بھارت کی دھمکیاں اور پاک فوج۔۔۔

بھارت کی دھمکیاں اور پاک فوج۔۔۔
بھارت کی دھمکیاں اور پاک فوج۔۔۔

  


افغانستان میں جنگ نام نہاد نائن الیول حملوں کے بعد مسلط کردی گئی، امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانستان پر چڑھائی کی تو افغان شہری بھی نقل مکانی پرمجبور ہوگئے او رلاکھوں کی تعداد میں افغانیوں نے پاکستان کو اپنا مسکن بنایا اور کسی نہ کسی حد تک مغربی بارڈر سے پاکستان میں دہشتگردی کے عنصر کا انتقال ہوا۔ اب 18 سال بعد اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانستان پر دھاوا بولنے والا امریکہ مذاکرات پر مجبور ہے لیکن پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے دشمن کے ناپاک عزائم کا نہ صرف جواں مردی سے مقابلہ کیا بلکہ پاک سر زمین کے خلاف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو بھی نیست و نابود کردیا اور بیک وقت یہ جنگ ملک کے اندر اور سرحدوں پر بھی لڑی۔ ملک کے اندر دہشتگردی کا تقریباً خاتمہ کردیا اور دشمن ممالک کی ایجنسیوں کے نیٹ ورک بے نقاب کرکے کلبھوشن یادیو جیسے بھیانک چہرے دنیا کے سامنے بے نقاب کیے لیکن افسوس کہ بزدل دشمن محض اپنے ملک میں الیکشن جیتنے اور دنیا کی توجہ کلبھوشن سے ہٹانے کے لیے بے بنیاد الزامات اور دھمکیوں پر اتر آیا۔

مقبوضہ کشمیر میں خود کش حملے اور فوجیوں کی ہلاکت کے بعد کشمیریوں پر ڈھائے گئے مظالم سے آنکھ چرا کر پاکستان پر بے بنیاد الزام دھردیا۔ پاکستان نے اپنے تئیں تحقیقات  کرنے کے بعد  اور سعودی ولی عہد کے دورے کی تکمیل پر جواب دیا اور واضح کیا کہ حملے کے لیے نہیں بلکہ اپنے دفاع کے لیے تیار ہیں، بھرپور اور حیران کن جوان ملے گا، بے بنیاد الزام لگائے گئے۔ اس کے بعد بھارتی میڈیا اور حکام کے بیانات میں نرمی آئی، آتی بھی کیوں نہیں؟ ان کا سامنا ایک ایسی فوج سے ہونا تھا جو بغیر پانی دال کو نہیں ترستی بلکہ پوری قوم کے دلوں میں بستی ہے۔ یہی وہ فوج ہے جس نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں سے دگنا تعداد میں شہادت کو اپنے ماتھے کا جھومر بنایا  اور اپنے خون سے اس دھرتی کو سینچ کر دشمن کے ناپاک عزائم کے آگے دیوار بن کر کھڑے ہوئے ۔ قوم نے بھی دہشتگردی کے خلاف جنگ کی بھاری قیمت چکائی اور 18 سالوں میں 60,000 سے زائد جانیں قربان کیں لیکن بالآخر کامیابی سبز ہلالی پرچم کے سائے تلے اکٹھی قوم اور سینے پر پرچم سجائے مسلح افواج اور جوانوں کی ہوئی جس کا ثبوت وہ اعدادوشمار ہیں جو سامنے آئے۔ دستیاب معلومات کے 2014ءمیں 5496، 2015ءمیں 3682، 2016ءمیں 1830 اور 2117ءمیں 924 پاکستانی دہشتگردی کا شکار ہوئے یعنی بدستور دہشتگردی میں کمی آئی اور اب تقریباً اب ختم ہوچکی ہے۔

صرف یہی نہیں بلکہ اکنامک سروے 2017-18ءکے مطابق دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 17سال کے دوران پاکستان کا 127 بلین ڈالر کا نقصان ہوا اور لاکھوں افغانیوں کو بھی پناہ دی لیکن بھارت کے حکمران اور فوجی افسران شاید یہ بھول رہے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ ماضی میں بھی لڑچکے ہیں اور دونوں ممالک کے جنگ کے بعد کے معاشی اعشاریوں کا جائزہ لیں تو بھارت کی معیشت ہمیشہ گڑھے میں ہی گری ہے اور بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی معیشت کافی حد تک بہتر رہی بلکہ 71ءکی جنگ کے بعد بھارتی معیشت منفی میں چلی گئی تھی۔ اب پاکستان کے ساتھ پنگا لیا تو شاید بھارت کے لیے سنبھلنا مشکل ہوجائے کیونکہ پاکستان کے ہر فوجی جوان میں شہادت کی خواہش بدرجہ اتم موجود ہے لیکن بھارت کے غیر مسلم فوجی اپنی جان بچانے کے لیے بھاگتے پھرتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق 2016ءمیں پاک بھارت تعلقات کشیدہ ہوئے تو 40 ہزار بھارتی فوجیوں نے مختلف بہانے بنا کر چھٹی کی درخواستیں جمع کرادی تھیں۔ سفارتی ذرائع کے بقول اس وقت بھی دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں اور پاک فوج بھی بھرپور جواب دینے کے لیے الرٹ ہے۔ ذرائع کے  مطابق مودی سرکار کو ایجنسیاں رپورٹ کرچکی ہیں کہ کوئی بڑا کام ڈالے بغیر الیکشن میں جیتنا ناممکن ہے جس پر یہ سارا ڈرامہ رچایا گیا لیکن یہ ڈرامہ الٹ پڑگیا اور سفارتی سطح پر بھی بھارت کو کوئی خاص کامیابی نہیں مل سکی۔ بھارتی موقف عالمی سطح پر مسترد ہونے کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ سعودی ولی عہد نے بھی ”پاک بھارت مذاکرات“ کو مشترکہ اعلامیہ کا حصہ بنوادیا جس کی پاکستان کی طرف سے پہلے ہی پیشکش کی جاچکی ہے لیکن بھارت نے مثبت جواب نہیں دیا تھا تاہم مارچ کا مہینہ دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے اہم قرار دیا جارہا ہے۔ واللہ عالم بالغیب

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...