مدینہ اکنامکس۔ وقت کی ضرورت 

مدینہ اکنامکس۔ وقت کی ضرورت 
مدینہ اکنامکس۔ وقت کی ضرورت 

  

معیشت کسی بھی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اکیسویں صدی میں دنیا ایک گلوبل ولیج بن کر رہ گئی ہے۔ بین الاقوامی معاشی اداروں اور بینکوں نے غریب ملکوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ اور مستقبل قریب میں ان شکنجوں سے نکلنا ممکن نظر نہیں آتا۔ لیکن پاکستان اور عالم اسلام کے لئے  اسلامی معیشت کے نظام میں ایک امید کی کرن نظر آتی ہے۔محمد منیر احمد نے 2020 کے اوائل میں " ساتویں صدی۔مدینہ اکنامکس۔ انسانیت کا پہلا معاشی نظام "  نامی کتاب انگریزی میں  لکھ کر ایک عظیم کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ کرونا کی پابندیوں اور دیگر ذاتی مصروفیات کے باعث  منیر صاحب سے پہلے ملاقات نہ ہو سکی۔ تاہم پچھلے ہفتے ان سے ملاقات بھی ہوئی۔ انہوں نے اس کتاب کے خدو خال بھی بتائے اور کتاب کی کاپی بھی  عنایت کی۔ محمد منیر احمد بنیادی طور پر ایک بینکر ہیں اور اور انہوں نے سٹیٹ بینک آف پاکستان میں تیس سال سے زائد عرصہ خدمات سر انجام دی ہیں۔کتاب میں معیشت کے پہیے کو تاریخ اور وقت کے ساتھ گھمایا گیا ہے۔

کبھی نیولیتھک ریولیشن کی بات ہوتی ہے تو کبھی ایڈم سمتھ کی  ویلتھ آف نیشنز کی۔ کبھی کارل مارکس کے کمیونزم نظام کا ذکر ملتا ہے تو کبھی  مالیاتی بینکوں  کے جال کا ذکر ملتا ہے۔ کبھی تھامس اکوانس  کے نظریات کی بات ہوتی ہے تو کبھی مکہ کی تجارت کی۔ کبھی سرپلس ویلیو کی بات ہوتی ہے تو کبھی حضرت عمرؓ جیسے خادم حکمران کی۔ جو کہتے تھے کہ " اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو عمر اس کا جواب دہ ہوگا"۔پہلے زمانوں میں تجارت بارٹر سسٹم کے تحت ہوتی تھی اور ایک جنس کے بدلے دوسری چیز خریدی جاتی تھی۔ خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان تاجر بعد میں داخل ہوا، اور پھر منڈی کا نظام رائج ہوا۔پیپر کرنسی اور سود کے نظام نے خرید وفروخت کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ اور غریب لوگ قرض کے بوجھ تلے دبتے  چلے گئے۔یونانی تہذیب میں معاشرے کے ہر طبقے کا علیحدہ بت ہوتا تھا۔ اتفاق سے لٹیروں، تاجروں اور کھلاڑیو ں کا ایک بت  " ہرمن" ہوتا تھا۔ اسلام،عیسائیت اور یہودیت تینوں مذاہب میں معیشت کے اہم مسائل پر بات کرتے ہیں۔

