ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا بھارت

ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا بھارت
 ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا بھارت

  

پاک، بھارت تعلقات ہمیشہ مدوجزر کا شکار رہے۔کبھی تندو تیز بیانات، کبھی جنگیں اور کبھی مجبوریوں میں کئے گئے سمجھوتے۔ گلوبلائزیشن کے پھیلاؤ کے باوجود دونوں قومیں ابھی تک ماضی کے خدشات تلے پناہ لئے ہوئے ہیں۔

اعلانیہ مذاکرات ہوں یا بیک چینل ڈپلومیسی، عالمی کانفرنسیں ہوں یا علاقائی تنظیموں کے اجلاس، پاک،بھارت نمائندے جبینوں پر شک کی لکیریں سجائے مصافحہ کرتے رہے۔ روشن بھارت کے نعروں اور شدت پسندی سے پاک پاکستان کے خوشگوار تصور کو ایک طرف رکھیں تو تعلقات تباہ کن حد تک خراب نظر آرہے ہیں۔ بگاڑ کا یہ عمل کوئی انہونی چیز نہیں۔ دونوں قومیں تقسیم سے قبل بھی اس نسلی ، مذہبی بگاڑ کا شکار تھیں۔

اسی بگاڑ کی آڑ میں جھوٹ ، بددیانتی، مکر و فریب، حسد ، نفسانفسی اور اقربا پروری جیسی برصغیر کی میراث بھی چھپی ہوئی تھی۔ تقسیم کے فوری بعد، محض چند سالوں کے لئے، جذبات کی رو میں بہتی ان قوموں نے اپنے وراثتی مزاج پر قابو پانے اور قومی کردار کو سنوارنے کی کوشش کی۔

لیکن یہ کاوش اس وقت دم توڑ گئیں جب بلاکس ، نظریات میں بٹی دنیا ان نئی تشکیل شدہ ریاستوں کی طرف متوجہ ہوئی ۔ بھارت علم ، ٹیکنالوجی کی تلاش میں روس کی طرف نکل گیا۔ پاکستان عدم تحفظ اور مالی معاونت کی آس میں امریکہ کی گود میں جا بیٹھا۔

دونوں قومیں سفید فاموں سے مرعوب تھیں۔ قومی مفاد تودور کی بات، بڑے بڑے جغادری لیڈر سفید فاموں سے ہاتھ ملاتے وقت عجیب و غریب کیفیات کا شکار ہو جاتے تھے۔ ماضی کی البموں میں محفوظ تصویریں آج بھی ان تمام کیفیات کو مکمل جزئیات سمیت بیان کر رہی ہیں۔

آزادی حاصل کرنے یا علیحدہ ہونے کے بعد پاکستان ، بھارت کو خوشحالی کی سیدھی لکیر پر چلنا چاہئے تھا؟ لیکن شخصی کمزوریوں کی بدولت دونوں ممالک کی لیڈر شپ نے غیر ممالک کی دوستیوں کو برصغیر کے مزاج کے تناظر میں تولنا شروع کر دیا۔ بھارت روسیوں کی دوستی پر اتنا نازاں ہوا کہ روسی زبان، تہذیب اور فلموں کے پھیلاؤ کے لئے ہر بڑے شہرمیں ادارے قائم کر دیے۔

زبان سیکھنے کے لئے طالب علم دھڑا دھڑ روس کا رخ کرنے لگے۔ تہذیب کے پھیلاؤ کے لئے ثقافتی طائفوں کے تبادلے ہونے لگے۔ ہسپتال، سڑکیں اور پارک روسی شخصیات کے ناموں کی تختیوں سے سج گئے اور کلچر بذریعہ فلم کی خاطر سرکاری ٹی وی دوردرشن پر رات گئے ہفتہ وار روسی فلم کو ہندوستانی ناظرین کے لئے پیش کیا جانے لگا۔ روسی تعاون بھی محدود نہ رہا۔ روس نے علم و ہنر کے علاوہ اپنے قومی مفاد کی خاطر بھارت کو اسلحہ سازی کے میدان میں نئی ٹیکنالوجی سے متعارف کروانا شروع کر دیا۔

دوسری طرف پاکستان نے بھی مغرب دوستی کا بھرپور ڈھنڈورا پیٹا۔ پاکستان کی نظر میں دوستی کا معیار یہ ٹھہرا کہ وہ غلط کریں یا صحیح دوست کو ہر حال میں مدد کو پہنچنا چاہئے، جبکہ حقیقی دُنیا میں ایسا نہیں تھا۔ پاکستان کو اپنی ان توقعات کے عوض کئی دفعہ ہزیمت بھی اٹھانا پڑی۔

خاص طور پر فوجی آمروں نے مغربی حکمرانوں کی دوستی کو کچھ اس انداز سے بیان کیا جیسے گلی محلوں کے لنگوٹیوں کا ذکر کیا جائے۔ مشرف کی طرح ایک فوجی آمر یحییٰ خان تو اقتدار سے محروم ہونے کے بعد اپنے ’’دوست‘‘ امریکی صدر سے ملنے امریکہ جا پہنچے۔

یہ علیحدہ بات ہے جنرل یحییٰ وہاں کئی دن پڑے رہے اور بغیر ملاقات کے واپس لوٹنا پڑا۔ برصغیر کے ان دو اہم ممالک کی خوشحالی دوستوں اور اتحادیوں کی باہمی دشمنیوں کی نذر ہوئی۔ مغرب ،جہاں جوڑے کھانا کھانے کے بعد اپنا بل علیحدہ سے ادا کرتے ہیں، پاکستان اور بھارت کے اس بے پایاں تعاون پر بڑی برق رفتاری سے ان نئے معاشروں میں اپنی جڑیں پھیلاتا چلا گیا۔

