سانحہ بل دیہ ،مفرور ملزمان کی وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواستیں مسترد

سانحہ بل دیہ ،مفرور ملزمان کی وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواستیں مسترد

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے سانحہ بلدیہ کیس میں 2 مفرور ملزموں کے خلاف کارروائی روکنے سے متعلق درخواستیں مسترد کردتے ہوئے وارنٹ گرفتاری بحال کردیئے۔ دو رکنی بینچ کے روبرو سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں مفرور ملزموں کے خلاف کارروائی روکنے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔عدالت نے بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس میں وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے ملزموں کے وارنٹ گرفتاری بحال کردیئے۔ وکیل علی حسن ایڈوکیٹ انور منصور نے کہا بلدیہ فیکٹری کو آگ لگنے کا مقدمہ پہلے درج ہوچکا تھا۔ ماتحت عدالت نے جے آئی ٹی کے بعد دوسرا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔ سماعت کے دوران فیکٹری مالکان کی جے آئی ٹی رپورٹ بھی سنائی گئی۔ انور منصور نے کہا کہ جے آئی ٹی میں حماد صدیقی اور ایم کیوایم کے دیگر لوگوں کا نام سامنے آیا۔ کہا جارہا ہے بھتہ نا دینے پر فیکٹری کو آگ ایم کیو ایم والوں نے لگائی۔رحمان بھولا اور دیگر ملزموں نے بھی جے آئی ٹی میں علی حسن اور عمر حسن کا نام نہیں لیا۔ فیکٹری مالکان نے کاروبار کے لیے چیک بینک اکاونٹ کے زریعے پیسے دیئے تھے۔ بھتہ لینا ہوتا تو چیک نہیں لیا جاتا،براہ راست لیا جاتا ہے۔ جے آئی ٹی میں تو انیس قائمخانی کا بھی نام ہے اس طرح تو ان کے خلاف بھی مقدمہ درج ہونا چاہیے تھا۔ بھتہ کی رقم علی حسن قادری اور دیگر کو منتقل ہی نہیں ہوئی۔ فیکٹری کو آگ 2012 میں لگی تھی اور فیکٹری مالکان کے پیسوں کا لین دین 2014 تک چلتا رہا۔ جو پیسے حیدرآباد میں فیکٹری لگانے کے لیے دیے تھے ان کی تفصیلات ایف آئی اے کو بھی دی گئیں۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے بھی شواہد کے برعکس ملزموں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے۔ انور منصور خان نے کہا کہ علی حسن قادری کینسر کے مرض میں مبتلا ہے وہ پیش بھی نہیں ہوسکتے۔ ایڈوکیٹ حسان صابر نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالستار علی حسن قادری کے بزنس پارٹنر ہیں۔ ڈاکٹر عبدالستار کو ایک کروڑ 3 لاکھ روپے کاروباری مقاصد کے لیے دیے گئے تھے۔ ادیب اقبال خانم 70 سالہ خاتون ہیں ان کا نام جے آئی ٹی کی بنیاد پر کیس میں شامل کیا گیا۔ ملزموں کے خلاف کسی قسم کے دستاویزی شواہد پیش نہیں کیے گئے کہ انہوں نے بھتہ مانگا تھا۔ کاروباری سلسلے میں بھائلہ برادران نے رقم دی جس سے حیدرآباد میں پراپرٹی خریدی گئی۔ دائر کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ فیکٹری میں آتشزدگی سے ملزمان کا کوئی تعلق نہیں۔ اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نے کہا کہ جے آئی ٹی نے بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کا نیا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔جے آئی ٹی کی سفارشات پر بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس کا چالان پیش کیا گیا۔ ساجد محبوب شیخ نے کہا کہ سیاسی دبا پر مقدمے کی تفتیش ٹھیک طرح سے نہیں گئی تھی۔ جے آئی ٹی میں تمام حساس اداروں اور پولیس افسران شامل تھے۔ جے آئی ٹی نے تمام شواہد کا دوبارہ جائزہ لیا۔ فیکٹری میں آگ لگا کر 259 معصوم افراد کو جلا کر قتل کیا گیا۔ فیکٹری کو آگ لگنے کے بعد بھی مالکان نے بھتہ خوری کا سلسلہ جاری رہا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ملزم رحمان نے اپنے 164 کے بیان میں ان چاروں ملزموں کا نام لیا؟ سماعت کے دوران ملزم رحمان بھولا کا 164 کا بیان پڑھ کر سنایا گیا۔ رحمان بھولا کی جے آئی ٹی کے مطابق قتل و غارت گیری کرنا جلاو گھرا کرنا ایم کیو ایم کی پالیسی میں شامل تھا۔سنی تحریک، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے کارکنوں کو قتل گیا۔ روف صدیقی نے فیکٹری مالکان کے مقدمہ درج کرایا تاکہ ایم کیو ایم کا نام سامنے نا آئے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -