پرانی دشمنی مختلف شہروں میں خاتون سمیت 8افراد قتل، ملزموں کی گرفتاریاں

    پرانی دشمنی مختلف شہروں میں خاتون سمیت 8افراد قتل، ملزموں کی گرفتاریاں

  

ملتان، او چشریف، بہاولپور ، ہارون آباد، وہوا، جامپور، کوٹ ادو،دائرہ دین پناہ، مظفرگڑھ (نیوز رپورٹر، سٹی رپورٹر، ڈسٹرکٹ رپورٹر، نمائند گان پاکستان، نامہ نگار) تھانہ نیوملتان کے علاقے نند کے داماد نے غیرت کے نام پر فائرنگ کرکے 20سالہ نوجوان کو قتل کردیا تفصیل کے مطابق عامر نامی شخص کو شبہ تھا کہ اس کی بیوی زینت کا چکر رشتہ دارباغ حسین نے رہائشی برکت علی اور سمیجہ آباد بیس فٹی ارسلان کے ساتھ تھا (بقیہ نمبر7صفحہ6پر)

جن کے ساتھ اس نے تعلقات قائم کررکھے تھے، گزشتہ رات عامر نے دونوں نوجوانوں کو شک کی بنا پر فائرنگ کرکے شدید زخمی کردیا اور موقع سے فرار ہوگئے،واقع کی اطلاع پر مقامی پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر ریسکیو1122کی مدد سے طبی امداد کے لئے نشتر ہسپتال لایا گیا برکت علی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جاملا جبکہ ارسلان احمد کا علاج جاری ہے،ڈاکٹرز کے مطابق ارسلان کی حالت غیر بتائی جاتی جس تین فائر پیٹ،دائیں بازو اور دائیں ٹانگ لگے،ارسلان کی والدہ کے مطابق عامر میری نند کا داماد ہے جس نے میرے بیٹے کو ناحق قتل کیا،پولیس نے موقع سے چلیدہ خول قبضہ میں لیکر ملزم کی گرفتاری کے لئے کارروائی شروع کردی ہے۔ اوچ شریف سے قومی شاہراہ پر 3موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے آٹو رکشہ ڈرائیور جاں بحق ہوگیا اوچ شریف میں قومی شاہراہ پر موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے آٹو رکشہ ڈرائیور جاں بحق ہو گیا ہے, نواحی علاقہ موضع غلاموں کھاکھی کا رہائشی محمد صادق اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے کراچی میں آٹو رکشہ چلاتا تھا, کورونا وائرس وباء کے باعث بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بند ہونے کی وجہ سے آٹو رکشہ پر گھر آریا تھا جب نصف رات کوطاہر والی کے قریب پہنچا تو تین نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے روکا نہ رکنے پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں آٹو رکشہ ڈرائیور جاں بحق ہو گیا اطلاع پر مقامی پولیس چنی گوٹھ نے لاش قبضہ میں لے کر مقدمہ درج کر کے کاروائی شروع کر دی ہے. ملزمان نے فائرنگ کر کے نوجوان کی جان لے لی چاند رات کی شام 7:40بجے کے قریب محلہ فیض آباد زون یونٹ کا رہائشی وقاص احمد اپنے چھوٹے بھائی بلال احمد دوستوں خرم شہزاد‘ سلمان سعید کے ہمراہ ون یونٹ کالونی کے گیٹ نمبر 2پر کھڑا تھا اسی دوران غلام مدنی بلوچ جو بلال احمد کا دوست تھا بھاگتا ہوا ان کے پاس آیا اور بتایا کہ شعیب چودھری‘ رانا مزمل‘ ظاہری بلوچ اور دو نا معلوم ون یونٹ کالونی کے اندر موجود ہیں۔ شعیب چودھری سے 6500روپے لینے ہیں جو لینے گیا تو ملزمان نے مجھے تھپڑ مارے ہیں اسی دوران تمام ملزمان دو موٹر سائیکلوں پر ون یونٹ کالونی کے گیٹ نمبر 2پر آ گئے محمد بلال نے ملزمان سے کہا کہ تم غلام مدنی بلوچ کے پیچھے کیوں لگے ہوئے ہو تو ملزمان طیش میں آ گئے اور کہنے لگے تم کالونی کے چودھری لگے ہو تمہاری چودھراہٹ نکال دیتے ہیں اور ملزمان شعیب چودھری‘ ظاہری بلوچ‘ رانا مزمل نے پسٹل نکال کر وقاص احمد وغیرہ کو جان سے مار دینے کی خاطر سیدھے فائر شروع کر دئیے۔ ظاہری بلوچ کے پسٹل سے گولی بلال احمد کے پیٹ میں لگی جو شدید زخمی ہو کر سڑک پر گر گیا تو ملزمان اسلحہ لہراتے ہوئے موقع سے فرار ہو گئے۔ محمد بلال کو ریسکیو 1122کے ذریعے بی وی ایچ ایمر جنسی لے جایا گیا لیکن وہ خون زیادہ ضائع ہو جانے کی وجہ سے آپریشن تھیٹر میں جان کی بازی ہار گیا تھانہ بغداد الجدید پولیس نے محمد بلال کے پوسٹمارٹم کے بعد ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ تو درج کر لیا ہے لیکن تین دن گزر جانے کے باوجود ابھی تک کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے۔ ایس ایچ او تھانہ بغداد الجدید اعظم کلو کا کہنا ہے کہ ملزمان گھروں کو تالے لگا کر بھاگ گئے ہیں جنہیں جلد گرفتار کر لیا جائیگا۔ہارون آباد کتے کے بھونکنے پر جھگڑا ہو گیا، فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق جبکہ چار زخمی ہو گئے، پولیس نے دو ملزمان کو حراست میں لیکر مقدمہ درج کرلیا، مدعی مقدمہ محمد اشرف سکنہ 172سیون آر کے مطابق وہ اپنے بیٹوں عمران، عرفان اور بھتیجوں یاسر علی اور شوکت علی کے ہمراہ اپنے رقبہ واقعہ چک 172سیون آر پر موجود تھے کہ اسی دوران ارشاد، کرامت علی، اشرف، محمد شہباز، مانو، بگواور دو نامعلوم افراد دیہہ مسلح ہوکر باہم صلاح مشورہ ہو کر آئے اور ہمیں گالیاں دینا لگے جواباً ہم نے بھی گالیاں دیں جس پر محمد ارشاد، کرامت علی اور اشرف نے فائرنگ شروع کردی، جس کے نتیجے میں عمران، عرفان اور شوکت علی شدید زخمی ہو گئے جبکہ محمد شہباز نے کلہاڑی سے یاسر علی مدعی مقدمہ محمد اشرف کو شدید زخمی کردیا، وجہ عناد یہ بتائی جاتی ہے کہ کچھ دن قبل کتا بھوکنے پر ملزمان کیساتھ تلخ کلامی ہوئی تھی جو شدت اختیار کر گئی، زخمی ہونیوالوں کو تشویشناک حالت کے پیش نظر وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور منتقل کیا گیا جہاں پر عمران زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔ پولیس نے واقعہ پر نوٹس لیتے ہوئے دو ملزمان کو حراست میں لیکر مقدمہ درج کرلیا اور مزید تفتیش شروع کردی ہے۔وہوا کے نواحی قصبہ ڈگروالی میں قتل کی لرزہ خیز واردات ہوئی ہے، قاتلوں نے سر میں کلہاڑیوں کے وار کرکے 55 سالہ خاتون کو موت کے گھاٹ اتار کر نعش کھیتوں میں پھینک دی تفصیل کے مطابق وہوا کے محلہ سنیاسی کی رہائشی 55 سالہ خاتون حسینہ بی بی جس کی بیٹی نواحی قصبہ ڈگروالی میں بیاہی ہوئی کو ملنے کے لیے گئی ہوئی تھی کہ اس کی سر میں کلہاڑیاں لگی ہوئی نعش کھیتوں سے ملی راہ گیروں نے لاش دیکھ کر پولیس تھانہ وہوا کو دی جس پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاش کو قبضہ میں لے لیا لاش کی شناخت مقتولہ کے بیٹوں محمد سلیمان اور محمد عثمان نے کی لاش کو وہوا ہسپتال منتقل کردی گئی ہے پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔راجن پو رکے نواحی علاقہ کوٹلہ اندرون میں چار سال قبل قتل کا بدلہ لینے کے لیے عید کے روز نماز عید پڑھ کرکے جانے والے پچاس سالہ نوجوان حضور بخش نایچ پر گوپانگ برادری کے نوجوانوں نے فائر نگ کرکے قتل کر دیا۔ پولیس نے لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالہ کر دی۔ چار سال قبل کاروکاری کے الزام نے ارشد ولد محمد اسلم کو قتل کر دیا تھا۔ عید کے روز حضور بخش نائچ عید نماز اداء کرکے گھر جارہا تھا کہ پیچھے سے دو موٹر سایکل پر سوار گوپانگ اقوام کے نوجوانوں نے قتل کا بدلہ لینے کی ربجش پر نے اندھا دھند فائرنگ کرکے ابدی نیند سلا دیا۔ پولیس نے لاش پوسٹ مارٹم کرانے کے بعد ورثاء کے حوالہ کر دی۔ اور چھ ملزمان فلک شیر۔ احمد نواز۔ محمد نواز۔ جاوید احمد۔ یونس خان۔ میوہ کے خلاف زیر فعہ تین سو کے تحت گانمن ولد اللہ یار نایچ کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے مزید کاروائی شروع کر دی تاہم اڑتالیس گھنٹے گزرنے کے بعد بھی ملزمان پولیس کی گرفت میں نہ آسکے۔ دائرہ دین پناہ کی نواحی بستی سمندری (گفتارآباد) کے رہائشی عبدالستارخان کلاچی کا اکلوتا6 سالہ بیٹاعبدالہادی جوکہ عیدکے دوسرے روز گھرکے باہرصبح سویرے کھیل رہاتھاکہ اچانک غائنب ہوگیاجس کی تلاش شروع کی گئی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او دائرہ دین پناہ عصمت عباس پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے تاہم 7گھنٹے بعد عبدالہادی کی نعش اپنے حقیقی چچا عبدالرشید کے گھر میں موجود بھوسہ کے پلہ سے برآمد کرلی گئی جسے خود ایس ایچ او عصمت عباس اپنی گاڑی پہ آرایچ سی دائرہ دین پناہ لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے موت کی تصدیق کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او مظفرگڑھ سید ندیم شاہ کے علاوہ ایس ڈی پی او کوٹ ادو سید اعجاز بخاری کے علاوہ فرانزک ٹیم بھی موقع پر پہنچ گئی اورجائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کے ساتھ ساتھ نمونے بھی حاصل کیئے ابتدائی رپورٹ کے مطابق 6سالہ عبدالہادی کو قتل کیا گیا جس کے جسم کے علاوہ دائیں ٹانگ اورگردن پربھی تشددکے نشانات تھے رات گئے پوسٹ مارٹم کے بعد نعش پولیس نے ورثاکے حوالے کردی جس کی نمازجنازہ رات گیارہ بجے اداکرنے کے بعد مقامی قبرستان میاں جیون میں سپردخاک کردیا گیا۔پولیس نے مقتول کے چچا عبدالکریم خان ایڈوکیٹ کی مدعیت میں نامعلوم افرادکے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیاہے اور تفتیش جاری ہے۔پولیس دائرہ دین پناہ نے متعددافراد سے تفتیش کے علاوہ چندایک کو حراست میں لے لیا ہے ورثاکے مطابق بچے کو اغواکے بعد گلادباکر قتل کیا گیا اوربعدازاں بھوسے کے پلہ میں پھینک دیا۔ایس ایچ او دائرہ دین پناہ عصمت عباس نے صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ جلدہی قاتلوں کوگرفتارکرلیں گے جن کی گرفتاری کیلئے ڈی پی او مظفرگڑھ نے ایس ڈی پی اوکوٹ ادو کی قیادت میں ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔معصوم بچے کے اغواکے بعد قتل سے علاقہ میں خوف وہراس پایاجاتا ہے۔بھتیجوں نے کسی اور ڈنڈوں سے وار کر کے سگے چچا کو ابدی نیند سلا دیا‘ تفصیل کے مطابق 12بی سی کی رہائشی فرزانہ بی بی زوجہ اعجاز بابر نے پولیس کو درخواست دی کہ میرے خاوند اعجاز بابر کے بھتیجوں کا مران ولد عبدالرزاق‘ محسن ولد محمد نواز‘ نوید ولد محمد سعید اور محمد عاشق ولد عبدالستار کو شک تھا کہ میرا خاوند ان پر تعویز گنڈے کرتا ہے جس کی وجہ سے گھروں میں اکثر جھگڑا رہتا ہے تعویزوں کی وجہ سے ملزم محسن کا والد فالج کی وجہ سے اپاہج ہو گیا ہے اسی رنج پر گذشتہ رات ملزمان کامران‘ محسن‘ نوید‘ محمد عاشق کسی‘ ڈنڈوں سے وار کر کے میرے خاوند اعجاز بابر کو قتل کر دیا اور موقع سے دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہو گئے‘ واردات کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی سٹی شفقت ندیم عطاء تھانہ بغداد الجدید پولیس کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے جنہوں نے مقتول کی نعش کو قبضہ میں لے کر پوسٹمارٹم کے لیے بی وی ایچ پہنچا دیا موقع پر موجود محلے داروں نے میڈیا کو بتایا کہ مقتول نشہ کی حالت میں اکثر اپنے رشتہ داروں سے لڑتا رہتا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے اسے قتل کیا ہے۔ تھانہ بغداد پولیس نے فرزانہ بی بی کی درخواست پر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -