کا عزم

بدعنوانی ایک ایسی لعنت ہے جو تمام برائیوں کی جڑہے ۔بدعنوانی نہ صرف ملک کو مالی طور پر نقصان پہنچاتی ہے بلکہ بدعنوان عناصر معاشرے میں بھی عزت واحترام کی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے ۔ بدعنوانی ملک کی خوشحالی اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بدعنوانی کے ملکی ترقی و خوشحالی پر مضر اثرات کے پیش نظر قومی احتساب بیورو کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے، بدعنوان عناصر سے لوگوں کی حق حلال کی کمائی ہوئی لوٹی گئی رقم برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروانے اور بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جاسکے ۔

قومی احتساب بیورو پاکستان کا انسداد بدعنوانی کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے جس کا دائرہ کار پورے پاکستان، گلگت بلتستان اور فاٹا تک ہے۔ قومی احتساب بیورو کا صدرمقام اسلام آباد جبکہ اس کے آٹھ علاقائی دفاتر کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور، راولپنڈی، سکھر، ملتان اورگلگت بلتستان میں کام کررہے ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جناب جسٹس جاویداقبال نے اپنی تعیناتی کے بعد قومی احتساب بیوروکی کارکردگی کو مزیدبہتر بنانے اور اسے انسداد بد عنوانی کا ایک فعال ادارہ بنانے کے لئے قومی احتساب بیورو میں بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے نہ صرف زیرو ٹالرینس اور خود احتسابی کی پالیسی اپنائی بلکہ کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے میرٹ ، شواہد اور قانون کے مطابق بدعنوان عناصر کو گرفتار کرنے اور انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا عزم کیا تاکہ ان کو قانون کے مطابق متعلقہ عدالت مجاز سے سزا دلوائی جاسکے۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جناب جسٹس جاویداقبال بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے نہ صرف زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنائی، بلکہ کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے میرٹ ، شواہد اور قانون کے مطابققومی احتساب بیورو پاکستان کا ایک متحرک ادارہ بنا نے کا عزم کیا ہے، جس کے لئے وہ دن رات کوشاں ہیں۔

قومی احتساب بیورو کو بدعنوانی اور کرپشن سے متعلق 2017 ء تک 3 لاکھ 43 ہزار 3 سو 56 شکایات موصول ہوئیں جن پر قانون کے مطابق کاروائی کی گئی۔ نیب نے بد عنوان عناصر کے خلاف 11581انکوائریاں کیں، جبکہ 7587 درخواستوں پر تحقیقات کا حکم دیاگیا۔ قومی احتساب بیورو (NAB) نے قیام سے 2017ء تک2808ء ریفرنس دائر کئے۔ بد عنوان عناصر سے قومی احتساب بیورو نے 2017ء تک 288 ارب روپے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔ََ

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جناب جسٹس جاویداقبال کی ہدایت پر نیب کے افسران کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے اور اسے مزید بہتر بنانے کے لئے جامع معیاری گریڈنگ سسٹم شروع کیا گیا ہے اس گریڈنگ سسٹم کے تحت نیب کے تمام علاقائی بیور وز کی کارکردگی کا جائزہ لیا جار ہا ہے۔ اس گریڈنگ سسٹم کے تحت نیب کے تمام علاقائی بیور وز کو نہ صرف ان کی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ کیا جاتاہے بلکہ ان خامیوں کو دور بھی کیا جا ر ہا ہے ہے۔ نیب نے ایک موثر مانیٹرنگ اینڈ ایلیویشن نظام بنایا ہے جس کے تحت تمام شکایات پر پہلے دن سے ہی

