11 مئی کے عام انتخابات کی اہمیت!

11 مئی کے عام انتخابات کی اہمیت!
11 مئی کے عام انتخابات کی اہمیت!

  

بڑی خوشی کی بات ہے کہ منتخب حکومت نے اپنے 5 سال پورے کر لئے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ حکومت کس حد تک کرپشن اور بدعنوانی کو ختم کر سکی ہے۔ لوگوں کے مسائل جُوں کے تُوں پڑے ہوئے ہیں۔ کرپشن کو ختم کرنا تو ایک طرف اس میں ہر لحاظ سے ہر میدان میں اضافہ ہوا ہے۔ آج شرطیہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی جائز کام رشوت یا سفارش کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ رشوت اور بدعنوانی سے ہر جائز، ناجائز کام کا جلد از جلد کیا جانا ممکن ہے۔ پاکستان کے اَن گنت شہری دفتروں کے چکر لگاتے لگاتے اپنے جائز کاموں کو چھوڑ کر اپنے گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں۔ اس طرح لوگوں کے دل و دماغ میں حکمرانوں اور سرکاری افسروں کے خلاف جذبات پیدا ہو جاتے ہیں۔ ہماری عدلیہ میں بھی اس قدر مقدمات کا رش موجود رہتا ہے کہ وہاں بھی لوگوں کو فوری انصاف میسر نہیں ہوتا ۔ ماتحت عدلیہ میں اس وقت بھی لاکھوں کی تعداد میں قسم قسم کے مقدمات فیصلہ طلب پڑے ہیں۔ ایک بات بہت مشہور ہے کہ اگر کسی شہری کے ساتھ بروقت انصاف ممکن نہ ہو اور اگر آخر میں وہ انصاف حاصل بھی کر لے تو ایسے انصاف کی اہمیت اور فوقیت ختم ہو کر رہ ہی جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ لوگ ہمارے نظامِ عدل سے ہی مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔

میری سوچی سمجھی رائے کے مطابق جب تک جج صاحبان کی تعداد کو دوگنا نہیں کر دیا جاتا اس وقت تک مقدمات کے فیصلوں کو جلد از جلد کئے جانے کا خیال ناپختہ ثابت ہو گا۔ یہ بات بھی آپ سامنے رکھ لیں کہ پاکستان میں عدلیہ ہی ایسا ادارہ ہے، جہاں وقت کی پابندی کا ہر صورت میں خیال رکھا جاتا ہے۔ ہائی کورٹ میں جج صاحبان ٹھیک 8 بجے کام کا آغاز کرتے ہیں، اس طرح وہ لگاتار فریقین کو سننے کے بعد انصاف کرتے چلے جاتے ہیں۔ ان کے ہاں فریقین کو سنے بغیر کسی بھی مقدمے کا فیصلہ ممکن نہیں ہوتا۔ بعض اوقات وکلاءمختلف عدالتوں میں مصروف ہوتے ہیں۔ عدالت کو وکلاءکا انتظار کرنا ہوتا ہے۔ ایسے شاید ہی ہوگا کہ کسی مقدمے کو فریقین کی عدم حاضری پر خارج کر دیا جائے، اگر ایسے ہو بھی جائے تو جج صاحبان وکلاءکی حاضری پر ان مقدمات کو بحال کر دیتے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ آج ہماری عدلیہ بیدار ہے اور وہ روز بروز انصاف جیسی نعمت کو بکھیرتی چلی جاتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران انگریزوں کو ہر محاذ پر شکست کا سامنا تھا۔ جرمن افواج تیزی سے ہر طرف پیش قدمی کر رہی تھیں۔ خوف و ہراس پھیل چکا تھا۔ انگریزوں کا اُس وقت کا بوڑھا حکمران چرچل تھا۔ اس بدحواسی کے عالم میں کسی اخبار نویس نے چرچل سے یہ سوال پوچھ ڈالا کہ ہماری افواج کو دشمن کے ہاتھوں ہر محاذ پر پے در پے شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہمارا ملک تباہی و بربادی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ کیا ایسے حالات میں ہمارے بچاو¿ کا کوئی رستہ موجود ہے؟ جواب میں چرچل نے اخبار نویس سے سوال پوچھا کہ کیا اس وقت ہماری عدالتیں کھلی ہیں اور کیا لوگوں کو واقعی انصاف مل رہا ہے؟.... اخبار نویس نے جواب میں کہا کہ عدالتیں پورے ملک میں دشمن کی تباہ کاریوں کے باوجود کھلی ہیں اور لوگوں کو بلا رکاوٹ انصاف مل رہا ہے۔ چرچل نے سینہ تان کر جواب دیا کہ پھر ہمیں دنیا کی کوئی بھی طاقت شکست سے دوچار نہیں کر سکے گی۔ دنیا نے پھر یہ نظارہ بھی دیکھا کہ انگریزوں کو فتح حاصل ہوئی اور جرمنی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

 انصاف میں بڑی طاقت موجود ہوتی ہے۔ وہ معاشرے جہاں انصاف کے سرچشمے دن رات پھوٹتے چلے جاتے ہیں۔ ایسے معاشروں کو دنیا کی کوئی بھی طاقت کبھی تباہ و برباد نہیں کرسکے گی۔ مجھے تو پورا یقین ہے کہ ہماری عدلیہ آزاد ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ ہر وقت بیدار بھی ہے۔ مجھے بڑے فخر سے یہ بات کہنی پڑتی ہے کہ اگر عدلیہ کی طرح پاکستان کے دوسرے ادارے بھی کام کریں تو پھر واقعی ہمارا پاکستان دنیا کے کسی اور ترقی یافتہ ملک سے ہرگز کم نہ ہوگا۔

