ضیاءبتول کا ”ترا عشق معجزہ ہے“

ضیاءبتول کا ”ترا عشق معجزہ ہے“
ضیاءبتول کا ”ترا عشق معجزہ ہے“

  



مجھے اس اعتراف مَیں ذرا بھی باک نہیں کہ میں شاعر نہیں ہوں، البتہ انسانی جذبوں کو سمجھنے اور پرکھنے میں دلچسپی رکھتا ہوں ۔ اسی تناظر میںہائر ایجوکیشن کمیشن کی فروغ معیار کی ڈائریکٹر جنرل محترمہ ضیاءبتول کے دوسرے شعری مجموعے ”ترا عشق معجزہ ہے “پر برجستہ نگاہ ڈالی ہے۔ قاری یا نقاد چاہے رومانوی ہو، جمالیاتی ہو یا نفسیاتی شعری مجموعے کے نام پر ہی چونک جاتا ہے ۔ مَیں نے ”متوجہ“ کی جگہ لفظ چونکنا دانستہ طور پر برتا ہے ، سبب یہ ہے کہ شعری مجموعے کا نام اپنے اندر ایک جہان معانی لئے ہوئے ہے جسے کھنگالنے کے لئے تمام مروجہ تنقیدی اصولوں اور پیرایوں سے ہٹ کر سوچنا پڑتا ہے ۔

عشق فہم و ادراک، رضا و رغبت، ارادہ و خواہش سے بالاتر قلبی واردات ہے جہاں انسانی ادراک تو معجزہ ہوتا ہی ہے۔ وہاں اس کا احاطہ براہین قاہرہ اور دلائل باہرہ سے بھی ممکن نہیں ہوتا ۔ عنوان کا انتخاب شاعرہ کی قلبی اور داخلی کیفیات کا عکاس نظر آتا ہے ۔ اسلوب نگارش تخلیق کار کے داخلی رجحان اور کردار کا غماز ہوتا ہے۔ پورا کلام پڑھ لیجئے شاعرہ اپنی داخلی کیفیات اور نفسیاتی حصار سے باہر نہیں نکل سکیں اور یہی عنصران کی شعری صداقت کی دلیل ہے ۔ ضیا بتول کی جملہ شعری توانائیاں اور خیال آفرینیاں اپنے عنوان پر مرکوز ہیں۔ عنوان سے انصاف ہی شعری صداقت ہے، جسے ضیا بتول قرینے سے نبھانے میں کامیاب رہی ہیں ۔

شاعری موصوفہ کے لئے حدیث دیگراں نہیں، بلکہ حدیث دل ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ انہیں حدیث دل کہنے کا ہنر بخوبی میسر ہے کہ ان کے دل کی باتیں سن کر اور پڑھ کر لوگ اپنے دل کو ٹٹولنے لگیں۔ ذاتی احساس کو اجتماعیت کی کیفیت میں ڈھال دینا شاعری کا اصل وظیفہ ہے ۔ ”ترا عشق معجزہ ہے“ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ شاعرہ نے اس وظیفے کو اپنا شعار بنا لیا ہے ، یہ ایسی خوبی ہے، جو ہمارے عہد میں اگر نایاب نہیں تو کم یاب ضرور ہے ۔ ضیاءبتول نے اپنے اس مجموعہ کلام میں ذات و کائنات کے مسائل عشق کے معاملات کی صورت پیش کئے ہیں ۔ دیکھئے پہلی غزل میں ہی انہوں نے ’عشق سے‘ ردیف باندھی ہے ۔ شعر دیکھئے:

