پاکستان ایشین ٹائیگر بننے جا رہا ہے

پاکستان ایشین ٹائیگر بننے جا رہا ہے
پاکستان ایشین ٹائیگر بننے جا رہا ہے

  

اسلامی جمہوریہ پاکستان اور عوامی جمہوریہ چین کی لازوال دوستی کے بارے میں یہ جملہ مشہور زمانہ ہے کہ ہماری دوستی ہمالیہ سے اونچی اور سمندر سے گہری ہے۔ اس کا عملی مشاہدہ اور حقیقی نظارہ پوری دنیا نے دیکھ لیا۔ چینی صدر شی چن پنگ دو روزہ دورے پر پاکستان تشریف لائے۔ حکومت پاکستان نے اور خاص طور پر وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے جس تپاک اور اہتمام سے اپنے معزز مہمان کا استقبال کیا‘ پوری دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ چینی صدر کا طیارہ جونہی پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا پاک فضائیہ کے طیاروں نے خوبصورت انداز میں اپنے مہمانِ خاص کو پروٹوکول کے ساتھ وطنِ عزیز کی سرزمین تک پہنچایا۔ پوری وفاقی کابینہ‘ اعلیٰ فوجی و سول حکام سمیت تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سربراہان مشترکہ طور پر دیدہ و دل فرش راہ کئے ہوئے تھے۔ یہ دورہ پاکستان کو روشن مستقبل کی جانب گامزن کرنے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے ملک پر جب کبھی کوئی مشکل وقت یا پریشان کن حالات آئے ہیں‘ عوامی جمہوریہ چین نے نہ صرف حقِ ہمسائیگی، بلکہ حق دوستی بھی ادا کیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ کو جب بھی ملک کی خدمت کرنے کا موقع ملا تو دوست ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرکے اپنے ملک کی ترقی کا سامان پیدا کیا گیا۔ میاں محمد نوازشریف اور میاں محمد شہبازشریف نے اپنے موجودہ دورِ حکومت میں اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے خطّے کے تمام ممالک کے ساتھ روابط کو بڑھایا ہے۔ سب سے زیادہ توجہ چین کے ساتھ تعلقات کو دی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے چین کے متعدد دورے کرکے اپنی قابلیت اور صلاحیت کا لوہا منوایا ہے۔ اب تو چینی لوگ اور عوام بھی شہبازشریف کی شخصیت کو محنت کے استعارہ کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ چین میں کسی بھی شعبہ کے ماہر اور محنتی شخص کو شہبازشریف کا شاگرد قرار دیا جاتا ہے۔ جہاں تک پاکستان کے ساتھ معاہدوں اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا تعلق ہے‘ اس حوالے سے بہت پہلے ہی تمام معاملات طے پاچکے ہیں۔ چینی صدر نے اپنے شیڈول کے مطابق پاکستان آکر معاہدوں کی توثیق کرنا تھی، کیونکہ ان معاہدوں اور تعاون کے ذریعے پاکستان نے شاہراہ ترقی پر گامزن ہونا تھا۔ اس لئے پاکستان کے اندرونی و بیرونی دشمن سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ کس طرح خوشحالی کے اس دور میں رخنہ ڈالا جائے۔

پوری قوم جانتی ہے کہ دھرنا بازی نے جہاں اور بہت سے نقصانات کئے‘ بہت سی خرافات کو جنم دیا وہاں سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ چینی صدر کا طے شدہ دورہ ملتوی ہوگیا۔ اپنا مقصد حاصل کرنے کے بعددھرنا سیاست اپنے اختتام کو پہنچی اور بلاوجہ شوروغوغا کرنے والے لوگ اپنے انجام کو پہنچے۔ حکومتِ پاکستان اور میاں محمد نواز شریف نے دوبارہ سے محنت کرکے اعتماد کی فضا بحال کی اور چینی صدر کو دورۂ پاکستان کی دعوت دی۔ پوری قوم سلام پیش کرتی ہے اپنے محسن چینی صدر شی چن پنگ کو جنہوں نے ہمارے خلوص کی قدر کی اور پاکستان تشریف لائے۔ اس دورے کے دوران تقریباً 46ارب ڈالر کے چھوٹے بڑے متعدد منصوبوں کے معاہدے کئے گئے۔

پاکستان میں جاری توانائی بحران کے حل اور نئے توانائی منصوبوں کے لئے نہ صرف مالی تعاون کیاجائے گا بلکہ چینی انجینئرز اور ماہرین ان تمام منصوبوں میں عملی طور پر شامل ہوں گے۔ سڑکوں کے جال بچھانے، میٹروٹرین چلانے، سولر اور کول پاور منصوبے چلانے کے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ چین نے پاکستان کی مضبوطی کو اپنی مضبوطی قرار دیا ہے۔ چینی صدر نے واضح طور پر کہا کہ ان کی خارجہ پالیسی میں پاکستان سرفہرست ہے۔ دہشت گردی کی لعنت، جس نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اس سے چھٹکارہ پانے کے لئے پاکستان کے قدم سے قدم ملایا جائے گا۔ خیرسگالی کے ان جذبات سے باہمی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ سب سے اہم اور خوشی کی بات یہ ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری کے منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ عظیم منصوبہ ہمارے لئے ترقی‘ خوشحالی‘ روزگار اور کاروبار کے کئی مواقع پیدا کرے گا۔ ایک بات جو میں ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ چین سے تعاون حاصل کرنے اور ملک میں ترقی و خوشحالی کی نئی راہیں کھولنے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مدبرانہ قیادت کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ میاں محمد نواز شریف نے اپنی ٹیم کے ہمراہ زیرک اور مدبرانہ فیصلے کرکے چینی رہنماؤں کے دل جیت لئے۔ ایک اور اہم بات جس کا کریڈٹ میاں محمد نوازشریف کو دینا چاہئے کہ انہوں نے بلاتفریق تمام جماعتوں اور رہنماؤں کو اس خوشی میں شریک کیا۔ کسی لیڈر کی یہ خاصیت اور خوبی اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہے کہ وہ ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر سوچے۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے تمام سیاسی و پارلیمانی رہنماؤں نے اس موقع پر جس اتحاد اور یگانگت کا مظاہرہ کیا ہے وہ بھی قابل ستائش ہے۔ اپنے دورے کے آخر میں چینی صدر نے کھل کر اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان کو ایشیاء کا ٹائیگر دیکھنا چاہتے ہیں اور اس حوالے سے ہر ممکن تعاون کا بھی یقین دلایا۔ اس موقع پر ہمیں بھی اس عزم کا اعادہ کرنا چاہئے کہ ہم اپنی شیر دِل قیادت کے وژن کے عین مطابق پاکستان کو ایشئن ٹائیگر بنائیں گے۔ ان شاء اللہ۔

مزید :

کالم -