فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر592

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر592
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر592

  



ظاہرہے کہ جب محنت کیے بغیر ہی دولت اور دنیا بھر کی سیر ہاتھ آجائے تو اداکاری میں محنت کون کرے۔ لہٰذا ہماری ہیروئنوں کوفلموں میں اداکاری کے معیار یا فلموں کے حصول کے بارے میں کوئی پروا نہیں ہوتی اسی لیے ان کا اداکاری کا معیار کبھی بلند نہیں ہوتا۔ ان کے پاس دولت کمانے کے دوسرے ذرائع بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ فلم ٹی وی یا ماڈلنگ ان کے لیے محض پبلسٹی کا ایک ذریعہ ہے جو انہیں مفت اور فراوانی سے مل جاتی ہے۔ اس پبلسٹی کے سہارے وہ دولت کمانے کے دوسرے ذرائع آسانی سے تلاش کر لیتی ہیں۔ اچھی با صلاحیت اداکارائیں بھی اس تن آسانی اور بلا محنت کی دولت حاصل ہو جانے کے باعث اسکرینا ور اچھی فلموں سے بے تعلق اور بے نیاز ہی نظر آتی ہیں۔ کم از کم بھارتی فلمی صنعت میںیہ صورتحال نہیں ہے۔ مغربی ملکوں اور ہالی ووڈ میں تو اس کا تصور تک نہیں کیاجا سکتا ۔ ایک سے بڑھ کر ایک حسین لڑکی معمولی ملازمتوں اور محنت مزدوری پر گزارہ کرتی نظر آتی ہے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر591 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ہالی ووڈ کے مسائل مختلف ہیں۔ وہاں یہ سب کچھ نہیں ہے لیکن پھر بھی معیاری فلمیں وہاں بھی بہت کم ہی بنائی جاتی ہیں۔ جو معیاری کہلاتی ہیں وہ بھی پرانے معیار پر پوری نہیں اترتیں۔دراصل زمانے کے ساتھ مغرب کے فلم بینوں کے معیار بھی بدل گئے ہیں۔ مار دھاڑ، قتل و غارت، اچھل گود، جرائم کی مانگ ہے اس لیے ایسی ہی سنسنی خیز فلمیں بنائی جاتی ہیں جسے ہمارے موسیقاروں کی زبان میں رس اور مٹھاس سے عاری کہا جاتا ہے۔ جیسی فلموں کی دنیا بھر میں مانگ ہے۔ ہالی ووڈ کے فلم ساز ویسا ہی مال بنا بنا کر دنیا بھر میں بھیج رہے ہیں ظاہر ہے کہ انہیں تو دولت کمانے سے سرو کار ہے۔ اس کے باوجود وہاں اچھی معیاری فلمیں بن جاتی ہیں۔اگرچہ بہت کم تعداد میں بنائی جاتی ہیں انہیں فلمی میلوں میں انعامات و اعزازات سے بھی نواز جاتا ہے۔ اس طرح آمدنی کی کمی دوسرے طریقوں سے پوری ہو جاتی ہے۔ اور فلم ساز کی اشک شوئی ہوجاتی ہے۔

کافی عرصہ ہوگیا سینما گھر میں گئے ہوئے۔ کوئی اچھی فلم بھولے بھٹکے آجاتی ہے تو سینما گھر کی حالت زار، گندگیا ور فلم بینوں کی بد تہذیبی راہ میں دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے اب بتائیے کہ ان حالات میں سینما گھرمیں جا کر فلم کیسے دیکھی جائے؟

پچھلے دنوں جیمز بونڈ کی نئی فلم’’ڈائی این ادر ڈے‘‘ نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ جیمز بونڈ کی فلموں میں سرپیر اور منطق نہ سہی کم از کم خوب صورت مناظر، حیرت انگیز کمالات اور جیدد ترین ٹیکنالوجی کے مظاہر ضرور نظر آجاتے ہیں۔ ایسی فلمیں سینما گھروں میں ہی دیکھی جا سکتی ہیں اور مزہ دیتی ہیں چھوٹے اسکرین پر ان کے کرتب، کمالات اور ہنگامہ خیزی کا وہ لطف نہیں آتا جو سینما کے کشادہ اسکرین پر آتا ہے۔ یہ فلم لاہور میں نسبتاً ایک اچھے سینما میں لگیہے لیکن مشکل یہ ہے کہ صرف ایک ہی سینما میں اس نمائش ہو رہی ہے اور سارے شہر کے زندہ دل اسی پر ٹوٹے پڑے ہیں ایسے ہجوم میں اور طوفان بدتمیزی میں فلم دیکھنے کا خاک مزہ آئے گا۔ چنانچہ رش کم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ہمیں رش کم ہونے کی اطلاع فلم کے سینما سے چلے جانے کے بعد ملے جیسا کے عام طور پر ہوتا ہے۔

