فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر591

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر591
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر591

  



۱۹۵۰ء میں ان کی فلم ’’ہماری بستی‘‘ نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ اس کے مکالمے فاروق علی خاں نے اور کہانی مصنف و اداکار شیخ اقبال نے لکھے تھے۔ ایک نئے ہیرو کو اس فلم کے مرکزی رومانی کردار کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ مشکور قادری اس کے ہدایت کار اور مصنف تھے۔ فیروز نظامی نے اس کی موسیقی بنائی تھی۔ گیت مشیر کاظمی نے لکھے تھے۔ یہ فلم بھی کامیاب نہ ہو سکی۔

اس کے باوجود نجمہ نے حوصلہ نہیں ہارا۔ وہ اس طویل سفر کے بعد بھی تازہ دم تھیں اور نئے نئے تجربات کرنے پر آمادہ تھیں۔

اس دوران انہیں ایک پنجابی فلم میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس کا نام ’’بلو‘‘ تھا۔ نجمہ بذات خود پنجابی تھیں۔ پنجابی ان کی مادری زبان تھی اس کے باوجود ’’بلو‘‘ سے پہلے انہوں نے کسی پنجابی فلم میں کام نہیں کیا تھا۔ حسن اتفاق دیکھئے کہ یہ پنجابی فلم ہی ان کی بہترین اورکامیاب ترین فلم ثابت ہوئی۔

اس زمانے میں پنجابی فلمیں مار دھاڑ سے محفوظ تھیں۔ ہلکی پھلکی میوزیکل، مزاحیہ اور رومانی فلمیں بنا کرتی تھیں۔ ’’بلو‘‘ بھی ایک ایسی ہی دلچسپ اور طربیہ فلم تھی۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر590 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اگرچہ یہ نجمہ کی پہلی اور آخری پنجابی فلم تھی لیکن اس کے باوجود اسی فلم کے ذریعے انہوں نے ایک بہترین اداکارہ کی حیثیت سے خود کو منوایا تھا۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ ان کی خواہشوں اور کوششوں کا نقطہ عروج تھا۔ اس فلم کے ہیرو درپن تھے۔ اس زمانے میں اپنے اصلی نام عشرت کے نام سے اداکاری کرتے تھے۔ وہ ایک خوب رو اور پرکشش نوجوان تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس زمانے میں عشرت فلمی د نیا کے ایک بڑے اداکار تھے۔ ان کے بڑے بھائی موسیٰ رضا عرف سنتوش کمار نے ابھی کامیابیوں کا سفر شروع نہیں کیا تھا۔ بابا چشتی نے اس فلم کی موسیقی ترتیب دی تھی۔ اس فلم کی کہانی گاؤں کے میراثیوں سے تعلق رکھتی تھی۔ یہ ایک بے حد دلچسپ ، شگفتہ اور برجستہ مکالموں سے آراستہ فلم تھی۔ بلو سے پہلے اس کا نام مراثی رکھا گیا تھا۔ لیکن بعد میں تبدیل کرکے ’’بلو‘‘ کر دیا گیا۔ اس فلم میں نجمہ کی اداکاری کو بہت سراہا گیا۔ یہ ایک اوسط درجے کی کامیاب فلم تھی۔ اس دور میں بھارت سے اعلیٰ درجے کی اردو اور پنجابی فلمیں درآمد ہوا کرتی تھیں۔ جن کے مقابلے میں پاکستان کی نو آموز فلموں کی کامیابی کے امکانات بہت کم تھے۔ یہ فلم ۱۹۵۱ء میں نمائش پذیر ہوئی تھی۔

اس کے بعد نجمہ نے فلم ’’ہرجائی‘‘ میں کام کیا ۔ بمبئی سے آئے ہوئے اداکار مسعود اس فلم کے ہیرو تھے۔ استاد فتح علی خاں نے اس کی موسیقی ترتیب دی تھی۔ یہ فلم ۱۹۵۲ء میں ریلیز ہوئی اور ناکامی سے دوچار ہوگئی۔

اب نجمہ کو فلموں میں کام کرتے ہوئے لگ بھگ گیارہ برس گزر چکے تھے۔ اس دوران میں انہوں نے بمبئی اور لاہور میں مختلف اداروں میں مختلف ہدایت کاروں اور اداکاروں کے ساتھ کام کیا تھا لیکن پھر بھی اپنی دلکش شخصیت اور معیاری اداکاری کے باوجود وہ صف اول کی ہیروئن نہیں بن سکیں۔