اور سود کو منع قرار دیتے ہیں۔کسی بھی معاشی نظام کے پانچ اہم عناصر ہوتے ہیں۔ اول نظریہ جیسا کہ حق ملکیت، فری مارکیٹ، ٹیم ورک وغیرہ، دوم اجناس کی اقسام، مقدار اور صارفین، سوم۔ رقم  یا کرنسی، چہارم معاشی نظام ملکی نظام کے ماتحت ہوتا ہے۔پنجم۔معاشی نظام ترقی،بہبود اور خوشحالی کا ضامن ہوتا ہے۔اسلام کے اقتصادی نظام میں مضاربہ کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔عام قاری کی آسانی کے لئے "مضاربت ایک قسم کی تجارتی شراکت ہے جس میں ایک جانب سے سرمایہ اور دوسری جانب سے محنت  شامل ہو، اس معاہدے کے تحت اسے کاروبار کے نفع میں ایک متعین نسبت سے حصہ ملے گا نیز سرمایہ فراہم کرنے والے اور محنت کرنے والے متعدد افراد ہوسکتے ہیں۔شرعی اصطلاح میں مضاربت اس معاہدے کو کہتے ہیں جس میں ایک فریق کی جانب سے مال ہو اور دوسرے کی جانب سے عمل ہو اور نفع میں دونوں شریک ہوں "۔اسلام مشتری ہوشیار باش کے ساتھ ساتھ  فروخت کنندہ کو بھی محتاط رہنے  اور اصول پر عمل کرنے کا حکم دیتا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا معمول تھا کہ آپ بازاروں کا چکر لگاتے، ناپ تول کے پیمانوں کی تحقیق کرتے اور تاجروں کے معاملات کو بغور  دیکھتے اور پرکھتے تھے۔ ایک تاجر کے گندم کے ڈھیر کے پاس سے گزرے، اس میں ہاتھ ڈالا تو اندر سے وہ گیلی نکلی۔ آپ نے پوچھا یہ کیا ہے؟اس نے کہا بارش کی وجہ سے ایسا ہوگیا۔آپ نے فرمایا: گیلی گندم اوپر رکھو تاکہ خریدار کو پتا چلے۔ پھر فرمایا: یاد رکھو! جس نے دھوکا اور فریب سے کام لیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔بینڈکٹ کوہلر  نے اپنی کتاب "Early Islam and Birth of Capitalism" میں حضرت محمدؐ کو فری مارکیٹ کا پہلا اکانومسٹ قرار دیا ہے۔اسلام نے خریداروں کو جو حقوق 1400 سال پہلے دیے ہیں۔ مغربی ممالک وہ حقوق اکیسویں صدی میں دے رہے ہیں۔موناپلی اور کارٹل کے خاتمے کے لئے  اسلام " مارکیٹ محتسب" کا نظام وضح کر تا ہے۔ اسلام کا وقف کا نظام بھی بہت اہمیت کا  حامل ہے1260 میں میرٹن  کالج آکسفورڈ (انگلینڈ) کا قیام وقف کے اصول کے تحت عمل میں آیا تھااور اس ادارے کی  وقف کی دستاویزتقدیم اسلامی مدرسے کی طرز پر تیا ر کی گئیں۔اس طرح معاشی امور کے کئی الفاظ بھی مغربی ممالک میں اپنائے گئے ہیں.۔اسلامی دینار خلیفہ مالک بن مروان کے دور میں رائج ہوا جوکہ جس کا نام رومن سکے دینارس سے لیا گیا تھا۔

اسلامی ممالک میں بغداد میں جمع کروائی رقم کا چیک قرطبہ سے کیش کروایا جا سکتا تھا۔مصنف نے اپنی کتاب میں مدینہ اکنامکس کے اہم  اصول بیان کیے ہیں، جن میں منڈی کا قیام، زکوٰۃ،ٹیکس،سود کا خاتمہ، حلال آمدنی اور عوامی فلاحی معیشت شامل ہیں۔ یہ کتاب ایوان علم و فن لاہور سے دستیاب ہے۔پاکستان اس وقت بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور اپنے بینکوں سے بہت زیادہ قرض لے چکاہے۔ اور آئے دن کی مہنگائی نے غریب آدمی کا جینا اور بچوں کا پیٹ پالنا مشکل کر دیاہے۔ پیٹرول  اور بجلی کی قیمتوں کے اضافے سے دوسری تمام اشیائے ضرورت مہنگی ہو جاتی ہیں۔ دوسری طرف ملکی اشرافیہ کے بیرون ممالک میں مختلف کمپنیوں  اور بینکوں میں اکاؤنٹ  ظاہر ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بے شمار مقدمات  عدالتوں میں چل رہے ہیں۔ وزارت خزانہ اور حکومت کے متعلقہ اداروں کو چاہئے کہ اس کتاب  کے ماڈل کو اچھی طرح سٹڈی کریں اور اپنی سفارشات حکومت کو پیش کریں۔تاکہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی فلاحی مملکت بنایا جا سکے۔

مزید :

رائے -کالم -