پرانے وقتوں کے لوگ پرانی باتوں کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ دراصل ماضی ہر ایک کو اچھا لگتا ہے۔ہر زمانے کا یہی دستور رہا ہے کہ ماضی کے دھندلکوں سے چھن کر جو یادیں اور تصویریں ذہن کے پردے پر آتی ہیں وہ بہت اچھی اور خوب صورت لگتی ہیں لیکن کم از کم پرانی فلموں کی حد تک یہ اصول اتنا برمحل نہیں معلوم ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ کل جس قسم کی فلمیں بنائی جاتی تھیں،جس قسم کی کہانیاں پیش کی جاتی تھیں۔ جتنے اچھے اداکار اور اداکارائیں تھیں جو خوب صورتی اور اداکاری دونوں میں اپنی مثال آپ تھیں جیسے ہنر مند، ذہین اور تخلیلات سے مالا مال ہنرمندوں کی بہتات تھی وہ اب آنکھوں کا سرمہ بن کررہ گئے ہیں۔ اب تو اداکاری اور حسن کا معیار ہی بدل گیاہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ پرانی فلمیں اور پرانے فنکاروں کو دیکھ کر آج کی نسل بھی انہیں پسند کرنے اور داد دینے پر مجبور ہو جاتی ہے کیسے کیسے دلچسپ اور انوکھے موضوعات پر فلمیں بنائی جاتی تھیں اور کس قدر خود صورتی سے فلمائی جاتی تھیں کہ دیکھنے والے ہمیشہ نئی فلموں کی آمد کے منتظر رہا کرتے تھے۔

باکس آفس اسٹار اسی زمانے میں ہوتے تھے۔ ان کا نام ہی ان کے مداحوں کو کھینچ کر سینما گھروں میں لے جاتا تھا۔فلم اچھی ہو یا نہ ہو اپنے اپنے فنکاروں کے فن سے وہ ضرور لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔ ہر اداکار،ا داکارہ اور ہدایت کار کے بارے میں لوگ جانتے تھے کہ ان کی فلم کیسی ہوگی اور بہت حد تک ان کی توقعات پوری بھی ہو جاتی تھیں۔

اس سال ۲۰۰۳ء میں پاکستان میں ویلنٹائن ڈے بھی بہت زور و شور سے منایا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ آنے والے سالوں میں اس رجحان میں مزید اضافہ ہوگا۔ ہم نے ویلنٹائن ڈے کا تذکرہ پہلی بار امریکا میں سنا تھا جب ہموہاں جا کر رہے تھے۔ کون جانتا تھا کہ ماہ و سال کی گردش تمام مغربی رسومات اور روایات کو ایک دن ہمارے دروازے پر لے آئے گی۔ جس امریکی سے بھی ہم نے ویلنٹائن ڈے کے بارے میں معلوم کیا اس نے اپنے مخصوص لب و لہجے میں ایک لمبی تقریرکر دی۔ خلاصہ اس کا ہم نییہ نکالا کہ یہ دن سینٹ ویلنٹائن کی یاد میں منایا جاتا ہے جو محبت کے پیامبر تھے۔ان کی یاد میں اس روز پرانی محبتوں کو تازہ کیا جاتا ہے اور نئی محبتوں کی داغ بیل ڈالی جاتی ہے۔ اس روز ہر شخص اپنی محبوب شخصیت سے کہتا ہے کہ ’’آئی لو یو‘‘ اور تحفے میں پھول دیتا ہے۔ہماری سمجھ میں یہ بات نہیںآئی کہ اظہار محبت اور محبت کرنے والے کے لیے صرف ایک ہی دن مخصوص کیوں ہے اور زبان سے یہ کہنا کیوں لازمی ہے کہ ’’آئی لو یو۔‘‘(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر593 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