پاکستان کے معروف فلم ڈسٹری بیوٹر اور اسٹوڈیو اونر باری ملک نے ان سے شادی کی خواہش ظاہر کی۔ باری ملک ایک کامیاب اور خوب صورت نوجوان تھے۔ فلمی دنیا میں امتیازی حیثیت کے مالک تھے۔ بعد میں انہوں نے پاکستان کا سب سے بڑا فلمی نگار خانہ باری اسٹوڈیو بنایا تھا۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بہت خوش نصیب آدمی تھے۔ مٹی کو بھی ہاتھ لگاتے تو سونا بن جاتی تھی۔ آگے چل کر وہ پاکستان کی فلمی صنعت کے معماروں میں شمار ہوئے۔ انہوں نے یکے والی اور یار بیلی جیسی کامیاب ترین پنجابی فلمیں بنائی تھیں۔

نجمہ اور باری ملک کی شادی ایک کامیاب شادی تصور کی جاتی تھی۔ وہ تین بیٹوں اور ایک بیٹی کے والدین تھے۔ تمام بچے خوب صورت اور ذہین تھے لیکن بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان دونوں میں اختلافات پیدا ہونے لگے ۔ اس کا بڑا سبب باری ملک کا لا ابالی پن اور رومان پسند طبیعت تھی۔ ان کا نام کئی ایکٹریسوں کے ساتھ منسوب ہوتا رہا اور کئی ہیروئنوں سے ان کے مراسم کی کہانیاں اسکینڈلز کی صورت میں سامنے آئیں۔ ظاہر ہے کہ یہ گھریلو اختلافات پیدا کرنے کے اسباب بن گئے۔ نجمہ اور باری ملک میں فاصلے بڑھتے رہے۔

اس داستان کا کلائمکس اس وقت ہوا جب باری صاحب نے اداکارہ سلونی سے شادی کرلی اس رومان کا آغاز بھی حسب معمول ہلکے پھلکے انداز میں ہوا تھا لیکن سلونی نے اس دل لگی کو دل سے لگا لیا۔ وہ باری ملک کی محبت بلکہ عشق میں گرفتارہوگئیں۔ باری صاحب ان سے شادی کرنے پر آمادہ نہیں تھے مگر جب سلونی نے کئی بار خودکشی کرنے کی کوشش کی اور کسی صورت بھی اپنی ہٹ سے باز نہ آئیں تو باری ملک ان سے شادی کرنے پر مجبور ہوگئے۔

باری صاحب کے لڑکے اب جوان ہو چکے تھے اور اس جھگڑے میں اپنی ماں کے ہمنوا تھے۔ یہ گھریلو جھگرے وقت کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرتے گئے یہاں تک کہ باری ملک اپنا لاہور کا پھلتا پھولتا کاروبار اور وسیع اسٹوڈیو چھوڑ کر دبئی چلے گئے اور وہیں مستقل رہائش اختیار کرلی۔ لاہور بھی وہ گاہے بگاہے آتے رہے۔ اپنے دوسرے بیٹے فرخ باری کی شادی انہوں نے لاہورمیں بہت دھوم دھام سے کی تھی جس میں فلمی صنعت کے ممتاز افراد نے شرکت کی تھی۔ باری ملک اور سلونی دو بیٹیوں کے والدین ہیں۔ اگرچہ وہ پہلی سی تلخی ہوگئی تھی لیکن تعلقات میں جو دراڑ پڑ گئی تھی وہ کسی طرح پرنہ ہو سکی۔ باری ملک نے مستقل طور پر جلا وطنی اختیار کر لی۔

اور پھر کچھ عرصے قبل نجمہ بھی علالت کے بعد لاہورمیں انتقال کر گئیں۔ ۱۹۵۲ء میں ’’ہرجائی‘‘ کے بعد انہوں نے فلمی دنیا کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ یہاں تک کہ فلمی تقریبات میں بھی شرکت نہیں کرتی تھیں۔ وہ ایک خالص گھریلو خاتون بن کر رہ گئی تھیں۔افسوس کہ اس کے باوجود وہ اپنے گھر کو بکھرنے اور ٹوٹنے سے نہیں بچا سکیں۔

نجمہ سے ہماری ملاقات باری صاحب سے ان کی شادی سے پہلے ہوئی تھی۔ ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ ادب اور شاعری سے انہیں دلچسپی تھی۔ اچھے اشعار برمحل پڑھتی تھیں تو بہت حیرت ہوئی تھی کیونکہ ایک اداکارہ سے اس کی توقع نہیں کی جاتی تھی۔