یہی جڑیں بعد میں باقاعدہ سازشوں کی آماجگاہیں بن گئیں۔ اگر آج پاکستان امریکہ کی کالونی ہے تو بھارت بھی دو دہائیاں قبل روس کا ٹوڈی تھا۔ اگر آج پاکستانی قیادتیں امریکہ سے دبی ہوئی ہیں تو بھارت بھی روسیوں کے فیصلو ں پر سر تسلیم خم کرتا تھا۔

اگر آج پاکستان کے کروڑوں عوام امریکی غلامی کا شکوہ کرتے ہیں تو بھارت میں بھی قوم پرست روسی مداخلت پر آوازیں بلند کرتے تھے۔ خطے میں بسنے والی ڈیڑھ ارب کی آبادی معاشی بدحالی کے جن درجوں سے گزر رہی ہے، اس میں لیڈر شپ کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوتیں بھی پوری طرح شریک کار ہیں۔

انہی قوتوں نے کشمیر کو متنازعہ بنوانے میں کردار ادا کیا ۔ انہی طاقتوں نے تنازعہ سیاچن، سر کریک، پانی کے ذخائر اور کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرین کے پھیلاؤ پر آنکھیں موندیں رکھیں۔

موجودہ صدی میں بھی تعلقات بدستور تلخ نظر آرہے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے تنازعات کو مل بیٹھ کر حل کرنے کی پیشکش کو متعدد بار ٹھکرایا گیا۔ اُلٹا بھارتی قیادت، ذرائع ابلاغ اور خفیہ اداروں نے ملک میں جنگی جنون کو تقویت دی۔

اسی جنون کی وجہ سے بھارت بے پناہ نقصان اٹھا چکا ہے۔ وہ معیشت جسے چین کے ہم پلہ ہونا چاہئے تھا مطلوبہ نتائج فراہم کرنے میں ناکام نظرآ رہی ہے۔ سترہ برسوں میں 26ہزار کسان خودکشی کر چکے ہیں اورسب سے بڑی ناکامی یہ ہوئی کہ ایشیا کی طرف سرمائے کے بہاؤ میں قابل قدر حصہ وصول نہ کیا۔ بھارت کی اصل ترقی اسی وقت شروع ہوگی،جب پاکستان سے تعلقات میں اعتدال پیدا کیا جائے گا۔

پہل اور بڑے اقدامات بھارت کو ہی کرنے ہوں گے۔ پندرہ سال قبل بھارت نے shining india جیسے پلانٹڈ نعرے ، انگلش زبان ، فری سیکس، کلب، کیسینو اور بار کلچر کی بدولت مغربی شہریوں کو اپنی طرف ر اغب کیا۔ موڈیز اور اینڈریو ایند پورز جیسے کاروباری ریٹنگز طے کرنے والے اداروں نے بھی اسے سرمایہ کاروں کی جنت قرار دیا۔

بیرون ملک پذیرائی کے لئے بھارتی میڈیا نے بھی بدصورت سماج کو افسانوی انداز میں پیش کیا، لیکن یہ تمام اقدامات اس وقت اپنی اثر انگیزی کھونے لگے،جب موجودہ بھارتی قیادت نے امریکن اشاروں پر خطے کو جنگی جنون میں جھونکنے کی پالیسی اپنا لی۔

پاکستان کے ساتھ چپقلش بھارت کو مہنگی پڑ ے گی۔بھارتی ایجنسیاں اور سیاستدان طے کر چکے ہیں خطے میں جنگ کی آگ بھڑکائی جائے۔ بہانے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔

کبھی کشمیر میں مداخلت، کبھی بھارت کی سرحدوں کے اندر کارروائیوں کا شوشہ اور کبھی افغانستان میں حصہ نہ ملنے کاغصہ۔ اب نہ تو امریکہ کو سمجھ آرہی ہے اور نہ ہی بھارت کو،دونوں پاکستان کو پریشان بھی کرنا چاہتے ہیں، لیکن راہ بھی نظر نہیں آرہی۔ دونوں کو معلوم ہے کسی بھی قسم کے ایڈونچر کا بھرپور جواب ملے گا۔

پاکستان نے امریکہ کی خاطر بے پناہ نقصان کیا، پاکستان نے امن کی امید پر بھارت کو توقع سے زیادہ آسانی فراہم کی، لیکن دوستی پر مبنی ان تمام اقدامات کانفی میں جواب دیا گیا۔پاکستان نے جس پستی میں جانا تھا جا چکا، اب اس سے زیادہ ابتری ہو نہیں سکتی۔ پاکستان کے پاس ہارنے کو کچھ بھی نہیں، جبکہ بھارت کے پاس سب کچھ ہے۔

پاکستان نے کشمیر پالیسی کو ہالٹ کر رکھا ہے، پاکستان نے بھارت کے سترہ صوبوں میں چلنے والی علیحدگی کی تحریکوں سے صرف نظر کر رکھا ہے، اگر بھارت نے کسی قسم کی جارحیت کا ارادہ کر رکھا ہے تو پھر محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہو جائے گا۔

جنگی حالات میں پاکستان تو دین کے نام پر مزید مضبوط ہو جائے گا، لیکن بھارتی صوبے علیحدگی کی ان تحریکوں کا مرکز بن جائیں گے، جن کا اختتام بھارت کے ٹوٹنے کی صورت برآمد ہو گا۔ پھر کہاں کی شائننگ، کہاں کی روشن خیالی اور کہاں کے سرمایہ دار۔ایک ٹوٹا ہوا بھارت دُنیا میں عظیم انسانی المیے کو جنم دے گا۔

مزید :

رائے -کالم -