حضرت اقدس پیر سید محمد مظہر قیوم مشہدیؒ

حضرت اقدس پیر سید محمد مظہر قیوم مشہدیؒ

  

                                            پیر سید محمد مظہر قیوم مشہدی برصغیرکی عظیم روحانی شخصیت حافظ الحدیث حضرت پیرسید محمد جلال الدین شاہ رحمہ اللہ تعالیٰ بانی مرکزی جامعہ محمدیہ نوریہ رضویہ بھکھی شریف (منڈی بہاو¿الدین)کے گھر میں 1950ئکوبھکھی شریف میں پیداہوئے۔آپکی ولادت سے پہلے ہی آپکی خوشبوپھیل چکی تھی۔آپ نے نہایت ستھرے، پرنور اورروحانی ماحول میںپرورش پائی، حضرت حافظ الحدیث رحمہ اللہ تعالیٰ کی آغوش علم وحکمت نے آپ کی نگہبانی کی اورآپ زندگانی کی سحرہی سے سعادت مندیوںکی منزل کی طرف رواںدواںہوئے۔

 آپ نے جا معہ محمدیہ نوریہ رضویہ بھکھی شریف میںماہراساتذہ کے پاس صرف ونحواورفارسی زبان وادب میںمہارت حاصل کی اس کے بعد تفسیروحدیث، فقہ، کلام، تصوف،اصول فقہ،اصو ل حدیث،میراث،معانی،منطق وفلسفہ کے علوم یگانہ روزگاراساتذہ سے پڑھے۔آپ نے فارغ التحصیل ہونے کے بعدجا معہ محمدیہ نوریہ رضویہ بھکھی شریف میں1974ئسے1985ئتک تدریس کے فرائض سرانجام دیئے۔

حضرت حافظ الحدیث رحمہ اللہ تعالیٰ کی تربیت کااثرتھاکہ حضرت ثانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے بیک وقت کئی محاذوںپرکام کیا۔جا معہ محمدیہ کے ناظمِ اعلی ہونے کے ساتھ دینی،ملی محاذوںپربھی بھرپورکردارکے ساتھ موجودرہے۔آپ نے تحریک ختم ِنبوت1974ئمیں رات دن طوفانی دورے کیے اورفتنہءمرزائیت کے خلاف موئثرکرداراداکیا۔ یہ حضرت حافظ الحدیث رحمہ اللہ تعالیٰ کاعطاکردہ جذبہ تھاکہ آپ کے ساتھ اس جہادمیںآپ کے برادران حضرت پیرسیدمحمدمحفوظ شاہ مشہدی، حضرت پیرسید محمدعرفان شاہ مشہدی،مریدین اورفضلاءجامعہ نے بڑھ چڑھ کے حصہ لیا۔آپ کی طبیعت میں تنظیمی ذوق کافی حدتک موجود تھا،آپ جمیعت علمائے پاکستان اورجماعت اہلسنت کے باقاعدہ رکن رہے اورمختلف عہدوں پربھی فائزرہے۔

آپ شریعت و طریقت کے باہمی ربط کے علمبردار، دین کے محافظ اور تصوف کی سچی روایات کے امین تھے،آپ فدائے ِمذہب ،محبِ مسلک اور نوائے ِمشرب تھے ۔آپ نفاست پسند ،سادہ مزاج ،صلح کوش ، ہمت شعار، معاملہ فہم ، روشن دماغ اور ایک ماہر منصوبہ ساز تھے۔ آپکے© ©©©©©©©©©©©©©©تکلف بر طرف انداز اور ٹھنڈی آواز نے نجانے کتنے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیاآپکے خیریت دریافت کرنیکے آہنگ نے کتنے لوگوں کو ہم آہنگ کرلیا۔

آپکے دیکھنے میں اپنائیت، بولنے میں متانت اور تبسم میں ایک طلسم تھا ،جس سے بڑے بڑے عقلمند آپ کے محبت مند بن گئے۔

1985ئمیں جب حضرت حافظ الحدیث رحمہ اللہ تعالیٰ کا وصال ہواتوآپ کودرگاہ مقدسہ بھکھی شریف کاسجادہ نشین مقررکیاگیا۔آپ نے بحیثیت سجادہ نشین گراں قدرخدمات سرانجام دیں۔آپ ایک متحرک مرشد اور ایک پراثرپیرطریقت تھے۔آپ نے بیماری کے باوجودشبانہ روزکوشش کی۔آپ نے متعددمدار س ا ورمراکزرشدوہدایت قائم کیے۔آپ نے ہزاروں مریدین کی اعتقادی اورعملی اصلاح کی۔آپ کی علم دوستی اورتصوف آشنائی نے دورس اثرات پیدا کیے۔

آپ نصاب ِ تعلیم ، طریق ِ تعلیم اور نظام ِ تعلیم پر گہری نظر رکھتے تھے اور وقتاً فوقتاًاپنی قیمتی آراءسے نوازتے رہتے تھے ، مدارس کے انتظامی مسائل اور تعلیمی معاملات کے حل کیلئے خصوصی دلچسپی لیتے تھے ، آپ کے مزاج میں اگر چہ تسامح اور درگزر کا وصف نمایاں تھا مگر معیار ِ تعلیم کیلئے محاسبہ کو بھی ضروری سمجھتے تھے اور کوتاہی برتنے والوں کی سرزنش فرماتے، آپ تعلیمی میدانوں میں طلباءکی حوصلہ افزائی فرماتے تھے ، اور انہیں زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے کی ترغیب دیتے تھے ، فارغ التحصیل علماءکرام کو علمی میدان میں اتارنے کیلئے انکی ذہن سازی کرتے تھے ، اور انتہائی غوروخوض سے انہیں موزوں اور مناسب جگہوں پر مامور فرماتے تھے ۔

آپ سماج پرگہری نظررکھتے تھے اورسماجی معاملات کے لیے بھی کافی وقت دیتے تھے۔اس مقصدکیلئے آپ نے جلالیہ ویلفیرآرگنائزیشن کی بنیادرکھی اورفری ایمبولینس سروس شروع کی آپ نے مریدین کی تربیت اورماحول کو تصوف وفقہ کی برکات سے بہرہ ورکرنے کے لیے ماہنامہ جلالیہ کا اجراءکیاجوہرماہ باقاعدگی سے نکل رہا ہے، آپ نے انجمن جلالیہ رضویہ کو منظم کیااوراس کے پلیٹ فارم سے حلقہ ہائے ذکر،ختم خواجگان شریف اور دیگر مذہبی پروگراموں کے انعقاد کا سلسلہ شروع کروایا۔ طریقت و شریعت کی یہ جامع شخصیت21اگست 2009ء کو عین نماز جمعہ کے وقت جہان فانی سے رخصت ہوگئی۔بڑے بڑے پیران طریقت، شیوخ، اکابرین اور قائدین نے آپ کو خراج تحسین پیش کیا۔آپ کے صاحبزادگان حضرت پیر سیّد محمد نوید الحسن شاہ مشہدی ،حضرت پیر سیّد مسعود الحسن شاہ مشہدی اورحضرت پیر سیّد شبیہ الحسن شاہ مشہدی آپ کے مشن کی تکمیل کے لیے کوشاں ہیں ۔آپ کو حضرت حافظ الحدیث رحمہ اللہ تعالیٰ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔21اگست کو آپ کا عرس منایاگیا۔    ٭

مزید :

کالم -