نجمہ سے ہماری صرف ایک ملاقات ہوئی تھی جب ہم نے روزنامہ ’’آفاق‘‘ کے فلمی ایڈیشن کے لیے ان سے انٹرویو لیا تھا۔ اس بات چیت میں فلموں سے زیادہ ادب اور شاعری کے بارے میں گفتگو ہوتی رہی۔ سعادت حسن منٹو صاحب کی وہ بہت بڑی مداح تھیں۔ منٹو صاحب کے بارے میں انکا ایک فقرہ ہمیں آج تک یاد ہے انہوں نے کہاتھا ’’منٹو کے افسانے۔۔۔پڑھ کر امرتسر آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔ وہ چلتا پھرتا امرتسر تھے۔‘‘

ہم لوگ آئے دن پاکستانی فلموں کے پست معیار کا رونا روتے رہتے ہیں اور سچ پوچھیئے تو بجا طور پر روتے ہیں مگر ہمارے ہاں فلمی صنعت کے زوال اور پست معیاری کے اسباب دوسرے ملکوں کے مقابلے میں قدرے مختلف ہیں مثلا بھارتی فلمی صنعت کودیکھ لیجئے۔وہاں آج پہلے سے زیادہ تعلیم یافتہ، ذہین اور ہنر مند لوگ فلمی صنعت سے وابستہ ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے لوگ بھی پرانی بھیڑ چال پر کیوں گامزن ہیں اور ایک ہی قسم کی فضول اور واہیات فلمیں کیوں بناتے ہیں جبکہ وہاں نہ سرمائے کی کمی ہے اور نہ ہی صلاحیتوں کی۔ نئے چہرے وہاں کسی خاص کوشش کے بغیرہی دستیاب ہو جاتے ہیں۔ نئی نئی ہیروئنیں، نئے نئے ہیرو آئے دن فلموں میں نظر آتے ہیں یہ اور بات ہے کہ ان میں سے اداکار اور اسٹار بننے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں نئے چہرے تلاش کرنے سے بھی نہیں ملتے۔ آج بھی وہی ڈھائی ہیرو اور ڈھائی ہیروئنیں ہیں حالانکہ یہ ماڈرن دور ہے۔ ماڈلنگ، شوبزنس میں کام کرنا، ناچنا گانا اور ٹی وی یا فلموں میں اداکاری کرنا معیوب بھی نہیں سمجھا جاتا پھر بھی کام کے لوگ ڈھونڈے سے نہیں ملتے۔اچھی فلمیں نہ بنائے جانے اور اچھے ماحول کے فقدان کی وجہ سے معقول شائستہ اور تعلیم یافتہ افراد فلمی صنعت کا رخ نہیں کرتے پھر معیاری اردو فلمیں اتنی کم تعداد میں بن رہی ہیں اور انہیں بنانے والے بیشتر فلم ساز و ہدایتکار ایسے ہیں کہ ان کے ساتھ کام کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ تعلیم یافتہ نوجوان اس گندگی میں اچھے مستقبل کی جستجومیں عمریں گزار دینے کے بجائے دوسرے شعبوں کا انتخاب کرتے ہیں۔

رہ گئیں ہیروئینیں اور ماڈلز تو ان کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن بدقسمتی سے ان کی اکثریت اداکاری سے نابلد ہوتی ہے۔ چہرے مہرے کے اعتبار سے بھی ان میں ہیروئنوں جیسی صفات نہیں ہوتیں۔ ان سب سے بڑھ کر یہ کہ اب بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں حرام کی دولت کی فراوانی کے باعث ذرا سی بھی خوش شکل لڑکیوں کو روپے پیسے کی کمی نہیں رہتی۔ گمنام ماڈل لڑکیاں تک کوٹھیوں میں رہتی ہیں۔ قیمتی کاروں میں گھموتی ہیں۔ کئی کئی موبائل ٹیلی فون اور سیکرٹری ساتھ رکھتی ہیں اور ان موبائلز کی گھنٹیاں ہر وقت بجتی رہتی ہیں۔ خدا جانے انہیں کون سے کاروبار اور ضروری فرائض سر انجام دینے ہوتے ہیں کہ ٹیلی فون کی گھنٹی کسی وقت خاموش ہی نہیں ہوتی۔ جس کے بارے میں پوچھو تو معلوم ہوتا ہے کہ ڈیفنس کے پوش علاقے میں رہائش ہے۔ ان لڑکیوں کے پاس دولت اور آسائشوں کی ریل پیل کے اسباب آپ اور ہم سب جانتے ہیں۔ ان ہی میں سے اگر کوئی با صلاحیت نکل آئے تو اس کے عشاق اور طلب گاروں کی تعداد اور بڑھ جاتی ہے۔ (جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر592 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