unique identification number لگا یا جا رہا ہے، سٹیزن فرینڈلی نیب کا بنیادی مقصد نہ صرف شکایت کنندہ کو احسن انداز میں اپنی شکایت سے متعلق پیشرفت پر آگاہی فراہم کرنا ہے بلکہ اس سے نیب میں شکایت کنندہ کے ساتھ رابطہ کے تناظر میں شفافیت اور ذمہ داری پیدا ہو گی جس سے نیب پر اعتماد سازی میں اضافہ ہو گا اور نیب میں شفافیت اور میرٹ کو فروغ ملے گا۔ نیب نے شکایات کوجلد نمٹانے کے لئے انفراسٹرکچراورکام کرنے کے طریقہ کار میں جہاں بہتری لائی وہاں شکایات کی تصدیق سے انکوائری اور انکوائری سے لے کر انویسٹی گیشن اوراحتساب عدا لت میں قانون کے مطابق ریفرنس دائر کرنے کے لئے ((10 دس ماہ کا عرصہ مقرر کیا جس کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ قومی احتساب بیورو نے انویسٹی گیشن آفیسرز کے کام کو مزید موئژ بنا نے کے لئے سی آئی ٹی(CIT) کا نظام قائم کیا گیاہے جس سے نہ صرف کام کا معیار بہتر ہوا ہے بلکہ کوئی بھی شخص انفرادی طور پر تحقیقات پر اثرا انداز نہیں ہوسکے گا۔ قومی احتساب بیورو نے اپنی موجودہ افرادی قوت کو بڑھانے اور ان کی استعداد کار میں اضافہ کے لئے جہاں میرٹ پرنئے تحقیقاتی افسران بھرتی کئے ہیں۔نیب نے اسلام آباد میں فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک، دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیئے کی جدید سہولیات میسر ہیں۔ فرانزک سائنس لیبارٹری کے قیام کا مقصد معاشرے سے بدعنوانی کے خاتمے کے لئے بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نیب کو جدید آلات سے لیس کرنا ہے ۔ فرانزک سائنس لیبارٹری کے قیام سے ایک تو وقت کی بچت ہوتی ہے دوسری کوالٹی اور سکریسی برقرار رہتی ہے۔ قومی احتساب بیورو کا مجموعی طور پر Conviction Rate تقریباََ76 فیصد ہے۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جناب جسٹس جاویداقبال نہ صرف ہر ماہ کی آخری جمعرات کو عوام کی شکایات ذاتی طور پر نیب ہیڈکوارٹر میں سنتے ہیں بلکہ نیب کے تمام علاقائی دفاتر میں بھی علیحدہ شکایات سیل قائم کئے گئے ہیں۔

نوجوان کسی بھی ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ قومی احتساب بیورونے ہائر ایجوکیشن کے ساتھ مل کر ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور کالجز کے طلبہ وطالبات کو کرپشن کے اثرات سے آگاہی فراہم کرنے کے لئے ایک (MoU) پر دستخط کئے۔قومی احتساب بیورو کی اس مہم کا مقصد ایک طرف نوجوان نسل کو بدعنوانی کے مضمر اثرات سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔دوسری طرف نوجوانوں کی توجہ اس بات کی طرف بھی باور کروانا تھی کہ آپ ملک کا مستقبل ہیں اگر آپ کو بدعنوانی کے بارے میں آگاہی حا صل ہو گی تو مستقبل میں بدعنوانی پر قا بو پانے میں بھی مدد ملے گی۔ قومی احتساب بیورونے ہائر ایجوکیشن کے ساتھ مل کر ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور کالجز میں اس وقت تک تقریباً 45 ہزارکریکٹر بلڈنگ سوسائٹیز کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے جس کے حو صلہ افزاء نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جناب جسٹس جاویداقبال نے اپنی تعیناتی سے ابتک مختصر وقت میں قومی احتساب بیورو کی کی کارکردگی کو مزید بہتربنانے کے لئے کوشاں ہیں کیونکہ آپ اچھی شہرت اور بے داغ ماضی رکھنے والے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق قائم مقام چیف جسٹس رہے ہیں۔ آپ ہمیشہ میرٹ ، غیر جانبداری، شواہد اور شفافیت کی بنیاد پر کسی بھی بدعنوانی کی درخواست پر بلاخوف اور بلاتفریق کارواء�ئ کرتے ہیںیہی وجہ ہے کہ قومی احتساب بیورو پر پلڈاٹ کی رپورٹ کے مطابق عوام کا اعتماد 42 فیصد ہے، جبکہ دوسرے تحقیقاتی اداروں جن میں پولیس شامل ہے پر 30 فیصد ہے۔ مزید برآں ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کے مطابق پاکستان کا کرپشن پرسپشن انڈیکس(CPI) 175ممالک میں 116تک پہنچ گیاہے جو پاکستان نے 20 سالوں میں قومی احتساب بیورو کی کاوشوں کی بدولت پہلی دفعہ حاصل کیا ہے۔جس کا برملا اظہارمعاشرے کے تمام طبقے کرتے ہیں ۔ قومی احتساب بیورو نے جو نمایاں کامیابیا ں حاصل کیں ہیں وہ قومی احتساب بیورو کے افسران کی انتھک محنت اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہیں۔اور اس کا درس وہ اپنے تمام افسران اور اہلکاروں کو بھی دیتے ہیں وہ کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کو اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تعیناتی سے اب تک حکومت اور اپوزیشن کی تفریق کئے بغیر میرٹ، ایمانداری اور کسی پریشر کو خاطر میں لائے بغیر کرپٹ عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی ہے وہ نہ کسی کے ساتھ نرمی برتتے ہیں اور نہ ہی کسی کے ساتھ زیادتی پر یقین رکھتے ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ قومی احتساب بیورو اپنے موجو دہ چیئرمین جناب جسٹس جاویداقبال کی شاندار قیادت میں پاکستان سے بد عنوانی کے خاتمہ کے لئے بھر پورکوششیں جاری رکھے گا تاکہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ کرنے میں مدد مل سکے اور بدعنوانی سے پاک پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

مزید : رائے /کالم