امریکہ میں سیر پر گئی جنوبی کوریا کی 3 خواتین پراسرار طور پر لاپتہ

واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ میں جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والی ایک ہی خاندان کی تین خواتین گرینڈ کینین سے لاس ویگاس کے سفر کے دوران پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئیں۔ لاپتہ ہونے والوں میں 33 سالہ جئیون لی، ان کی والدہ 59 سالہ تائے ہی کم اور 54 سالہ خالہ جنگ ہی کم شامل ہیں۔ انہیں آخری بار اس ماہ کے آغاز میں گرینڈ کینین سے لاس ویگاس جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا،
نیویارک پوسٹ کے مطابق کوکونینو کاؤنٹی شیرف کا کہنا ہے کہ ان کی کرائے پر لی گئی سفید بی ایم ڈبلیو کی جی پی ایس معلومات سے معلوم ہوا کہ وہ آخری بار انٹرسٹیٹ 40 پر ولیمز، ایریزونا میں موجود تھیں، جو کہ فلیگ سٹاف کے مغرب میں تقریباً 35 منٹ کی مسافت پر ہے۔ ان کی گمشدگی کی اطلاع مقامی حکام کو دی گئی ہے اور تلاش کا کام جاری ہے۔
کوکونینو کاؤنٹی شیرف کے دفتر نے 21 مارچ کو ساؤتھ کورین خاندان کی گمشدگی سے متعلق الرٹ جاری کیا اور فیس بک پر ایک پوسٹر شیئر کیا۔ اس پوسٹر میں تینوں خواتین کی تصاویر اور دیگر تفصیلات شامل ہیں، اور عوام سے درخواست کی گئی ہے کہ اگر کسی کے پاس کوئی معلومات ہوں تو وہ تفتیش میں مدد فراہم کریں۔
اسی روز ہائی وے پر شدید برفباری کے باعث 22 گاڑیوں کو خوفناک حادثہ پیش آیا جس میں دو افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاید یہ حادثہ تینوں کورین خواتین کی گمشدگی سے جڑا ہوا ہو۔
ایک مقامی پولیس افسر کے مطابق "حادثہ اسی وقت پیش آیا جب لاپتہ خواتین کے موبائل فونز کے سگنلز آخری بار پکڑے گئے، اس لیے امکان ہے کہ ان کی گمشدگی کا اس حادثے سے تعلق ہو۔"
اگرچہ پولیس نے اس واقعے کو ابھی تک باضابطہ طور پر لاپتہ خواتین کے کیس سے نہیں جوڑا لیکن کوکونینو شیرف کے ترجمان جون پیکسٹن نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ یہ ایک پہلو ہے جس کی تفتیش جاری ہے۔
لاپتہ خواتین 17 مارچ کو ساؤتھ کوریا واپس جانے والی تھیں مگر جب ان سے رابطہ نہ ہو سکا تو ان کے اہل خانہ نے ساؤتھ کوریا کی وزارت خارجہ سے مدد طلب کی۔ لاس اینجلس میں جمہوریہ کوریا کے قونصل خانے کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ "ہم نے تمام متعلقہ معلومات مقامی حکام کو فراہم کر دی ہیں اور اپنے عملے کو علاقے میں بھیجا ہے تاکہ گمشدہ خاندان کی جلد تلاش ممکن ہو سکے۔"