بات 11 مئی کو ہونے والے انتخابات سے شروع ہو کر بہت دور چلی گئی۔ ہمارے لئے وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہمارے انتخابات انتہائی پُر امن ماحول میں بَروقت مکمل ہو جائیں۔ بدقسمتی سے بعض عناصر انتخابات کے روز اور اس سے پہلے ہر قسم کی بدامنی پھیلانے کا مکروہ پروگرام بنائے بیٹھے ہیں۔ ہمارے چیف الیکشن کمشنر مسٹر جسٹس فخر الدین جی ابراہیم بڑھاپے کے باوجود انتہائی ہمت اور جرا¿ت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ پوری پاکستانی قوم ان کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے، تقریباً 9 کروڑ کے لگ بھگ لوگ رائے دہندگی کے حق دار بن چکے ہیں۔ اس کے باوجود اَن گنت لوگ اب بھی باوجود اہلیت کے رائے دہندگان کی فہرست میں شامل نہیں ہو سکے۔ مثال کے طور پر مَیں اور میرے اراکین کنبہ لگاتار ووٹ کا استعمال کرتے چلے آئے ہیں۔ پہلی بار مجھے یہ معلوم کر کے دُکھ ہوا ہے کہ میرا اور میرے خاندان کے کسی بھی اہل رُکن کا نام فہرست میں شامل نہیں ہے۔ مجھے اس بات کا علم نہیں ہے کہ ہمارے ووٹ فہرست سے کیسے اور کب خارج ہوئے ہیں؟

خیال یہی تھا کہ ہمارے ووٹ بنے ہوئے ہیں۔ مَیں نے اپنے ایک کارندے کو اپنے ووٹ اور ”پولنگ سٹیشن“ کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے مقامی دفتر بھیجا، اس طرح مجھے پتہ چلا کہ ہمارے نام فہرست میں موجود نہیں ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ مجھے اپنے ہی بڑے بھائی کی موجودگی میں ووٹ کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ میری طرح کے اَن گنت لوگ اس بار اپنا قیمتی ووٹ نہیں ڈال سکیں گے۔ اگر جسٹس فخر الدین جی ابراہیم کے پاس واقعی اختیارات ہیں تو وہ رائے دہندگان کی فہرست میں میرے اور میرے جیسے کئی اور لوگوں کو فہرست رائے دہندگان میں فوراً شامل کرائیں، ورنہ میری حد تک تو 11 مئی کے ہونے والے انتخابات کی کوئی بھی آئینی اور قانونی قدر و قیمت نہیں ہوگی۔ اگر آنے والے انتخابات واقعی درست سمت اور پُرامن ماحول میں ہوئے تو پاکستان کا وقار اور مقام جمہوری معاشروں میں اونچا ہوگا، اگر اس قومی اور ملکی فہم میں ہمارے فاضل چیف الیکشن کمشنر کامیاب ہوتے ہیں تو 27 کروڑ کی پاکستانی قوم کے دل و دماغ میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ انتخابات میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں پر کڑی نظر رکھی جائے۔ اس بات کے خدشات ہمیشہ کی طرح موجود رہیں گے کہ عام لوگوں کی خرید و فروخت کا کام وسیع پیمانے پر ہوگا۔

ناجائز ذرائع سے حاصل کی ہوئی دولت کو کھلے عام خرچ کیا جائے گا۔ اس طرح اُن کے ضمیر کو مہنگا یا سستا خریدا جائے گا۔ کئی کئی ہاتھوں پر ہمارے اَن پڑھ لوگ خریدے اور فروخت کئے جائیں گے۔ بعض اوقات تو گاو¿ں کے گاو¿ں فروخت ہوجاتے ہیں۔ وڈیرے دھونس دھاندلی اور دھمکیوں سے بھی خوب کام لیتے ہیں۔ برادری، قبیلے، مذہب اور رشتہ داریوں سے کھل کر کام لیا جاتا ہے۔ لوگوں سے جُھوٹے اور دھوکے فریب پر مبنی وعدے کئے جاتے ہیں۔ وسیع پیمانے پر وقتی طور پر راضی نامے ہوتے ہیں۔ پرانی دشمنیوں کو ختم کئے جانے کا اعلان بھی ہوتا ہے۔ یہ سب کے سب اعلانات بدنیتی پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہ بھی عام ہوتا ہے کہ وعدہ ایک سے ہوتا ہے اور ووٹ دوسرے کو رشوت کے بل بوتے پر ڈالا جاتا ہے.... مَیں آپ کو اپنی زندگی کا ایک ناقابل فراموش واقعہ سناتا ہوں۔ وکلاءکے انتخابات ہو رہے تھے۔ مَیں خود امیدوار کی حیثیت سے جگہ جگہ آجا رہا تھا۔ میرے ایک نہایت قریبی دوست وکیل تھے۔ مَیں نے اُن کی انتخابی مہم میں ان کا پورا پورا ساتھ دیا تھا۔ جب میری انتخابات میں حصہ لینے کی باری آئی تو وہ دوست وکیل میرے ساتھ خوشی سے با ہر دورے پر چل نکلے۔ واپسی پر دیکھتے ہی دیکھتے وہ راستے میں کسی نامعقول بہانہ کی بنیاد پر میری گاڑی سے اُتر کر لالچ کی خاطر دوسرے امیدوار کے ساتھ کام کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ یہ دیکھ کر میرے پاو¿ں کے نیچے سے زمین سرک گئی۔ ٭

مزید :

کالم -