ریلوے کا لونیوں کا سیوریج نظام ناکارہ، پانی کھڑا رہنیسے پرانی عمارتین گرنے کا خطرہ

ریلوے کا لونیوں کا سیوریج نظام ناکارہ، پانی کھڑا رہنیسے پرانی عمارتین گرنے ...

 لاہور(محمد نواز سنگرا)محکمہ ریلوے ،لاہور ڈویژن میں مون سون شروع ہوتے ہی گلیاں اور سڑکیں جوہڑوں کا منظر پیش کرنے لگیں،نکاسی کا نظام بری طرح تباہ ہو گیا،گندگی اور بد بو رہائشیوں کا جینا محال ہو گیا۔جگہ جگہ پانی کھڑاہے اور پرانی عمارتوں کی دیواریں بھی ٹیڑھی ہو گئی ہے جو مزید پانی کھڑا رہنے کی وجہ سے گر سکتی ہیں اور لوگوں کی اموات کا باعث بن سکتی ہیں ۔گزشتہ کئی سالوں سے ریلوے میں درجہ چہارم کے ملازمین کی رہائشی آبادیوں پر توجہ نہیں دی گئی۔رہائشیوں نے وزیر ریلوے اور چیف ایگزیکٹو آفیسراورڈی ایس سے رہائشی کالونیوں کی تعمیر و مرمت اور سیوریج کی بہتری کیلئے اپیل کی ہے۔تفصیلات کے مطابق محکمہ ریلو لاہور ڈویژن میں سیوریج کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے اور گلیاں اور بازار جوہڑوں کا منظر پیش کر رہی ہیں جگہ جگہ بارش کا پانی کھڑا ہے بازاروں میں گھاس اگی ہوئی ہے اور رہائشیوں کا گھرا سے نکلنا محال ہو گیا ہے۔جس وجہ سے مچھروں کی بہتا ت اور ڈینگی سمیت دیگر بیماریوں کے پھیلنے کا بھی خدشہ لاحق ہے۔ریلوے کالونیوں کے رہائشی خانہ بدوشوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔دوسری طرف متعدد مکانات کی دیواریں بھی ٹیڑھی ہو چکی ہیں اور قدیم عمارتیں اپنی اصلیت کھو بیٹھی ہیں اس کے باوجود محکمہ ریلوے پرانی عمارتوں کی تعمیر و مرمت کیلئے اقدامات نہیں اٹھا سکتا اور شدید بارشوں کی وجہ سے متعدد مکانات اور دیواروں کے گرنے کا خدشہ لاحق ہو گیا ہے ۔جگہ جگہ جوہڑ بننے کی وجہ سے کالونیوں میں بد بو پھیل رہی ۔ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ آفس کے آس پاس تمام مکانات خستہ حالی کا شکار ہیں اور رہائشی ذلیل و خوار ہو رہے ہیں ۔اس حوالے سے جب ریلوے حکام سے بات کی گئی تو بتایا گیا کہ اورنج لائن ٹرین کی وجہ سے سیوریج کا نظام تباہ ہو گیا اور پانی کانکلنا مشکل ہو گیا ہے جس وجہ سے پانی کھڑا رہتا ہے،کوشش کر رہے ہیں کہ جلد سے جلد سیوریج کے سسٹم کو بہتر بنایا جائے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1