کہکشاﺅں میں سجا اک نقشِ پا ہے عشق سے

پانیوں میں راستا بنتا عصا ہے عشق سے

آنکھ نے لوح و قلم پڑھ کر بھی کیا سیکھا، مگر

دل نے اک نکتہ پڑھا، محکم ہوا ہے عشق سے

یہ اسلوب ان کے قلبی رجحان سے والہانہ وابستگی کی دلیل ہے ۔ ہر دوسری غزل یا نظم میں اس کا عکس دکھائی دیتا ہے ۔ وہ خیال کو احساس اور احساس کو خیال بنانے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ عشق ان کے لئے نعرہ نہیں، بلکہ لہو میں شامل حقیقت ہے ۔ افتخار عارف کے الفاظ میں یوں کہہ لیجئے کہ عشق بتول کی شاعری کا اسم اعظم ہے :

مرے خواب جاوداں میں ترا عشق معجزہ ہے

مرے قریہ¿ گماں میں ترا عشق معجزہ ہے

تری یک نظر کا منظر، مرے سب جہاں گویا

مرے ہفت آسماں میں ترا عشق معجزہ ہے

ضیا بتول کی شاعری احساس کے داخلی و خارجی دونوں تجربوں کے درمیان سے گزرتی ہے، چنانچہ ان کے شعروں سے ان کی فکری جہتوں اور محسوساتی زاویوں پر نگاہ پڑتی ہے ۔ ذات کے بیگانے پن میں اپنی صفائی کا احساس ، کسی کی قید ِ بے مفر سے رہائی کی جستجواور خود سے دور نکل جانے کی حسرت کے پردے میں زندگی کے بہت سے موڑ ان کے سامنے آتے ہیں اور فلسفہ حیات سے ان کی باخبری کا پتہ دیتے ہیں :

زندگی بھر چلے ہم تری سمت اور تو ہماری طرف

اک دوجے سے لیکن کبھی نہ ملے ایک تو ایک مَیں

وقت کرتا رہا گرچہ بخیہ گری اپنے زخموں کی پر

چاک جب ہو گئے پھر کبھی نہ سلے ایک تو، ایک مَیں

کبھی کبھی تو یہ گمان بھی ہوتا ہے کہ عشق کی روحانی معراج کچھوے کی وہ سخت کھال ہے، جس کے اندر ضیاءبتول نے پناہ لی ہے ۔ یہ اس سماج کا عجیب المیہ ہے ، جب کسی کو محبت ہو جاتی ہے تو وہ عمر بھر محبت سے لطف اندوز ہونے کی بجائے اسے چھپانے اور بچانے میں ساری زندگی صرف کر دیتا ہے :

تمہیں بتاتے تو کیا بتاتے کہ دل تمہارا ہوا ہے جاناں

سو خود سے بھی ہم رہے چھپاتے کہ دل تمہارا ہوا ہے جاناں

محترمہ ضیاءبتول جب جورو جفا اور عصری چیرہ دستیوں کا ذکر کرتی ہیں وہاں بھی ان کے ہاں شکایت اور کم ہمتی کا لہجہ نہیں ہے بلکہ حلم و برداشت کی تلقین ہے شعر دیکھئے :

ان کو جفا روا رہی، ہم نے بھی ہونٹ سی لئے

آنکھیں جو خون ہو گئیں پھر سامنا نہیں کیا

جفا کو روا لکھنا اعلیٰ ظرفی اور ظفر مندی کی دلیل ہے۔ نہ شکایت نہ گلہ، بلکہ خون آشام آنکھیں موند کر راستے سے ہٹ جانابردباری کی ایک ارفع مثال ہے۔ ضیاءبتول کو معاشرے کی بے راہ روی ، الم و درد اور ابتلا کا احساس ضرور ہے، تاہم اظہار ملائمت بھرے لہجے میں ہے ۔ہماری ممدوح کو شاعری میں یکتائی کا دعویٰ بھی نہیں،بلکہ شاعرانہ مزاج سے بھی انکار ہے ۔ تاہم درد کی دولت ان کے اشعار میں نمایاں ہے ، شعر ملاحظہ فرمائیے :

