سمگلنگ اور انڈرانوائسنگ کے خاتمے میں سیاسی عزم کا کرداراہم ہے

سمگلنگ اور انڈرانوائسنگ کے خاتمے میں سیاسی عزم کا کرداراہم ہے

لاہور (کامرس رپورٹر) چیف کلکٹر کسٹمز لطف اللہ ورک نے کہا ہے کہ سمگلنگ اور انڈرانوائسنگ کے خاتمے میں انتظامی ایکشن، مالیاتی اقدامات اور سب سے بڑھ کر سیاسی عزم بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ وہ لاہور چیمبر کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ لاہور چیمبر کے صدر انجینئر سہیل لاشاری، نائب صدر کاشف انور، سابق صدور افتخار علی ملک، میاں انجم نثار، سابق نائب صدور آفتاب احمد وہرہ، شفقت سعید پراچہ، ایگزیکٹو کمیٹی اراکین محمد ہارون اروڑہ، خواجہ خاور رشید، ناصر حمید، طلحہ طیب بٹ، محمد اکرم، محمد افضل چودھری، محمد اسلم اور میاں زاہد جاوید نے اجلاس سے خطاب کیا۔ چیف کلکٹر کسٹمز نے کہا کہ سمگلنگ اور انڈر انوائسنگ کا ناسور نہ صرف قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ ایماندار تاجر بھی متاثر ہورہے ہیں لہذا اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ لطف اللہ ورک نے کہا کہ کسٹمز ڈیپارٹمنٹ نجی شعبے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے درمیان پل کا کردار ادااور تاجر برادری کے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔ ویلیوایشن کے بارے میں شکایات پر انہوں نے کہا کہ غلط ویلیوایشن سے نمٹنے کا بہترین ذریعہ نظر ثانی کی سہولت ہے لہذا لاہور چیمبر اپنی ویلیوایشن کمیٹی کو فعال کرے ۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں ڈیوٹی کی منظم چوری یا مس ڈیکلریشن نہیں پائی گئی جبکہ لاہور سے ریونیو میں بھی اٹھائیس فیصد اضافہ ہوا ہے جس کا سہرا نجی شعبے کے سر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کو ہمیشہ کاروباری برادری کی فیڈ بیک کی ضرورت رہتی ہے لہذا لاہور چیمبر کسٹمز حکام کے ساتھ روابط مزید مستحکم کرے۔ لاہور ریلوے سٹیشن پر ٹی ٹین سیکشن کی ناگفتہ بہ حالت اور این ایل سی کے متعلق شکایات پر لطف اللہ ورک نے کہا کہ وہ ان معاملات کو خود دیکھیں اور حل کریں گے۔ انہوں نے ڈی ٹی آر ای کے بارے میں ضروری ہدایات جاری کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ لاہور چیمبر کے صدر انجینئر سہیل لاشاری اور نائب صدر کاشف انور نے اپنے خطاب کے دوران چیف کلکٹر کسٹمز پر زور دیا کہ اشیاءکی ویلیوایشن کرتے ہوئے ملک بھر کے تاجروں کو اعتماد میں لیا جائے کیونکہ مصنوعات اور خام مال کی زیادہ ویلیو ایشن سے نہ صرف کاروباری لاگت بڑھ رہی ہے بلکہ بدعنوانی اور سملنگ کی حوصلہ افزائی بھی ہورہی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ کسٹمز انٹیلی جنس حکام کی کاروباری معاملات میں بلاجواز مداخلت نہ صرف نجی شعبے کے لیے مسائل پیدا کررہی ہے بلکہ محاصل پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیںلہذا اس کی روک تھام کے لیے کوئی خصوصی طریقہ کار وضع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری مفادات کے منافی کوئی بھی قدم نہ اٹھایا جائے۔ انہوں کسٹمز کلکٹر پر زور دیا کہ فوری طور پر کسٹمز کلکٹر کی سربراہی میں وزارت تجارت کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی کی میٹنگ بلائی جائے جس میں این ایل سی، رینجرز، نیشنل بینک آف پاکستان، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان اور لاہور چیمبر کے نامزد نمائندگان شامل ہوں تاکہ واہگہ بارڈر پر کام کرنے کی صورتحال بہتر بنائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تب سے اب تک ایک بھی میٹنگ منعقد نہیں ہوسکی۔ لاہور چیمبر کے نائب صدر کاشف انور نے کہا کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو اپنے ممبران سے شکایات موصول ہوئی ہیں کہ ایکسپورٹ ہونے والی کنسائنمنٹس کو فارورڈنگ کے عمل میں نقصان پہنچتا ہے جبکہ امپورٹرز بھی کنسائمنٹ کی مقدار کم ہونے کی شکایت کرتے ہیں لہذا اس معاملے کی گہرائی سے چھان بین کی جائے۔

مزید : کامرس