نہ خیال ہے غزل کا ، نہ مزاج شاعرانہ

میرے درد نے کیا ہے میرے شعر کو یگانہ

محترمہ ضیاءبتول کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ وہ نرگسیت سے بچ کر نکل رہی ہیں، ورنہ معانی و بیان اور درد کی صورت گری کا اس سے بہتر اظہار کیا ہو سکتا ہے ۔ کوثر علیمی کے بقول”ضیاءبتول کو اگر درد کی شاعرہ کہا جائے تو کچھ ایسا بے جا بھی نہیں ہوگا، اس معاملے میں یہ میر کی مقلد لگتی ہے، اس کی شاعری ”واہ“ سے زیادہ”آہ“ کی کیفیت سموئے ہوئے ہیں“ ۔

محترمہ ضیاءبتول کے ہاں جگہ جگہ برق پارے محسوساتی سطح پر دکھائی دیتے ہیں ،ان کی حسیت نئے نئے پیکر اور ملائم کی تلاش میں ہے اور ان کی انفرادیت اپنا لہجہ کھوج رہی ہے :

ترے ہجر کا تسلسل میرے زخم بھر چلا تھا

تو یہ مژدہ باز آمد مجھے کیوں سنا دیا

ایک اور شعر سنئے

سمندر کب میسر تھا کہ جو پایاب نہ ہوتا

وگرنہ یہ تو ممکن تھا کہ ہم تہہ میں اتر جاتے

یہ اشعار ان کی گہری سوچ اور شدید حسیت کا اظہار ہیں۔ الغرض ضیاءبتول کے لہجے کی تازگی، ہمہ جہتی، شخصیت کی سا لمیت، احساس کی شدت اور افکار کی صحت و وسعت کی آئینہ دار ہیں۔ ان کی شاعری اپنائیت کی چاشنی اور محبت کی فرحت کا احساس دلاتی ہے۔ وصل کی آرزو اور ہجر کی اذیت کے باوجود ان کے ہاں گھٹن اور اجنبیت کی زہر ناکی دور دور تک نظر نہیں آتی، جو ایک خوش آئند اور لائق تحسین بات ہے ۔ ضیاءبتول الفاظ کو ان کے تہذیبی پس منظر میں برتنے کے فن سے بھی بخوبی واقف ہیں، جس سے ان کی شاعری کی قدر و قیمت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے ۔ غزلوں کے ساتھ ساتھ ان کے کلام میں ان کی نظمیں اور پنجابی کلام بھی ان کے فکر و فن کی جہت کی نشاندہی کر رہا ہے ۔

”ترا عشق معجزہ ہے‘ ‘ ضیاءبتول کے اس مجموعہ کلام سے مترشح ہے کہ ممکن ہے محبت ان کی زندگی کا سب سے بڑا حادثہ نہ ہو، تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محبت ان کی زندگی کا ایک ناقابل فراموش سانحہ ضرور ہے ۔ موصوفہ کے ہاں جنوں کی منزل ابھی خام ہے اور عشق بھی ناتمام، کہتی ہیں

جنوں کی کہیں کوئی منزل نہیں ہے

کہ شاید ابھی عشق کامل نہیں ہے

ان کی سادگی نے ان کے کلام کو خاطر فروز اور دلنشیں بنا دیا ہے ۔ ان کی تخلیقی صلاحیتیں ابھی جوان ہیں اور ان میں ترقی کے امکانات واضح نظر آتے ہیں۔ ضیاءبتول نے اپنے شعری سفر میں بادباں صحیح سمت میں کھولے ہیں، اگر پتوار پر گرفت کمزور نہ ہوئی تو یہ کشتی شرمندہ ساحل فردا ہو گی.... ”تیرا عشق معجزہ ہے“ اُردو ادب میں حیات پرور، وجد آفریں جمیل اور قابل قدر اضافہ ہے، جب جنوں پختگی کی حدوں کو چھونے لگے گا اور عشق بھی دو آتشہ ہو جائے گا تو مجھے یقین کامل ہے کہ شعر و سخن کا یہ ستارہ شاعری کے افلاک پر پوری آب و تاب سے چمکے گا .... ٭

مزید : کالم